بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / عمران خان نے منی ٹریل کا ریکارڈ جمع کرا دیا

عمران خان نے منی ٹریل کا ریکارڈ جمع کرا دیا


اسلام آباد ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے نااہلی کیس میں بذریعہ وکیل ایک لاکھ پاؤنڈ سے متعلق جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا۔ سپریم کورٹ میں مسلم لیگ (ن )کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پرچیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف نااہلی کیس زیر سماعت ہے اور اس حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی مکمل منی ٹریل کی تفصیلات عدالت میں جمع کرادی گئی ہیں اور کیس اب تقریباً ختم ہوچکا ہے۔عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ عمران خان 2002 میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور اسمبلی کی مدت ختم ہونے تک پبلک آفس ہولڈر رہے جبکہ عمران خان نے 2008 کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور 2013 میں وہ ایک بار پھر رکن اسمبلی منتخب ہوئے جو آج بھی ہیں۔جواب میں کہا گیا کہ پاکستان میں عمران خان کے دو بینکوں میں فارن کرنسی اکاؤنٹ تھے تاہم 2000 کے بعد عمران خان کا بیرون ملک کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کا مقدمہ قسط وار چل رہا ہے اس لیے دستاویزات بھی قسط وار لارہے ہیں، جج صاحبان بڑی باریک بینی سے آڈٹ کررہے ہیں، جب جج صاحبان نیا سوال کرتے ہیں تو کاغذات کے لیے ہمیں تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔فواد چودھری نے کہا کہ اس سلسلے کا آخری حصہ مکمل ہوگیا ٗعمران خان کی 6 لاکھ 72 ہزار پاؤنڈ کی منی ٹریل مکمل ٹرانزیکشن کے ساتھ عدالت میں جمع کرادی گئی ہے اور اب اس مقدمے کا تقریباً اختتام ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیازی سروسز عمران خان کی ملکیت نہیں اور نہ ہی عمران خان اس کے ایک بھی شیئر کے مالک ہیں، نیازی سروسز میں تین مختلف کمپنیاں ہیں۔

جس میں سے عمران خان کا صرف ایک اپارٹمنٹ تھا جسے بیچ کر پیسہ پاکستان لایا گیا۔پی ٹی آئی رہنما نے کہاکہ جو لوگ کہتے ہیں نوازشریف اور عمران خان کے کیس ایک جیسے ہیں تو وہ دیکھ لیں کہ نوازشریف کا کیس 16 کمپنیوں اور 300 ارب کے گرد گھوم رہا ہے اور عمران خان کی 41 سال کی ٹوٹل منی ٹریل 6 لاکھ 72 ہزار پاؤنڈ ہے۔فواد چودھری نے کہا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں نواز شریف نااہل ہوئے تو عمران خان اور جہانگیر ترین سمیت سب نااہل ہوجائیں تاکہ نوازشریف کی نااہلی کا دکھ کچھ کم ہو۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک دن بھی ملک کے وزیراعظم یا وزیراعلیٰ نہیں رہے جب کہ نوازشریف ساڑھے 9 سال وزیراعظم، 5 سال وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ بھی رہے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ کس طرح قطری خط نکلے وہ سب کے سامنے ہیں۔