بریکنگ نیوز
Home / کالم / پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے

پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے


ایک پر شور ، مشکل اور نسبتاََ الجھے ہوئے ماحول میں سانس لینے پر مجبور اور مامور کر دیا گیا ہے۔ سیاست اور یک رخی سیاست نے عدالت ،ثقافت اور صحافت سمیت سارے اداروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ عام آدمی خود کوسارا دن دو وقت کی روٹی کے لئے ہلکان کئے رکھتا ہے اور شام کو اپنے تھکے ہارے بدن کو سہلانے اور بہلانے کے لئے چینلز کے آگے بیٹھ جاتا ہے بدن کو کیا سکون ملتا ہے الٹاماغ بھی ابلنے لگتا ہے، انہی حالات میں سو جانا اور پھر ڈراؤنے خوابوں کے ساتھ کروٹیں بدل بدل کر سوئے جاگے ایک اور دن کی اذیت کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا اب روزانہ کا معمول بن چکا ہے سیانے کہتے ہیں ’’ کہ بہر حال آنے والا دن ایک نیا دن ہوتا ہے‘‘ مگر کہاں یہ بے سود اور لا یعنی سی رات ختم ہو تو ایک نیا دن طلوع ہو ۔ گلزار نے کہا ہے نا کہ ’’ سحر نہ آئی کئی بار نیند سے جاگے ‘‘ اور دلاور فگار نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ ’’حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہو گئے‘‘ اس لئے اب تو ایک عرصے سے شب و روز کی حالت میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہو رہی
’’چاروں جانب ، جبڑے کھولے کالی بَلاؤں کا سایہ ہے۔۔۔بے چینی کے خوابوں سے بھی جاگ کے میں نے کیا پایا ہے‘‘

سو اب جسم اور ذہن دونوں سیاست کی بھول بھلیوں میں بھٹک رہے ہیں غنیمت ہے کہ اس بے درد معاشرے میں ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جنہوں نے اپنی توانائیاں اور وسائل خدمت خلق کے لئے وقف کر رکھے ہیں۔ ان میں دماغی امراض کے ماہر اور عالمی شہرت کے حامل ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی کا نام ایک نمایاں نام ہے جو ہر آفت اور مصیبت کی گھڑی میں اپنے لوگوں کے پاس مو جود ہوتے ہیں،سیلاب ہو، زلزلہ یا پھر کوئی اور سانحہ وہ اپنے ساتھ ہورائزن کے اراکین اور ڈاکٹرز کی ایک ٹیم اور امدادی سامان لے کر وہاں کیمپ لگاتے ہیں اور متاثرین کا علاج ہی نہیں دلجوئی بھی کرتے ہیں، ان کا کام اس لئے بھی مشکل ہے کہ انکی توجہ کا مرکز زخمی ہونے والے لوگوں سے زیادہ ان لوگوں خصوصاََ بچوں پر ہو تا ہے جو ان حادثات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر چپ ہو جاتے ہیں سہم جاتے ہیں اور احساس محرومی سے زیادہ احساس بیگانگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کو اس کیفیت سے نکالنے اور ان کی نفسیاتی بحالی کیلئے ڈاکٹر خالد مفتی اپنی ٹیم کے ساتھ کوشاں رہتے ہیں،ابھی کچھ ہی دن قبل مینٹل ہیلتھ کا عالمی سطح پر دن منایا گیا تو خالد مفتی جرمنی میں تھے وہیں سے ان کا فون آیا کہ آپ جوممتاز و معروف فزیشن ڈاکٹر انتخاب عالمٖچ کی کتاب کی تقریب پزیرائی کا انعقاد کر رہے ہیں تو کیایہ ممکن ہے کہ چند ماہرین نفسیات اس سے قبل یومِ صحتِ دماغی امراض کے حوالے سے بات کر لیں یا پھر الگ سے تقریب کر لیں۔ میں نے کہا کہ جی نیکی اور پوچھ پوچھ اور پھر یہ بڑا اچھا موقع ہو گا کیونکہ ڈاکٹر انتخاب عالم کی کتاب بیک وقت جسمانی اور روحانی علاج سے متعلق ہے اس میں اگر ذہنی صحت کے حوالے بھی شامل ہو جائیں تو اس سے بہتر اور کیا ہوگا۔

