بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا میں گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کا عندیہ

خیبر پختونخوا میں گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کا عندیہ


پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویز خٹک نے سوات موٹروے کے دونوں اطراف میں کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ معاہدے میں طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق منصوبے کی تکمیل یقینی ہو سکے ۔انہوں نے سوات موٹروے منصوبے کے تحت مطلوبہ باقی ماندہ اراضی کے حصول ، کرک میں آئل ریفائنری اور ہری پورمیں سیمنٹ فیکٹری کے قیام سمیت پشاور اور رشکئی میں سمارٹ سٹیز کا باضابطہ افتتاح کرنے کیلئے تمام انتظامات کو حتمی شکل دینے کی بھی ہدایت کی اور عندیہ دیا کہ صوبائی حکومت روڈ کمیونیکشین نیٹ ورک ، سوات موٹروے ، آئل ریفائنری اور چترال میں پن بجلی منصوبوں ، ناران اینڈلینڈڈاؤن ٹرانسمیشن لائن ، حطار ، رشکئی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں گیس سے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کا جلد افتتاح کرے گی ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔اجلاس میں رو ڈ کمیونیکیشن نیٹ ورک ، آئل ریفائنری ، سمینٹ فیکٹری ، پن بجلی منصوبوں ، گیس سے بجلی کی پیداوار ، سوات موٹروے کے شمال اور جنوب میں ٹنلز کی تعمیر پر پیش رفت اور فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو ادائیگی وغیرہ کے اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔صوبائی وزراء امتیاز شاہد قریشی ، ڈاکٹر امجد ، ملک قاسم ، مشیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب ، ایم پی اے گل صاحب خان ، متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں اور فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی ۔

وزیراعلیٰ نے مختلف ترقیاتی سکیموں بشمول روڈز ، سیمنٹ فیکٹری، ہاؤسنگ سکیموں ، آئل ریفائنری ، پن بجلی کے منصوبوں کیلئے مطلوبہ اراضی کا حصول یقینی بنانے اور ان منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کیلئے تمام اقدامات بروقت اُٹھانے کی ہدایت کی ۔پرویز خٹک نے متعلقہ حکام کو تاکید کی مذکورہ منصوبوں کی تعمیر میں درپیش مسائل ایک ہفتے کے اندر حل کئے جائیں۔ان کی حکومت صوبہ بھر میں صنعتی یونٹس کے قیام اور اس سلسلے میں سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی میں کسی غفلت کی اجازت نہیں دے گی ۔انہوں نے سیمنٹ پلانٹ ، آئل ریفائنری ، سمارٹ سٹیز اور متفقہ فارمولا کے مطابق پن بجلی کے منصوبوں کا باضابطہ افتتاح کرنے کیلئے ایف ڈبلیو او کو سروے اور دیگر اقدامات تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ اُن کی حکومت فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو قانون اور معاہدے کے مطابق بھر پور سہولیات دے گی ۔چترال اور ناران میں پن بجلی کے منصوبوں کے تناظر میں وزیراعلیٰ نے ایف ڈبلیو او کوہ ٹرانسمیشن لائن پلان کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت صوبے میں متعدد پن بجلی کے منصوبے پہلے سے شروع کر چکی ہے۔ان منصوبوں سے 5 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا ہو گی جو نیشنل گرڈ میں جائے گی۔

انہوں نے پن بجلی منصوبوں کو مین ٹرانسمیشن لائن سے منسلک کرنے کیلئے ٹرانسمیشن پالیسی تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔ سی پیک کے تناظر میں حطار ، رشکئی اور ڈی آئی خان کے اکنامک زونزمیں گیس سے بجلی کی پیداوار کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہاکہ انہوں نے وفاقی حکومت سے صوبے کے شیئر کے طور پر 100 ایم ایم سی ایف گیس حاصل کی ہے کیونکہ ہمارا صوبہ اپنی ضرورت سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے ۔حکومت نے اس گیس سے بجلی پیدا کرنے کیلئے چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔انہوں نے ان منصوبوں پر کام کی تیز رفتاری کو مانیٹر کرنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے ان منصوبوں کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور زمین کا حصول جلد یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔انہوں نے پشاور سمارٹ سٹی کو لنک کرنے والے تجویز کردہ روڈ کو کسی دوسرے مناسب روڈ سے تبدیل کرنے کی بھی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے گلیات میں مجوزہ سڑکوں کی تعمیر کیلئے پلان بنانے کی ہدایت کی اور کہاکہ حکومت فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کے ساتھ جوائنٹ ونچر کے ذریعے ان منصوبوں کی تعمیر کی کوشش کرے گی ۔وزیراعلیٰ نے فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو سوات موٹر وے معاہدے کے مطابق آئندہ سال مارچ تک ہر صورت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔ایف ڈبلیو او کے حکام نے آگاہ کیا کہ پہلے سے فعال مشینری کے علاوہ بھی مزید بھاری ڈرلنگ مشین نے کام شروع کر دیا ہے۔اُمید ہے کہ اس سے پیش رفت دوگنا ہوجائے گی اور منصوبہ مقررہ مدت کے اندر مکمل کرلیا جائے گا۔