بریکنگ نیوز
Home / کالم / داخلی سکیورٹی خطرات

داخلی سکیورٹی خطرات


پاکستان کو لاحق داخلی سکیورٹی خدشات کا شمار ممکن نہیں جنکی جانب اشارہ کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ’کسی دوسرے ملک کی فورس کیساتھ مشترکہ فوجی کاروائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ہم نے اپنے ملک میں سب کچھ کر لیا‘ اب ہمارے پاس ’ڈومور‘کی کوئی گنجائش نہیں‘ پاکستان میں کوئی نو گو ایریا نہیں دہشت گردوں سے تمام علاقے صاف کر لئے گئے‘ میرا کوئی بیان ذاتی نہیں ہوتا بلکہ پوری فوج کا مؤقف ہوتا ہے‘ فوج کوئی فیصلہ خود نہیں کرتی وزیراعظم کا اختیار چلتا ہے فیصلہ حاکم وقت کا ہوتا ہے فوج سویلین حکومت کے فیصلے پر عمل کرتی ہے اور ٹیکنو کریٹ حکومت یا مارشل لاء کا کوئی امکان نہیں۔ اس پریس کانفرنس کے جواب میں وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ’مجھے دکھ صرف اس بیان سے ہوا تھا کہ معیشت بری نہیں تو اتنی اچھی بھی نہیں‘ ہمیں اب مایوسی کو امید میں بدلنا چاہئے‘ اتحاد سے ہی ہم نے ملک کی معیشت کا رخ موڑا ہے‘ تمام عسکری اور سول قیادت نیشنل سکیورٹی کے اجلاس میں ملتی ہے‘ مثبت پہلوؤں کو دنیا میں اجاگر کرنے کیلئے یک آواز ہونا چاہئے‘ وقت آگیا ہے کہ ہم ملک کے بارے میں پراعتماد ہوں‘ دنیا کا اعتماد بھی بحال کریں‘ چیلنجز ہمیں معلوم ہیں اور نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں‘ وقت آگیا ہے کہ دنیا کا پاکستان پر اعتماد بحال کریں۔

وزراء کھل کر عدلیہ پر برس رہے ہیں۔ فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ زمام کار مسلم لیگ نواز کے ہاتھ میں ہے جس کے سربراہ میاں نوازشریف ہیں آج بھی حکومت ان کی مرضی و منشاء کے مطابق چل رہی ہے۔ میاں نوازشریف کے عدلیہ کے بارے میں ریمارکس اور فیصلہ تسلیم نہ کرنے کے اعلانات کے بعد ان پر توہین عدالت کے الزامات کے تحت درخواستیں عدالتوں میں دائر ہیں۔ میاں نواز شریف کو نااہلیت کے بعد احتساب عدالت میں ریفرنسز کا سامنا ہے ۔ میاں نوازشریف جب طاقت اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ کی بات کرتے ہیں تو ’طاقت‘ فوج کی طرف اشارہ ہوتاہے۔ اگر وہ اس طاقت کو اپنی نااہلیت اور اس کے بعد کی مشکلات کا ذمہ دار سمجھتے ہیں تو ان کی ہدایت پرکام کرنے والی کابینہ اور وزراء کا ’طاقت‘ کیساتھ کوآرڈی نیشن جس طرح کا ہو سکتا ہے اس کا اندازہ کرنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں مگر قومی و ملکی مفاد میں ورکنگ ریلیشن شپ شخصیات سے وابستگیوں سے بالاتر ہونا چاہئے‘ امریکہ کا پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کے الزامات اور پاکستان پر جارحیت کی دھمکیوں کا یقیناًدباؤ تھا۔ خواجہ آصف نے امریکیوں کو پاکستان میں مشترکہ آپریشن کی تجویز دی۔ اگلا اقدام اس تجویز پر عمل تھا مگر اس سے قبل ہی پاک فوج کی طرف سے وضاحت کر دی گئی کہ پاک امریکہ افواج کے پاکستان میں مشترکہ آپریشن کی گنجائش نہیں۔ فوجی ترجمان نے پاک فوج کی طرف سے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ پاکستان کی سرزمین پر کسی دوسرے ملک کی فورس کے ساتھ مشترکہ کاروائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ امریکہ جانے سے قبل وزیر خارجہ کی متعلقہ اداروں کے ساتھ کوآرڈی نیشن ہوئی ہوتی تو یا وہ مشترکہ آپریشن کی پیشکش سے قبل اصولی مؤقف اور قومی سلامتی کے تقاضوں سے آگاہی کی کوشش کرتے تو یہ بدمزگی ہوتی نہ سیاسی حکومت اور فوج کے مابین کوآرڈی نیشن کے فقدان کا تاثر اُبھرتا۔

اسکے بعد ابھی احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی پیشی کے موقع پر رینجرز کی تعیناتی وزراء و لیگی رہنماؤں کو روکنے پر وزیر داخلہ احسن اقبال کے سخت لب و لہجہ کی باز گشت ابھی تحلیل نہیں ہوئی تھی کہ پاک فوج کے ترجمان کے یہ کہنے پر کہ معیشت اگر کمزور نہیں تو مضبوط بھی نہیں اور ایک نئے تنازع نے جنم لے لیا۔ فوج کے مؤقف کی پریس کانفرنس کا بھی یہ مثبت پہلو ہے کہ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں جمہوری حکومت کی بالادستی کو تسلیم کیا اور فوج کو اس کے ماتحت ادارہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کسی ٹیکنو کریٹ حکومت یا مارشل لاء کے امکان کو بھی یکسر رد کیا ہے تاہم ان کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ اداروں کے اندر اور اداروں کے مابین اختلافات ہوتے رہتے ہیں‘ جب آئین نے اداروں کا دائرہ کار طے کر دیا تو اختلافات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلاشبہ سکیورٹی کے معاملے میں ہم سب ایک ہیں۔

اوّل تو اداروں کے مابین آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلافات پیدا نہیں ہو سکتے۔بالفرض اگر ہوتے بھی ہیں تو ان کو میڈیا کے ذریعے طشت ازبام کرنے کے بجائے مل بیٹھ کر طے کرنا چاہئے۔ وزیراعظم خاقان عباسی کے بقول جمہوریت کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔ حکومت بنانے اور توڑنے کا اختیار عوام کے پاس ہونا چاہئے۔‘بلاشبہ یہ اختیار عوام کے پاس ہے مگر آمر شب خون مارتے رہے ہیں۔ آمریت کا راستہ صرف اور صرف جمہوریت کو مضبوط بنائے ہی روکا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے سیاستدانوں کو ذاتی اورپارٹی مفادات سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف ملکی و قومی مفاد میں متحد ہو کر جمہوریت کو آمریت کیلئے ناقابل تسخیر بنانا ہوگا‘اب رہاسوال پاکستان کے ان معروضی حالات کاکہ جن کی وجہ سے جمہوریت کا تسلسل برقرار نہیں رہتا تو اسکی بنیادی وجہ یہ سیاست دانوں کی غلطیاں ہیں جو وہ ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی دہرا رہے ہیں اور ایک مرتبہ پھر خوش فہمی کا شکار ہیں کہ وہ پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں! (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر:عبدالحمید عارف۔ ترجمہ: ابوالحسن امام(