مگر آپ پاکستان وقت پر پہنچ جائیں کہ تقریب کی صدارت آپ نے کرنا ہے۔ ہمارے سکول کے ڈرل ماسٹر ( فزیکل ایجوکیشن ٹیچر)عبد الرازق مرحوم ہمیشہ یہ قول دہرایا کرتے تھے کہ بچو ’’ صحت مند دماغ کو ایک صحت مند جسم کی ضرورت ہو تی ہے‘‘ سو عبادت ہسپتال کے حق باباؒ اڈیٹوریم میں اپنی نوعیت کی ایک بہت ہی خوبصورت اور پھرپور تقریب بپا ہوئی جس میں شہر کے قلم قبیلہ کے بہت سے اہم اور معتبر تخلیق کار شریک ہوئے پہلے حصے میں جواں سال معصومہ نے عمدہ نظامت کی اور سائیکالوجسٹ خائستہ، ہورائزن کی وائس چیئر پرسن ڈاکٹر ثمینہ سعید اور چیئرمین ہورائزن ڈاکٹر خالد مفتی نے مینٹل ہیلتھ کے حوالے سے گفتگو کی جس کے بعد ڈاکٹر انتخاب عالم کی کتاب ’’ بیماریوں کی حقیقت‘‘ کے حوالے سے احباب نے اپنے مضامین اور منظوم خراج عقیدت و تحسین پیش کیا۔ ڈاکٹر انتخاب عالم کی کتاب ’’ بیماریوں کی حقیقت ‘‘ ہے اب اس کا موضوع تو سیدھا سادا طب سے متعلق ہے، بیماریاں ان کی حقیقتیں، مفروضے ، ان کی تشخیص اور ان کا علاج اور اسی حوالے سے طبی معلومات جس کا بظاہر ادب سے دور کا بھی واسطہ نہیں اور اتفاق سے اردو زبان میں حکما کی کتب تو موجود ہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ ان کے پڑھنے والوں کا ایک وسیع حلقہ بھی موجود ہے تاہم وہ عام فہم نہیں اور ہر آدمی کی سمجھ سے بھی بالا تر ہیں اس لئے طب کا مضمون مخصوص لوگوں تک محدود رہا، اب ڈاکٹر انتخاب عالم کی یہ تازہ کتاب ( قبل ازیں ان کے مختلف بیماریوں کے حوالے سے کئی ایک کتابچے بھی شائع ہو چکے ہیں جو صدقہ جارہ کے طور پر مفت تقسیم کئے جاتے رہے ہیں )اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتی ہے کہ طب کے ادق اور مشکل مضامین کو انتہائی دلکش ،سلیس،آسان اور عام فہم زبان میں لکھا گیا ہے جو کسی معالج کی مدد کے بغیر طبی معلومات اپنے پڑھنے والوں تک پہنچ جاتی ہیں مجھے اس کا مسودہ پڑھتے ہوئے ایک گونہ لطف بھی آیا اور اپنی بہت سے عادتوں پر نظر ثانی کا موقع بھی ملا جو مختلف بیماریوں کو اپنانے کی ترغیب دلا رہی تھیں ،یہ کتاب اپنے آغاز ہی سے پڑھنے والوں کو ڈاکٹر انتخاب عالم کی انسان دوستی کا طرفدار بنا دیتی ہے اور اس کے بعد تو سارا کام محبت کا رہ جاتا ہے محبت جو اپنا راستہ خود بناتی ہے۔

،ڈاکٹر انتخاب عالم کو مریض ہی نہیں اپنے پیشے کے لوگ بھی تشخیص کا ماہر ایک جادو گر ڈاکٹر کہتے ہیں اور اس کی تائید خود اس کی دلنشین تحریر کا جادو بھی کرتا ہے یوں بھی اپنی از حد مصروفیات میں سے اس کارِ خیر اور صدق�ۂجاریہ کے لئے اس کا وقت نکالنا اس کی انسان دوستی اور رب کی خوشنودی حاصل کرنے کی یہ سعی ایک مبارک سرگرمی ہے‘کتاب کے حوالے سے مشتاق شباب نے ایک بہت شگفتہ انداز میں بات کی جبکہ اقبال سکندر نے کتاب کے آخری حصے پر عالمانہ اور فلسفیانہ مضمون پڑھا،سید شکیل نایاب نے بھی کتاب اور صاحبِ کتاب کو مختصر مگر خوبصورت خراج پیش کیا۔ ڈاکٹر حافظ نور حکیم جیلانی نے کتاب کا ایک عمدہ مدلل اور متوازن تجزیہ پیش کیا جس کی باز گشت تقریب کے بعد بھی دیر تک سنائی دیتی رہی۔ فی البیدیہہ قطعات کے لئے شہرت رکھنے والے انجینئر عتیق الرحمٰن کے قطعات کو بہت دلچسپی سے سنا گیا جب کہ بزرگ شاعر یونس صابر کی نظم نے بھی رنگ لگایا،فاروق جان بابر آزاد نے اپنی نظم میں ڈاکٹر انتخاب عالم کی شخصیت کو موضوع بنایا جسے سنتے ہوئے ڈاکٹر انتخاب عالم کی آنکھوں میں فرط جذبات سے دھواں بھر گیا تھا، حاصل شام گفتگو تو میر محفل ڈاکٹر خالد مفتی کی رہی مگر ڈاکٹر انتخاب عالم نے بھی اپنی باتوں سے حاضرین کو اپنا طرفدار بنائے رکھا۔ میں تو اکثر کہتا ہوں اور بیماریوں کی حقیقت میں لکھا بھی ہے کہ یہ جو شعر و ادب کی ریاست کی اونچی فصیلوں پر چوکس چوبدار کھڑے ہیں ۔

انہوں نے اندر داخل ہونے والوں کی پرکھ پرچول کے اتنے سخت معیار مقرر کر رکھے ہیں تو کم ازکم وہ ڈاکٹر انتخاب عالم کی اس کتاب کو ’’ طب کا معلوماتی ادب ‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ قصر ادب کی انیکسی میں ہی داخل ہونے کا پروانہ راہداری اس شرط پر جاری کر دیں کہ وہ اس سلسلہ کو اسی محبت کے ساتھ جاری رکھیں گے ، کیونکہ اردو زبان میں طب کے موضوع پراس طرح چارٹ اور گرافکس کی مدد سے کام کرنے کی کوششیں کم بہت ہی کم ہوئیں ہیں میں نے محض ڈاکٹر حفیظ اللہ کی دل کی باتیں یا انڈیا کے عابد معز کا کچھ کام دیکھا ہے ماہر امراض قلب ڈاکٹر حفیظ اللہ کی اردو انگریزی کتابوں کی تو پوری ایک سیریز ہے جن کا انداز بھی اسی طرح دلکش اور دلنشین ہے، بہت دنوں کے بعد شہر میں ایک عمدہ نشست کا ڈول پڑا تھا احباب نے بہت محبت سے شرکت کی تھی اس لئے مقررین نے بھی یہ سوچ کر بہت خوبصورت گفتگو کی کہ جیسے امیر مینائی کے ہم زبان ہو گئے ہوں
امیر جمع ہیں احباب حالِ دل کہہ لے
پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے