بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / ماضی اور حال

ماضی اور حال


کوئی بھی اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتاکہ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں خیبر پختونخوا پولیس نے نہ صرف ایک مثالی کردار ادا کیا ہے۔بلکہ پولیس فورس ہی کی قربانیوں کی بدولت اب نہ صرف خیبر پختونخوابلکہ ملک کے طول عرض میں امن و امان قائم ہو رہا ہے‘قربانی دینے والے پولیس افسران اور اہلکاران کی فہرست کافی طویل ہے۔اور نہ صرف پولیس افسران اور صوبائی حکومت بلکہ زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ان شہداء کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔جبکہ پچھلے کئی برسوں سے محکمہ پولیس ان شہداء کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لئے یوم شہداء بھی منا رہے ہیں۔جو کہ ایک اچھی روایت ہے ۔اور اسے قائم رکھنے سے پولیس افسران اور اہلکاروں جذبے زندہ ہونگے۔پچھلی کئی دھائیوں سے جو بھی حکومت برسر اقتدار آئی ہے۔تو ان کی پہلی ترجیحی امن وامان قائم رکھنا ہوتا ہے۔اور اسی مقصد کے لئے وہ پولیس فورس کو مننظم کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں۔تاہم 2008 کے عام انتخابات کے بعد سابق حکومت اس سلسلہ میں ایک قدم آگے نکلی تھی۔

اس حکومت نے پولیس فورس کو منظم کرنے کے کے علاوہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربامی دینے والے شہداء کے اہل و اعیال کے لئے معقول معاوضہ اور دیگر مراعات دینے کا فیصلہ ہوا تھا۔ جبکہ تحریک نصاف کی حکومت نے مزید آگے جاتے ہوئے پولیس فورس کو غیر سیاسی اور خود مختار بنانے اور پولیس نظام میں مزید اصلاحات لانے کاٖفیصلہ کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے قائدین باالخصوص عمران خان پنجاب اور ملک کے دیگر صوبوں میں عوام کی توجہ اور اورحمایت حاصل کرنے کیلئے خیبر پختونخوا پولیس ،پٹواری۔اور دیگر محکموں کی مثالیں دیتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ بقول پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خیبر پختونخوا کے پولیس محکمے میں ہر قسم کی رشوت ستانی اور بد عنوانی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس کا محکمہ کو پہلے سے زیادہ فعال اور مستعد ہے بہت سی کوتاہیوں سے اس کو پاک بھی کیا گیا ہے اور اسی کے باعث امن وامان کی صورتحال بھی ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے ۔تاہم یہ تاثر دینا کہ پولیس کو بدل کر رکھ دیا گیا ہے اور اب یہ کسی بھی مغربی ملک کی طرح خدمات انجام دے رہی ہے حقیقت سے قریب تر نہیں اس کا اعتراف سب ہی کرتے ہیں کہ پولیس کے زیادہ تر اہلکار جانفشانی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے قربانیاں بھی دے چکے ہیں تاہم گنتی کے کچھ افراد اب بھی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔اس کے باوجود کہ ماضی کی نسبت حال میں پولیس افسران اور اہلکارون کوزیادہ تنخواہیں اور مراعات دی جا رہی ہیں۔ان کو بہت زیادہ سہولیات دی جا رہی ہیں۔

مگر عام لوگوں کے ساتھ ان اہلکاروں کے رویے اور سلوک میں کوئی فرق نہیں آیا۔80کی دھائی کے وسط میں جب پشاور ہی کے ایک مقبول انگریزی اخبار سے منسلک ہوا تو پشاور صدر آنا جانا معمول بن گیا ہے۔اور دوپہر وشام کے وقت فٹ پاتھوں پر چھولے اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء فروخت کرنے والوں کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔کہ وہ کسی بھی اہلکار کو خالی ہاتھ نہیں دینے جائیں گے۔اس وقت سے لیکر اب تک پشاور صدر کے علاوہ پشاور شہر کے دیگرعلاقوں میں اب بھی اسی قسم کے حالات ہیں۔ماضی قریب میں ایک پولیس تھانے کے ساتھ ایک ہی گاڑی ہوا کرتی تھی جو کہ ایس۔ ایچ۔او۔ صاحب یا اس کا نامزد کردہ دوسرا افسر صرف چھاپے مارنے کے لئے استعمال کرتا تھا۔ مگر ایک ڈیڑھ دھائی قبل پولیس اہلکاروں کو موٹر سائیکل دیئے گئے۔مشاہدے میں آیا ہے۔کہ موٹر سائیکل سوار اہلکار دن بھر یا تو سائیکل سوار گنڈا ماروں کا پیچھا اور مک مکا کرتے ہیں۔ ا ب پہلے سے حالات نہیں سوشل میڈیا نے ہر کسی کی خبرلینے اور نظر رکھنے کے کام کوانتہائی آسان کردیا ہے‘ایک دو روز قبل سوشل میڈیا پر جو ویڈیو گردش میں رہا اس میں جو کچھ دکھایا گیا اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کچھ پولیس اہلکاروں کا رویہ وہی ہے اور وہ اسی طرح عوام اور خصوصا چھابڑی فروشوں اور دیگر اشیائے خوردنوش بیچنے والوں کو تنگ کرکے وصولیاں اب بھی ہورہی ہیں جس کا اعلیٰ حکام کو نوٹس لینا چاہئے ۔