بریکنگ نیوز
Home / بزنس / قرضوں پر سود اور اصل زر کی واپسی میں 37فیصد اضافہ

قرضوں پر سود اور اصل زر کی واپسی میں 37فیصد اضافہ


کراچی۔ گزشتہ مالی سال 2016-17کے دوران قرضوں پر سود اور اصل زر کی واپسی میں 37فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔وفاقی حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران17 ارب 80کروڑ ڈالر قرض لے کر 10 ارب 49 کروڑڈالر کا سود اور اصل زر واپس کیاہے جبکہ مشرف دور میں جاری ہونے والے یورو بانڈز کا منافع بھی گزشتہ مالی سال میں ادا کیا۔

رپورٹ کے مطابق ملک پر بیرونی قرضوں کا بوجھ مجموعی طور پر 83 ارب ڈالر ہو چکا ہے جس میں ریاست کے ذ مہ آئی ایم ایف سمیت دیگر اداروں کے قرض کی رقوم 62.5ارب ڈالر ہیں جبکہ نیم سرکاری اور نجی شعبے کے ذ مہ بھی تقریبا20.5ارب ڈالر کے قرض ہیں ۔ مالی سال 2015 اور 2016 میں آٹھ ارب 70کروڑ ڈالر کا بیرونی قرضہ لیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال 2016 سال 2017 میں نو ارب 10کروڑ ڈالر کا قرض لیا گیا اور اس کے مقابلے میں ان ہی برسوں میں بالترتیب4 ارب 42 کروڑ ڈالر اور 6ارب 7کروڑ ڈالر مختلف اداروں اور ممالک کو واپس کیے گئے۔

،گزشتہ مالی برس میں یورو بانڈز کی مدت معیاد پوری ہونے اور سکوک بانڈز کے منافع کی مد میں ایک ارب 11 کروڑ 60لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی گئی جبکہ سال 2015اور 2016میں یہ ادائیگی 85 کروڑ 40لاکھ ڈالر رہی تھی ۔ 75 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈز مشرف دور میں سال 2007 میں ملکی معاشی صورتحال کو سنبھالا دینے کے لئے دس سال کی مدت کے لئے عالمی مارکیٹ میں جاری کئے گئے تھے۔

جن پر منافع کی مد میں ہر سال ادائیگی ہوتی رہی اور تاہم اب مدت پوری ہونے پر مکمل ادائیگی گزشتہ مالی سال میں کی گئی ہے جبکہ چین کے مختلف قرضوں پر سود اور اصل زر کی مد میں بھی سب سے زیادہ 51 کروڑ ڈالر کی ادائیگی بھی گزشتہ مالی سال میں کی گئی ،نجی شعبے نے دو برس میں 3 ارب 40کروڑ ڈالر کے لئے قرض لئے جبکہ نجی شعبے کے مجموعی قرضوں کا حجم 6 ارب 40کروڑ ڈالر ہو چکا ہے اور یہ قرضے زیادہ تر توانائی اور تیل و گیس کے منصوبوں کیلئے لیے گئے ہیں ۔