بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / کاروبار کی اخلاقیات

کاروبار کی اخلاقیات


آج کل میری شامت آئی ہوئی ہے یعنی گھر میں مرمت کا کام شروع کیا ہوا ہے۔ چند ایک جگہوں پر شیشے لگانے کی ضرورت پڑی تو میں نے بازار سے ریٹ معلوم کیا اور ایک مناسب کاریگر کوکام دے دیا اس نے آخر میں بل پیش کیا اور میں نے ناپے بغیر اسے ادائیگی کردی۔ ایک ہفتے بعد کچھ اور اسی قسم کے کام کی ضرورت پڑی تو میں نے پھر اسے زحمت دی۔ پرسوں میں آپریشن تھیٹر سے بہت ہی تھکا ہارا گھر پہنچا۔ کپڑے بدلنے کے بعد چائے کی ایک پیالی لی اور ابھی آرام سے بیٹھا بھی نہ پایا تھا کہ ایک مہمان آپہنچے۔ میں ان کی خاطر مدارت کرنے لگا لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ کاریگر ہاتھ میں بل لئے اِدھر اُدھر گھوم رہا ہے۔میں نے دور سے دیکھا تو کاغذ پر بارہ ہزار کا بل بنا ہوا تھا۔ خیر میں نے اسے اندر بلایا اور پوچھا کہ کتنی رقم دوں۔ کہنے لگا کہ صاحب ہوتے تو کچھ اوپر چودہ ہزار ہیں لیکن آپ صرف چودہ ہزاردے دیں۔ میں نے چیک بک اٹھائی اور چیک لکھنے لگا۔ تھکاوٹ کے مارے بس چاہ رہا تھا کہ وہ گھر سے نکلے اور میں اپنی چائے پی سکوں۔ جب میں نے چیک لکھا تو ویسے ہی خیال آیا کہ یہ بل تھوڑا زیادہ لگتا ہے۔ چنانچہ میں نے ریٹ پوچھا۔ اسکے بعد میں نے کاغذ قلم لیکر شیشوں کے سائز لکھنے شروع کئے۔میں نے اسکے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ گڑ بڑ ہے۔

میں نے فیتہ اُٹھایا اور شیشے ناپنے شروع کردےئے۔ اس پر وہ معافی مانگنے لگاکہ مزدور نے غلطی سے زیادہ حساب لکھ دیا ہے۔ میں بے یقینی کی حالت میں بالکل ساکت ہوگیا اور اُسے گھورنے لگا۔ آخر میں نے ہار مان کر سرجھکا دیا ۔ میں نے اسے فیتہ‘ کاغذ اور پین دیا کہ جاکر دوبارہ ناپ کر آؤ۔ اسکے بعد اپنے ڈرائیور کو دوبارہ سے اسکی تصدیق کرنے کے بعد حساب لگایا تو بل آدھا ہوچکا تھا۔ میں نے اُس کاریگر کو کہا کہ صرف ایک دفعہ کی بے ایمانی سے کس طرح سے اسکا سارا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ اب میں نے عمر بھر اس پر کبھی اعتماد نہیں کرنا۔ کبھی کسی کو اسکی سفارش نہیں کرنی اور اگرچہ چند ہزارروپے میرے لئے کچھ زیادہ نقصان کی بات نہیں تھی لیکن اُس نے میرے دوستوں سے لاکھوں روپے کمانے کا ایک موقع کھودیا۔اس وقت پورے ملک میں جگہ جگہ سپر سٹور کھل رہے ہیں اور ہرجگہ کمپیوٹر پر بل بناکر گاہک ادائیگی کرتا ہے۔ قیمت پر کوئی لے دے نہیں ہوتی۔ ہر چیز پر قیمت لکھی ہوتی ہے چنانچہ اپنی جیب دیکھ کر ہی چیز اُٹھائی جاتی ہے۔ شروع شروع میں جب ایک دو ہی اس قسم کے سٹور کسی شہر میں ہوتے تھے تو وہ اپنے منافع کی شرح بہت زیادہ رکھتے تھے تاہم جب مقابلہ بڑھا تو لوگوں نے بھی قیمت اور معیار کا موازنہ شروع کیا۔ تاہم اسکے ساتھ ساتھ عملے کا رویہ، ان کی واپسی کی پالیسی اور مال کا معیار بھی کسی سٹور کی کامیابی کی ضمانت بنتا ہے۔

