بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان کے34فیصد افراد ڈپریشن کاشکارہونے کاانکشاف

پاکستان کے34فیصد افراد ڈپریشن کاشکارہونے کاانکشاف


پشاور۔ذہنی صحت کے عالمی دن کے مناسبت سے شعبہ امراض دماغی و نفسیات خیبرٹیچنگ ہسپتال پشاور سائیکاٹری یونٹ نے پشاور پریس کلب میں ایک سیمینار کا انعقاد کیاگیا جس میں چئیرمین شعبہ امراض دماغی و نفسیات خیبرٹیچنگ ہسپتال پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر سید محمد سلطان، ڈاکٹر اعزاز سمیت دیگر سینئر ڈاکٹروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹروں کا کہناتھاکہ ہرسال دس اکتوبر کو دنیا بھر میں ذہنی صحت کے عالمی دن کے طورپر منایاجاتاہے جس مقصد لوگوں اس بیماری سے متعلق آگاہی دینا ہوتاہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں 20فیصد اور پاکستان میں34فیصد لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں جبکہ پاکستان میں دیگر ملکوں کے نسبت اس بیماری کا شرح زیادہ ہے پاکستان 34فیصدافراد بچوں سمیت صرف ڈپریشن کے شکار ہیں یعنی ہر تیسرا شخص ڈپریشن کا شکار ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے صوبے اس کا شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔جس کا بنیادی وجہ لاقانونیت،دہشتگردی،غربت،بیروزگاری،منشیات اورتعلیم کی کمی ہے۔

ہمارے صوبے میں منشیات کااستعمال عام ہے جس سے بچوں سمیت خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں WHOکے عدادوشمارکے مطابق دینابھرمیں 30کروڑلوگ منشیات کے عادی ہے جبکہ پاکستان میں 67لاکھ منشیات کے عادی لوگ ہیں اوراس میں دن بدن اضافہ ہورہاہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان میں صرف چارسوماہرنفسیات ہیں یعنی پانچ لاکھ مریضوں کیلئے صرف ایک ماہرنفسیات ہے۔انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیاکہ منٹل ہیلتھ ایکٹ کوفوری طورپرمنظورکرکے عملی کیاجائے تاکہ ان مریضوں کے حقوق کی حفاظت کی جاسکے۔