بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاک امریکہ تعلقات :بندگلی !

پاک امریکہ تعلقات :بندگلی !


امریکہ بھارت تعلقات تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہے ہیں‘ جن کے ذریعے درپردہ پاکستان کو پیغام دیا جارہا ہے اور یہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے لئے ایک پرخطر دور ہے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان پر گہری نظر رکھنے اور اسکے دہشت گردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہونے کے حوالے سے امریکہ کو معاونت فراہم کر سکتا ہے‘امریکی سفیر نے واشنگٹن میں امریکہ بھارت دوستی کونسل کی تقریب میں یہ بھی کہا کہ افغانستان اور جنوبی ایشیاء میں امریکہ کا مفاد وہاں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ ہے جو امریکی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔‘‘ ری پبلکن ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد اسوقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف سے ٹیلی فونک بات چیت کے دوران پاکستان کے لئے جن نیک توقعات کا اظہار کیا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے جو کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہرکی اس کا بعدازاں امریکی نائب صدر نے اعادہ کیا‘ اس سے پاکستان امریکہ تعلقات خوشگوار ماحول میں مثبت دھارے پر استوار ہوتے نظر آئے اور یوں محسوس ہوا جیسے ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے پاکستان اور مسلمانوں پر ملبہ ڈالنے والے اپنے انتخابی منشور اور بیانات کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں تاہم صدر کے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں ہی مسلمانوں اور پاکستان کے حوالے سے پہلے سے بھی زیادہ تلخ لہجہ اختیار کرلیا اور اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح ایجاد کرکے انہوں نے ہر قسم کی دہشت گردی کا ناطہ دین اسلام کے ساتھ جوڑنے کی اپنی سوچی سمجھی حکمت عملی کا اظہار کردیا اس کے بعد کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب ٹرمپ انتظامیہ اور خود ٹرمپ کی جانب سے پاکستان سے ڈومور کے تقاضے کرتے ہوئے اسے مطعون ٹھہرانے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔

ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے لئے امریکہ کی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے تو پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے موردالزام ٹھہرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور پاکستان سے حقانی گروپ اور دیگر کالعدم تنظیموں کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کیخلاف سخت کاروائی کا ہدایت نامہ جاری کرکے یہ بھی باور کرادیا کہ بصورت دیگر پاکستان کو امریکہ کی جانب سے ملنے والی فوجی اور سول گرانٹ میں کمی یا اس کے مکمل خاتمہ‘ فرنٹ لائن اتحادی کی حیثیت کی واپسی اور ڈرون حملے بڑھانے جیسے سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘ پاکستان کے بارے میں یہی لب و لہجہ بعدازاں امریکی نائب صدر‘ وزیر خارجہ‘ وزیر دفاع اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے بھی اختیار کیا جبکہ بھارت کیساتھ ٹرمپ انتظامیہ کی دوستی گہری ہوتی چلی گئی‘ اس صورتحال میں پاک امریکہ تعلقات انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہوتے نظر آئے اور پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کو یہ باور کرانے پر مجبور ہوگیا کہ اب ہمارے لئے ڈومور نہیں ہوگا بلکہ ہماری جانب سے نومور ہوگا‘ پاکستان کے اندر کاروائی کے اعلان اور ڈرون حملے بڑھانے کی امریکی دھمکی محض زبانی جمع خرچ نہیں تھی بلکہ پاکستان کی سرزمین پر یکے بعد دیگرے دو ڈرون حملے کرکے امریکہ اس دھمکی پر عملدرآمد کرچکا ہے۔ اس تناظر میں تو بھارت کو پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے جبکہ اب اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے یہ انکشاف بھی کردیا ہے کہ بھارت درحقیقت دہشت گردوں کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کی نگرانی کے لئے امریکہ کی معاونت کررہا ہے۔ جس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف ہی ہوا ہے۔

‘ امریکہ پاکستان کو مجبور کررہا ہے کہ وہ اس کے مفادات کی خاطر اپنے سفاک دشمن بھارت کی نگرانی بھی قبول کرلے اور اسی طرح جانی اور مالی قربانیاں بھی دیتا رہے تو پھر پاکستان کے پاس اپنی سلامتی کے تحفظ کے لئے جوہری ٹیکنالوجی بروئے کار لانے کے سوا کیا آپشن باقی رہ جاتا ہے؟اگر امریکہ پاکستان کی سلامتی کے درپے بھارت کے ہاتھ مضبوط کرے گا تو پاکستان کے لئے بھی اپنی دفاعی ضروریات کیلئے چین‘ روس اور ایران سے روابط بڑھانے اور معاونت حاصل کرنے کے راستے کھلے ہوئے ہیں‘ امریکہ کی سیاسی قیادت پاکستان کو ’بند گلی‘ میں دھکیل رہی ہے‘ جس کے اندر اندھیرا ہی اندھیرا ہے اور روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی‘ امریکہ خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ کر اور پاکستان کے مفادات کیلئے خطرہ بننے والے عناصر کی پشت پناہی کرتے ہوئے جو کچھ بھی ثابت یا حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے اپنے حق میں بہتر نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان کی خطے میں اہمیت اور اثرورسوخ کسی طور نہ تو کم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان کا دفاع اتنا کمزور ہے کہ اسے کسی کی حمایت کی ضرورت ہو۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر طارق جاوید۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)