بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات

ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات


میں جب کبھی کسی اخبار میں اسکی تصویر دیکھتا ہمیشہ مجھے خیال آتا کہ میری دادی بالکل ایسی ہی ہوگی سرخ سپید چہرہ‘ نیلی آنکھیں‘ سفید بال اور بوٹا ساقد… میں نے اپنی دادی کو دیکھا نہیں ہوا تھا… اور اسکی کوئی تصویر بھی نہ تھی جو مجھے دکھائی جاتی کہ ان زمانوں میں بے شک کیمرہ ایجاد ہو چکا تھا لیکن ابھی تک دریائے چناب کے کناروں پر واقع اس دور افتادہ گاؤں تک نہ پہنچا تھا‘ وہاں تک تو ابھی تک بس یا ویگن بھی نہیں پہنچی تھی پورے علاقے میں ایک دو ٹانگے تھے جنکے گھوڑے مریل ہوتے تھے اور انکے ’’ ودھر‘‘ ہمیشہ ٹوٹ جاتے تھے اور یا پھر کچے راستوں پر گھوڑیاں دھول اڑاتی چلی جاتی تھیں بہرطور میرے ابا جی اور میری امی مجھے بچپن میں بتایا کرتے تھے کہ میری دادی کیسی ہوتی تھی…سفید رنگ اور نیلی آنکھیں جنہوں نے میرے ابا جی تک سفر کیااور مجھ تک پہنچتے پہنچتے تقریباً معدوم ہو گئیں … تو جب کبھی کسی اخبار میں اسکی تصویر دیکھتا مجھے اپنی وہ دادی یاد آجاتی جسے میں نے کبھی دیکھا نہ تھا… اور اسکی تصویر کم ہی دکھائی دیتی تھی کہ اسے کچھ خاص شوق نہ تھا تصویریں چھپوانے کا‘ اپنے کام کی تشہیر کرنے کا… جیسے آپ اکثر مخیر حضرات کی تصویریں دیکھتے ہیں کہ وہ کسی غریب شخص کو آٹے کا ایک تھیلا عنایت کر رہے ہیں اور اسے نہیں دیکھ رہے کیمرے کی طرف دیکھ رہے ہیں یا پھر کوئی سیاست دان بیوہ خواتین میں سلائی مشینیں تقسیم کر رہا ہے اور ملکی پریس کے نمائندے اس عظیم کارخیر کی تصویریں دھڑا دھڑ اتار رہے ہیں ‘ یہ جو میری دادی کی شکل کی خاتون تھیں میں نے انکی ایک تصویر دیکھی‘ وہ ایک ایسے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھام رکھے پیار بھری نیلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہیں اور شاید اسے بوسہ دینے کو ہیں اور مجھے وہ چہرہ دیکھ کر گھن آئی کہ وہ کوڑھ کا کھایا ہوا تھا‘ نہ آنکھیں تھیں اور نہ ناک بلکہ منہ کی جگہ بھی ایک لوتھڑا سا تھا‘ جیسے چوہوں نے اس چہرے کو کتردیا ہو لیکن اس خاتون کو جس کا نام ڈاکٹر رتھ فاؤ تھا گھن نہیں آرہی تھی اس پر پیار آرہا تھا‘ مجھے تو کوئی لاکھوں روپے بھی دے تو بھی میں کسی ایسے چہرے کو ہاتھوں میں نہ تھاموں…

پتہ نہیں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو… رتھ فاؤ‘ امیر علی صاحب اور مدرتھریسا ایسے لوگوں کو کس مٹی سے بنایا ہوتا ہے کہ انہیں خلق خدا سے گھن نہیں آتی‘ وہ انکے عشق میں مبتلا ہوتے ہیں‘ یہ کیسے لوگ ہیں جن کے پاس مسیحائی کا اعجاز ہے جو آسمانوں سے نہیں اس مٹی سے پھوٹتا ہے جس سے تخلیق کار نے انہیں بنایا ہوتا ہے‘ وہ کوئی دعویٰ بھی نہیں کرتے… نہ کسی ثواب کے لالچ میں خلق خدا کے دکھوں پر پھاہے رکھتے ہیں‘ عجیب لوگ ہوتے ہیں…مدرتھریسا نے جب کلکتہ میں طاعون کی بیماری سے تقریباً لاعلاج ہوچکے لوگوں کو فٹ پاتھوں اور گلیوں میں سے اٹھایا جہاں انکے عزیز رشتے دار انہیں پھینک گئے تھے اور انہیں اپنے ہاتھوں سے نہلایا‘ انکا علاج کیا تو ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو ناسوروں اور پھوڑوں سے رستے پیپ بھرے بدنوں کو نہلاتے ہوئے گھن نہیں آتی تو اس نے کہا تھا کہ… یہ تومیری خوش بختی ہے‘ اپنے ایدھی صاحب لاوارث گلی سڑی لاشوں کو غسل دے کر احترام سے دفن کرتے تھے…ساری زندگی لاوارث لاشوں سے اترے ہوئے کرتے اور پاجامے پہنتے تھے تبھی وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے تھے‘ انہیں بھی گھن نہ آتی تھی‘ ڈاکٹر رتھ فاؤ اتفاق سے انڈیا جانے کے دوران کراچی میں ویزے کے سلسلے میں ٹھہریں اور کوئی انہیں لاوارث کوڑھیوں کے کسی گھر لے گیا اور پھر انہوں نے اپنی پوری زندگی بگڑے ہوئے چہروں اور اپاہج ہوچکے بڑے بوڑھوں اور بچوں کیلئے وقف کردی اور ان کوڑھ کے مارے لوگوں کو بھی انکے عزیز رشتے دار اس گھر یا مرکز میں پھینک گئے تھے ڈاکٹررتھ کی جوانی کی تصویریں دیکھئے کیا دل کش اور خوش شکل الہڑ مٹیار تھیں‘ لیکن انہوں نے اپنی جوانی کی دل کشی کوڑھ کے مریضوں کے علاج پر نثار کر دی… ویسے آپ کبھی غور کیجئے گا کیا ہمارے بیشتر سیاستدانوں اور انکے حواریوں اور اونچے عہدوں پر براجمان انکے گھریلو خوشامدیوں کی شکلیں کوڑھ زدہ دکھائی نہیں دیتیں۔

