بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / خوش آئند پیش رفت

خوش آئند پیش رفت


یہ امر خوش آئند ہے کہ دیر ہی سے سہی بالآخر پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کا آغاز ہو گیاہے، محکمہ ماحولیات خیبر پختونخوا کی جانب سے پچھلے چند روز کے دوران کی جانے والی بعض کاروائیاں مسئلے کے حل کی جانب پیش رفت کا عندیہ دے رہی ہیں‘حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ میں واقع پلاسٹک شاپنگ بیگز تیار کرنے والی پانچ فیکٹریوں کا سیل کیا جانا، پھر پشاور کے مختلف علاقوں میں پلاسٹک شاپنگ بیگز فروخت کرنیوالے ہو ل سیلرز کی دکانوں پر چھاپے اور انھیں ان بیگز کی فروخت سے باز رکھنے کی کوشش وغیرہ اس سلسلے کی کڑی ہیں ‘اس سے قبل انسداد پلاسٹک مصنوعات ایکٹ 2017کی شق (1) 3 کے تحت پلاسٹک شاپنگ بیگز تیار کرنے والے تمام کارخانوں کو یہ عمل ترک کرنے کیلئے تین ماہ کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی جس کے ختم ہونے پر تحفظ ماحولیات ایکٹ 2014 کے تحت مذکورہ کاروائیاں کی گئیں ‘پلاسٹک شاپنگ بیگزکی تیاری اور فروخت کے خلاف محکمہ ماحولیات کے اقدامات صوبائی حکومت کے اس فیصلے کے تناظر میں ہیں جسکے تحت وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اگست 2015 کے اوائل میں پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیاتھا‘ اس فیصلے کو عمل درآمد کی ابتداء تک پہنچنے سے قبل پچھلے تقریباً دوسال کے عرصے میں کن کن مراحل کا سامنا کرنا پڑا ان پر چونکہ پہلے بھی روشنی ڈالی جاتی رہی ہے اسلئے یہاں انکا ذکر رہنے دیتے ہیں۔

تاہم محکمہ ماحولیات اور صوبائی حکومت کو یہ بتانا ضروری ہے کہ انھوں نے جس کام کا آغاز کیا ہے اسکی تکمیل اچھا خاصا دشوارگزار عمل ہے‘ پلاسٹک شاپنگ بیگز کی تیاری اور فروخت کے سلسلے سے جان چھڑانا کس قدر مشکل ہے اسکا اندازہ درج ذیل حقائق سے لگایا جا سکتا ہے ‘ ’’پاکستان میں1982میں پولی تھین بیگز کا استعمال شروع ہونے کے بعد ایک دہائی کے اندراندر ہی پلاسٹک شاپنگ بیگز کے نقصانات کا ادراک بھی ہو گیاتھا اور ان پر تشویش بھی سامنے آنے لگی تھی‘2004 میں وفاقی ادارے پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن کونسل نے پولی تھین بیگز پر پابندی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیںیہ حقائق ان کوششوں کا ایک خاکہ پیش کر رہے ہیں جو پلاسٹک شاپنگ بیگز کی تیاری ‘فروخت اور استعمال سے نجات حاصل کرنے کیلئے حکومتی اور سماجی تنظیموں کی سطح پر پچھلے 20سال سے کی جاتی رہی ہیں لیکن بار آور ثابت نہیں ہوئیں۔اس دوران مسئلے کے حل کیلئے متبادل راستے کے طور پرناقابل تحلیل شاپنگ بیگز کی تیاری کے بجائے قدرتی طور پر تحلیل ہو سکنے والے پولی تھین بیگز کی تیاری کی طرف بڑھنے کا آپشن بھی پیش کیا گیاجو ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا بہترین حل ہے اسی پس منظر کی بنیاد پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پلاسٹک شاپنگ بیگز کے مسئلے کا مستقل اورپائیدار حل نکالنے کیلئے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کوبڑی مستقل مزاجی اور یکسوئی کیساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

محکمہ ماحولیات کی ان کاروائیوں جن کا ذکر اس تحریر کی ابتداء میں ہوا ہے میں تیزی کی صورت میں تاجر و صنعتکار برادری کے رد عمل کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لہٰذا پلاسٹک شاپنگ بیگز کی تیاری کو نا قابل تحلیل سے قابل تحلیل ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے آپشن کوبھی سامنے رکھنا ہو گا اور اگر کہیں دو طرفہ بات چیت کی ضرورت پڑتی ہے تو اسی آپشن کو مسئلے کے حتمی حل کے طور پر استعمال میں لا یا جا سکتا ہے ‘یہ آپشن صوبائی حکومت پہلے بھی تاجروں کو دے چکی ہے تاہم پلاسٹک شاپنگ بیگز تیار کرنیوالوں نے اسکو تاحال سنجیدہ نہیں لیا مطلب یہ ہے کہ اگر صوبائی محکمے پلاسٹک شاپنگ بیگز کی تیاری اور فروخت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے اور درمیانی راستے کے طور پران بیگز کی تیاری کیلئے قابل تحلیل ٹیکنالوجی کا استعمال ہی یقینی بنا دیا جاتا ہے تو یہ بھی اداروں کی بڑی کامیابی ہو گی ‘اس مہم کے دوران ملک کے دوسرے حصوں سے خیبر پختونخوا میں پلاسٹک شاپنگ بیگز کی ترسیل کا راستہ روکنا بھی بڑا چیلنج ہو گا ‘توقع ہے کہ انسانی صحت اورماحولیات کیلئے نقصان دہ پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی کے حکومتی فیصلے پر عملدرآمد میں عوام کا بھر پور تعاون اداروں کے شامل حال رہے گا۔