دنیا میں اگر کمائی کا سب سے اچھا ذریعہ ہے تو وہ کاروبار ہے۔ سروس اور تنخواہ سے کوئی شخص امیر نہیں ہوا۔ ڈاکٹروں کی کمائی زیادہ سمجھی جاتی ہے لیکن دنیا کے دس امیر ترین ڈاکٹر بھی ڈالروں کے حساب سے ارب پتی نہیں بنے ‘جو ملٹی ملینےئر ہیں وہ دراصل فارما سیوٹیکل کمپنیوں کے مالک ہیں‘ اصلی ڈاکٹروں میں سب سے امیر محض تین چارسوملین ڈالر کی وقعت رکھتا ہے اور وہ ہالی ووڈ کے پلاسٹک سرجن اور سپورٹس میڈیسن کے ماہر ہیں لیکن کاروبار کے چند اصول ہیں جو کاروبارکو وسعت بخشتے ہیں اور کمائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ دنیا کا سب سے پہلا سُپر سٹور پیرس میں اٹھارویں صدی میں قائم ہوا۔ اسکے مالک کے تین اُصول تھے: ۱۔ گاہک ہمیشہ ٹھیک کہتا ہے۔ ۲معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں اور ۳۔کم سے کم منافع تاکہ زیادہ سے زیادہ بِکری ہو۔ آج بھی دنیا کے بڑے بڑے سٹور جیسے وال مارٹ‘ ٹیسکو اور کاسٹکو یہی اصول اپنائے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے مغربی دنیا کے تمام چھوٹے چھوٹے سٹوروں کو کھاچکے ہیں۔ ان میں سے ہر سٹور نے اب بڑے برانڈز کے مقابلے میں اپنے پراڈکٹس بھی لانچ کردےئے ہیں جو کہ نہایت کم قیمت پر دستیاب ہیں اور معیار میں کسی بھی طور مشہور برانڈز سے کم نہیں۔

ہمار ا مذہب کاروبار کے بارے میں بہت سخت ہے۔ حضور ؐ نے قرآن کی ہدایت کو عملی طور پر نبوت سے پہلے ہی دکھادیا تھا۔ کاروبار میں خیانت ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں گڑبڑ یہ سب قرآن و سنت میں صراحت سے منع ہیں۔ مسلمان تاجر اپنے وقت کے کامیاب ترین بزنس مین تھے۔ انہی کی وجہ سے اسلام سب سے زیادہ پھیلا۔ ان مسلمان تاجروں نے عملی طور پر اسلام کی تبلیغ کی۔ جنوب مشرقی ایشیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے جن میں بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن وغیرہ شامل ہیں۔ ان علاقوں میں مسلمان تجارت کی غرض سے گئے تھے۔ صرف بزنس کا چکر تھا۔ مسلمان تاجر دیانت کے پیکر تھے۔ گاہک کو بتادیتے تھے کہ اس مال میں یہ خرابی ہے۔ گاہک حیران رہ جاتے تھے کہ ایک دکاندار کیسے اپنی اشیاء کا نقص بتا سکتا ہے۔ آگے سے وہ بتاتا کہ چونکہ وہ مسلمان ہے اس لئے خیانت نہیں کرسکتا۔ یہ سن کر کون اسلام کے بارے میں نہیں جاننا چاہے گا‘ اگر ایک دکاندار آپکو بتائے کہ یہ مال اگلے دکاندار سے لے لیں اس لئے کہ اسکی اچھی خاصی بِکری ہوچکی ہے لیکن اسکے ہمسایہ دکاندار کی نہیں ہوئی۔ اور پوچھنے پر بتائے کہ یہ میرا مسلمان بھائی ہے، تو کون اس اخوت کو قبول نہیں کرے گا۔

پاکستانی پراڈکٹس کی ابھی بھی دنیا میں بہت قدر ہے۔ مثال کے طور پر دنیا میں استعمال ہونے والے سرجیکل اوزار کا ستر فیصد پاکستان میں بنتا ہے۔ دنیا کا بہترین ڈینم پاکستان میں بنتا ہے۔ لیکن ہمارے اپنے رویّوں سے ہم اپنے پیروں پر کلہاڑی ماررہے ہیں۔ چند ایک تاجر دو نمبر کا مال فراہم کرکے دیانتدار بزنس مینوں کیلئے بھی مارکیٹ خراب کررہے ہیں۔ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ اس قسم کے دکاندار اور تاجر کبھی بھی ایک کاروبار زیادہ وقت تک نہیں چلا سکتے اور نہ ہی کبھی اپنے لالچ سے نکل سکتے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی دیکھئے کہ اس وقت پاکستان کی آبادی دنیا میں پانچویں بڑی آبادی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور اس میں کاروبار کیلئے بے شمار مواقع ہیں۔ خدا کے فضل سے ہماری مڈل کلاس بھی بھارت کے مقابلے میں زیادہ سکت رکھتی ہے۔ بس ایک صداقت، دیانت اور خلوص کی ضرورت ہے۔ لالچ سے بچنے کی ضرورت ہے۔ رسول کریمؐنے تاجروں پر بڑی تاکید کی ہے اور اسکے اوپر ہدایت کی کہ چونکہ کاروبار میں کبھی کبھی بلاارادہ زبان سے جھوٹ نکل جاتا ہے اس لئے صدقہ دیتے رہیں تاکہ اس کی معافی ہو۔ کاروبار میں کم منافع ہمیشہ گاہکوں میں اضافہ کرتا ہے، جس کی وجہ سے بزنس میں وسعت آتی ہے۔ اسے سونے کا انڈہ دینے والی مرغی سمجھ لیں لیکن ذبح کرنے سے احتراز کریں۔