بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پی ڈی اے وزیر اعلیٰ کے ماتحت ٗ بغیر اجازت تعمیراتی کاموں پر پابندی

پی ڈی اے وزیر اعلیٰ کے ماتحت ٗ بغیر اجازت تعمیراتی کاموں پر پابندی


پشاور۔خیبرپختونخواا اسمبلی میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور صحت سے متعلق تین بلوں کو پیش کئے جانے کے بعد کثرت رائے سے منظورکر لیا گیا پشاورڈویلپمنٹ اتھارٹی کے پیش کئے جانے والے بل کے تحت پی ڈی اے اب براہ راست وزیر اعلیٰ کے ماتحت ہوگی اور اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں اجازت کے بغیر ہر قسم کی رہائشی اور کمرشل سرگرمیوں کی تعمیراتی کاموں پر پابندی عائد ہوگی ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والے کارخانے، صنعتوں سے اخراج ہونے والا مادہ، دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں، تانگہ اور دیگر آلودگی پھیلانے والے یونٹس کو ختم کرنے اور کارخانوں کو مسمار کرنے کا اختیار اتھارٹی کے پاس ہوگاجبکہ مفاد عامہ کو سہولت بہم پہنچانے یا کسی ترقیاتی سکیموں کیلئے اتھارٹی کے پاس غیر منقولہ جائیداد اور اراضی کو حاصل کرنے کا بھی اختیار حاصل ہوگا۔

قانون پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں کم سے کم 3سال قید اور50لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل2017ء بل کو سینئرصوبائی وزیرعنایت اللہ نے پیش کیاجسے متفقہ طور پر منظور کیاگیا۔قانونی مسودے کے مطابق پی ڈی اے کا ڈائریکٹر جنرل گریڈ20کا آفیسر ہوگا جن کی تقرری 3سال کیلئے حکومت یا تو براہ راست عمل میں لائے گی یا پھر محکمہ بلدیات سے حکومت کو 3نام ارسال کئے جائینگے اور حکومت کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ ان تینوں ناموں میں سے کسی ایک نام انتخاب کرے قانونی مسودے کی شق 6کے تحت اتھارٹی کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ پشاور کی ترقی کیلئے جامع ترقیاتی منصوبہ تیار کرے اور ماسٹر پلان پر عملدرآمد ممکن بنانا ہوگا۔

اتھارٹی کے پاس اپنے زیر انتظام علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی، نکاس آب ، کچرا ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری ہوگی اتھارٹی اپنے لئے مشینری اور اراضی کی خریداری ، فروخت اوردیگر محکموں کیساتھ تبادلہ ور اسے لیز پر دینے کی بھی مجاز ہوگی کسی جاری ترقیاتی سکیم کو ٹھوس بنیادوں پر ختم کرنے اورٹیکسز، کرائے اور دیگر آمدن وصولی کا اختیار بھی اتھارٹی کے پاس ہوگا اتھارٹی اپنے زیر انتظام علاقوں میں باغات، گرین بیلٹس اور پبلک پارکس کی تعمیر اور ان کی دیکھ بھال کرے گی۔

اتھارٹی کار پارکنگ جگہ کی نشاندہی اور ان کی فیس کا تعین کرے گی قانونی مسودے کی شق10کے تحت ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے کو تین سال مدت پوری ہونے سے قبل ہٹانے کی صورت میں حکومت اس بات کا پابند ہوگا کہ ڈائریکٹر جنرل کو تین ماہ قبل آگاہ کرے جبکہ ڈائریکٹر جنرل بھی اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ تین سال مدت ملازمت پوری ہونے سے قبل ملازمت چھوڑنے کی صورت میں حکومت کو تین ماہ قبل آگاہ کرنا ہوگا۔

بل کے مطابق قانون پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں اتھارٹی کے پاس کسی بھی عمارت کو سیل کرنے کا اختیار ہوگا جبکہ سیل ہوئی عمارت کو کھولنے کی کوشش کرنے پر 3سال قید اور 50لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں تجاوزات قائم کرنے کی صورت میں3سال قید اور20لاکھ روپے جرمانہ ہوگا جبکہ غیر قانونی سکیموں پر 3سال قید اور50لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔

