بریکنگ نیوز
Home / کالم / قانون کی پاسداری

قانون کی پاسداری


قانون کی پاسداری اور اس کا علم بلند رکھنے کے دعوے کرنے والے اگر فرط جذبات میں قانون کی دھجیاں اڑانا شروع کر دیں کہ جسکا مظاہرہ اگلے روز احتساب عدالت کے سامنے اسلام آباد میں کیاگیا اور جسے دنیا نے ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھا تو آپ خود ہی سوچئے کہ اس سے اس ملک کی نئی پود کو کیا سگنل گیا ہو گا نہ جانے ہم میں من حیث القوم برداشت کا مادہ کیوں عنقا ہو چکا ہے ؟ نہ جانے ہم یہ کیوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شورو غل مچا کر ہم اس آواز کو دبا سکتے ہیں جو ہمارے کانوں کو بری لگتی ہے یا جسے ہم سننا نہیں چاہتے اسلئے اب بادل نخواستہ عدالتوں کے پاس بجز اس کے اور کوئی دوسرا راستہ باقی کیا رہ جاتا ہے کہ وہ مقدمات کی تاریخوں پر رینجرزکو طلب کریں کیونکہ پولیس کو تو اب کوئی گھاس اس لئے نہیں ڈال رہا کہ ان کی بے توقیری حکمرانوں نے خود کردی ہے اور اسے عضو معطل بنا دیا ہے اس سے تو اب حکمران بس یہ کام لے رہے ہیں کہ ان کو وہ اپنے گھروں اوردفاتر کی رکھوالی کے لئے استعمال کررہے ہیں یا پروٹوکول کی ڈیوٹیوں پر ان کو تعینات کر دیا گیا ہے جب بھی وہ اپنی قیمتی گاڑیوں کے جلوس میں سڑکوں پر گھومتے ہیں تو ان کے آگے پیچھے پولیس کی درجنوں گاڑیاں چلتی ہیں ان کی آمد و رفت کے وقت سڑکوں پر عام ٹریفک بند کر دی جاتی ہے کوئی شہری اگر ٹریفک جام میں پھنس کر ایمرجنسی کی صورت میں بروقت طبی امداد حاصل کرنے ہسپتال نہ پہنچ سکے اور راستے میں اللہ کو پیارا ہو جائے تو ان کی بلا سے ؟

ٹریفک والوں کو یہ چھوٹی سی بات کیوں سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اگر وی وی آئی پی کی گاڑی بھی عام ٹریفک کی قطار میں سڑکوں پرچلے تو نہ کبھی ٹریفک کی بندش ہو نہ ٹریفک جام بنے اور نہ کسی ممکنہ تخریب کار کو پتہ چلے کہ صاحب بہادر کونسی گاڑی میں بیٹھا ہوا ہے ٹریفک والے ٹریفک جام کرکے وی وی آئی پیز کی گاڑی یا گاڑیوں کے آگے پیچھے اپنی گاڑیاں لگا کر ایک لحاظ سے خود غیرارادی طور پر ممکنہ تخریب کاروں کو ایڈوانس میں باخبر کردیتے ہیں کہ وی وی آئی پی کا قافلہ روں دواں ہے حکمرانوں کی سمجھ میں یہ چھوٹی سی بات بھی نہیں آتی کہ اگر ریاستی ادارے مضبوط اور فعال اور آزاد ہوں گے تو وہ ان کے الیکشن میں پیش کئے گئے منشور پر موثر انداز میں عمل درآمد کر سکیں گے لیکن اگر وہ کمزور ہوں یا ان کو عوام کی نظروں میں پروپیگنڈے کے ذریعے گرا دیا جائے گا ۔

تو پھر وہ حکومت کاچورن عوام میں بالکل نہیں بیچ سکیں گے آج زمینی حقائق یہ ہیں کہ انتظامیہ پولیس اور دیگر لائن ڈیپارٹمنٹ کو حکمرانوں نے اپنے گھر کی لونڈی بنا دیا ہے فوج اور ججوں کے پیچھے وہ درپے ہیں اور عین ممکن ہے کہ کل کلاں وہ پارلیمنٹ میں ایسی ترمیمیں لے آئیں کہ جنہیں نہ فوج پسند کرے اور نہ عدلیہ اس ممکنہ صورتحال سے جو حالات پیدا ہو سکتے ہیں ان کے خیال اور تصور سے ہی ہر محب وطن پاکستانی کانپ اٹھتا ہے احسن اقبال کے اس تازہ ترین بیان سے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر معیشت پر تبصروں سے گریز کریں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حکومت اور ریاستی اداروں میں جو ہم آہنگی اور اتحاد کی فضا موجود ہونی چاہئے وہ ناپید ہے آمدم برسر مطلب وقت آگیا ہے کہ عدلیہ ایک ایسا حکم جاری کرے کہ مقدموں کی کاروائی کے دوران عدالت میں فریقین کے علاوہ بس ان کے وکلاء آئیں اور کسی کو بھی اندر آنے کی اجازت نہ ہو۔