‘ کاش کے ڈاکٹر رتھ ان کوڑھ زدہ لوگوں کا بھی کچھ علاج کر جاتیں… کلکتہ کی جس گلی میں مدرتھریسا کا علاج گھر تھا اسکے قریب کے مندر کا ایک پروہت دن رات انکے خلاف زہر اگلتا رہتا تھا کہ یہ غیر ملکی عورت ہمارے دھرم کو بھرشٹ کر رہی ہے‘ جنکی قسمت میں کالی دیوی نے موت لکھ دی ہے انہیں مارنے کی کوشش کرنے والے سورگ میں جائینگے‘ یہاں تک کہ اسکے مشتعل پیروکاروں نے مدرتھریسا کے علاج گھرپر حملہ بھی کیا… پھر وہی پروہت طاعون کا شکار ہوا اور اسکے اپنے بیٹوں نے اسے فٹ پاتھ پر پھینک دیا… مدرتھریسا اسے بھی اٹھا لائی دن رات خدمت کرکے اسے صحت مند کر دیا اوروہ پھر ہمیشہ کیلئے ان کا چیلا ہوگیا‘ کیا آپ اس کہانی میں اپنے پاکستان کی کوئی شکل دیکھتے ہیں… مندروں کے پروہتوں کی کوئی شکل نظر آتی ہے…یہ ایک سمجھ میں نہ آنے والا وقوعہ ہے کہ ایسے لوگوں‘ مدرتھریسا‘ ایدھی صاحب اور ڈاکٹر رتھ فاؤ ایسے لوگوں کو کبھی پسند نہ کیاگیا‘ ایدھی صاحب کی بجائے ایک مسخرے کو نوبل انعام کیلئے تجویز کیا گیاصرف اسلئے کہ یہ لوگ ان لوگوں کے مقابلے میں بونے اور مزید کرپٹ لگتے تھے‘ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ جسے چاہے ذلت دے اور جسے چاہے عزت دے… میں پہلے بھی تذکرہ کرچکا ہوں کہ جب مجھے ایک ادارے کی جانب سے ’’ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘‘ دینے کی پیشکش ہوئی تو میں نے انکار کر دیا اور جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ ایوارڈ دینے کیلئے ایدھی صاحب تشریف لا رہے ہیں تو میں سر کے بل گیا اور ایوارڈ انکے ہاتھوں سے حاصل کرنے کے بعد تقریر کے دوران کہا کہ… قائداعظم کے بعد صرف ایدھی صاحب ہیں جنکی میں دل سے تکریم کرتا ہوں‘ یہ اگر ایوارڈ کی بجائے اپنے ہاتھوں سے خاک کی ایک مٹھی بھر کر میرے سر پر ڈال دیتے تو بھی میں اپنے آپکو خوش نصیب جانتا‘ اگرچہ صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان نے بھی مجھے اعزازات سے نوازا لیکن…

وہ سب حقیر تھے ایدھی صاحب کے عطا کردہ ایوارڈ کے سامنے… میری دادی کی شکل کی ڈاکٹر رتھ نے اپنی محبت کے معجزے سے ایشیا بھر میں سب سے پہلے پاکستان کو کوڑھ کے مرض سے پاک کر دیا تھا‘ وہ سندھ کے دور افتادہ قصبوں میں پہنچ کر کوڑھ کے مریضوں کو گلے لگاتیں انہیں اپنے قائم کردہ ہسپتال میں لاکر ان کا علاج کرتیں‘ وہ ان سے یہ دریافت نہ کرتیں کہ تم کونسے مذہب کے پیروکار ہو… جیسے بابا ایدھی کو کسی مخیرحضرت نے متعدد ایمبولینس گاڑیوں کی پیشکش کرتے ہوئے شرط عائد کی کہ انہیں صرف مسلمانوں کے علاج کیلئے استعمال کیا جائے تاکہ میں ثواب دارین حاصل کر سکوں تو ایدھی نے کہا’’ بابا جی کیا بولتے ہو… اگر سڑک پر کوئی بندہ زخمی حالت میں پڑا ہے تو کیا اسے اٹھانے سے پیشتر میں اس سے پوچھوں کہ تمہارا مذہب کیا ہے… مجھے ایمبولینس نہیں چاہئے بابا‘ البتہ پہلی بار مجھے اپنے حکومتی اداروں پر فخر ہوا کہ ڈاکٹر رتھ فا ؤکو پورے سرکاری اعزاز سے دفن کیا گیا‘ صدر مملکت اور دیگر اہل اقتدار نے انہیں رخصت کیا‘ پاک فوج کے دستوں نے سلامتی دی اور انکی قبر پر پھول چڑھائے آپ سوال کرسکتے ہیں کہ میں نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کے بارے میں یہ کالم اتنی دیر سے کیوں لکھا… اسلئے کہ میری دادی تو اب جا کر فوت ہوئی تھیں‘ میں انکے سوگ میں تھا… سرخ و سفید رنگت اور نیلی آنکھوں والی میری پیاری دادی!