بل میں ترمیم کی منظوری دی گئی جسکے تحت ملازمین اپنے خلاف ہونے والے کارروائی کے خلاف سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کواپیل کرسکتے ہیں تاہم پی ڈی اے ملازمین سول سرونٹ نہیں ہونگے اورانہیں سروس ٹربیونل تک رسائی نہیں دی گئی ہے ۔سینئرصوبائی وزیر عنایت اللہ کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بل کوبھی متفقہ طورپرمنظورکیاگیا خیبر پختونخوا پبلک ہیلتھ سرویلنس اینڈ ریسپانس آرڈیننس 2017ء بل کے مطابق والدین یا پھر کسی خاندان کے سرپرست کو بھی اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ اگر ان کے بچوں کو کوئی ایسی بیماری ہے جو دوسرے بچوں کو آسانی کیساتھ منتقل ہوتی ہے تووالدین یا سرپرست اپنے بچوں کی بیماری سے متعلق متعلقہ سکول کے پرنسپل، استاد یا مدرسے کے انچارج کو آگاہ کرے گا۔

اس قانون کے تحت سرکاری اور نجی ہسپتال ،ریسٹورنٹس، سکول،مدارس اور نجی وسرکاری لیبارٹریز کو بیماری کی اطلاع کیلئے قانونی طور پابند ہوں گے جبکہ قانون کی خلاف ورزی پر6لاکھ روپے جرمانہ اور3سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے محکمہ صحت کی جانب سے ڈینگی،خسرہ،کانگو،چکن گونیا،پولیو، تشنج اور اس قسم کی خطرناک بیماریوں کی اطلاعات کی فراہمی افراد اور اداروں پر لازمی کردی گئی ہے ۔

محکمہ صحت صوبہ بھر یا پھر کسی مخصوص علاقے میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اورعالمی ادارہ صحت کی مشاورت سے صحت ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر سکتی ہے بیماریوں کی نشاندہی اور روک تھام کیلئے صوبائی سطح پر 19رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی کمیٹی کے چیئر پرسن وزیر صحت جبکہ سیکرٹری صحت وائس چیئرمین ہونگے کمیٹی کے دیگر ممبران میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائیلی امور، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک، ڈائریکٹر انفارمیشن، ڈائریکٹر فوڈ سیفٹی اتھارٹی، ڈائریکٹر جنرل انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ، چیف انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ڈائریکٹر ابتدائی و ثانوی تعلیم، چیف ایگزیکٹیو ہیلتھ کئیر کمیشن، صوبائی کوآرڈنیٹر ایمرجنسی آپریشن سنٹر، سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ایک نمائندہ، آپریشن آفیسر عالمی ادارہ صحت، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ شامل ہونگے۔

بیماریوں کی نشاندہی ، اطلاع اور روک تھام کیلئے صوبائی سطح پر سرویلنس سنٹر قائم کیا جائے گا جبکہ اس کیساتھ ساتھ سرویلنس رپورٹنگ دفتر قائم کیا جائے گا اور اضلاع کی سطح پر بھی ضلعی سرویلنس سنٹرز قائم کئے جائینگے اور ان سنٹرز میں بیماریوں کی نشاندہی اور اطلاع دی جائے گی محکمہ صحت کو بیماریوں کی اطلاعات اور صورتحال کے مطابق ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار ہوگا اور اسی اختیار کے تحت ہیلتھ کمیٹی کا چیئر مین یا نائب چیئر مین متعلقہ علاقوں میں دستیاب سرکاری مشینری اور افرادی قوت کو بیماریوں اور وباء کے خاتمے کیلئے ہدایات جاری کرسکے گا اور متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ ان احکامات پر عملدرآمد کی پابند ہوگی۔

صوبائی اوراضلاع کی سطح پر قائم کی جانے والی سرویلنس سنٹرز کسی بھی وبائی بیماری سے متعلق حکومت کو معلومات اور اعدادوشمار فراہم کریں گے اور بیماریوں سے نمٹنے کیلئے ایکشن پلان بھی مرتب کریں گے سرکاری ونجی ہسپتال،تعلیمی ادارے اور نجی وسرکاری شعبے کی لیبارٹریز بیماری سے متعلق اطلاع سرویلنس سنٹرز کوفراہم کرے گی قانون کے تحت متعلقہ افراد کے علاوہ عام فرد بھی ان بیماریوں سے متعلق اطلاع کی حکومت تک رسائی کا پابند ہوگامسودے کے مطابق قانون پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کو 6لاکھ روپے جرمانہ اور تین سال قید کی سزا دی جائے گی۔