بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / میگاپراجیکٹ

میگاپراجیکٹ


تنقید برائے تنقید نہیں ہونی چاہئے۔ شام کو واپس گھر لوٹنے والوں نے اگربس ریپڈ ٹرانزٹ کے نام سے پبلک ٹرانسپورٹ منصوبہ شروع کر ہی دیا ہے تو کیا قریب پشاور کے کسی ایک اور اجتماعی بہبود کے ترقیاتی منصوبے کے لئے ’پچاس ارب روپے‘ کا بندوبست کرنا معمولی بات ہے؟ بھلے ہی مذکورہ تیئس کلومیٹر پر مشتمل خصوصی راہداری چھ ماہ کے عرصے میں مکمل نہ ہو لیکن کم سے کم انیس اکتوبر کے روز سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے اور یہ سفر کا وہ مقام ہے جہاں سے اب واپسی ممکن نہیں۔ پشاور کے واجب الادا حقوق کی طویل فہرست کی جانب یک سوئی بھی تحریک انصاف کی مرکزی اور صوبائی قیادت کا فراخدلی کا اظہار ہے‘ جس سے یقیناًآئندہ عام انتخابات میں فائدہ بھی ہوگا لیکن بس ریپڈ ٹرانزٹ کے لئے تجاوزات ختم کرنے کے حکم کو صرف اس منصوبے کی حد تک محدود نہ رکھا جائے اور نہ ہی اِس کا اطلاق صرف اور صرف عام آدمی پر ہونا چاہئے۔ آئندہ چھ ماہ یا اس سے زائد عرصہ اہل پشاور کے لئے تکلیف دہ ہوگا کیونکہ بس منصوبے کیلئے پشاور کی انہی سڑکوں کا انتخاب کیا گیا ہے جو پہلے سے زیراستعمال ہیں۔ کیا پچاس ارب روپے سے نئی روٹس کی تعمیر نہیں ہو سکتی تھی اور پشاور کیلئے بس کی بجائے میٹرو ٹرین کا منصوبہ کیا زیادہ ماحول دوست ثابت نہ ہوتا؟پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ سے معمول کی ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوگا‘ جس کیلئے خصوصی ٹریفک پلان کا اجرأ کردیا گیا ہے لیکن اس کا اطلاق ہرخاص و عام پر ہونا چاہئے۔

جملہ ضائع نہیں ہوا کہ پاکستان کی تعمیروترقی بصورت دیگر بھی ممکن ہے لیکن بدعنوان حکمرانوں کوایسی طرزحکمرانی راس نہیں آ سکتی جس میں قوانین اور نظام تعلیم طبقات کے لئے الگ الگ ہو۔ڈاکٹر شعیب سڈل اکنامکس اور کریمینالوجی کے مضامین میں تحصیل یافتہ ہیں اور بالخصوص ان کی ڈاکٹریٹ کی سند میں وائٹ کالر کرائم کا کھوج لگانے کا احاطہ کیا گیا۔ ڈاکٹر شعیب سڈل نے واقعہ سنایا تھا کہ راولپنڈی میں منعقدہ ایک عالمی سیمینار میں شرکت کے لئے بیرون ملک سے آنے والے وفود میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے‘ جن میں جاپان پولیس کے سربراہ سے ڈی آئی جی (راولپنڈی) نے باتوں باتوں میں پوچھا کہ: ’’کیا جاپان میں پولیس پر سیاسی دباؤ ہوتا ہے؟‘‘ جاپان پولیس کے چیف نے تھوڑی دیر سوچا اور اس کے بعد جواب دیا ’’ہاں لیکن ایسا صرف ایک ہی مرتبہ ہوا۔‘‘ سب ہمہ تن گوش ہوگئے‘ چیف نے بتایا کہ اُنیس سو تریسٹھ میں برطانیہ کے وزیر خارجہ جاپان کے دورے پر آئے‘ وہ ایک دن کے لئے اساکا شہر گئے‘ دوسرے دن اُن کی جاپانی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات طے تھی۔ اساکا سے پرائم منسٹر ہاؤس کے راستے میں ایک مقام پر ٹریفک جام ہو گئی‘ ان کے ساتھ موجود پروٹوکول آفسر نے پولیس سربراہ سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ خصوصی بندوبست کرکے انہیں ٹوکیو پہنچا دیں۔

پروٹوکول افسر کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیر خارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات انتہائی ضروری ہے اگر وہ بروقت نہیں پہنچتے تو یہ ملاقات ملتوی ہو جائے گی کیونکہ جاپانی وزیراعظم چین کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے۔ پولیس چیف نے ان کی بات سن کر مؤدبانہ انداز میں معذرت کرلی‘ اس کے بعد وزیراعظم نے بذات خود پولیس چیف سے درخواست کی لیکن مؤقف وہی کا وہی تھا کہ ہمارے پاس وی وی آئی پیز کو ٹریفک سے نکالنے کا کوئی بندوبست نہیں اور نہ ہی قواعد میں اِس کی گنجائش ہے کہ عام ٹریفک کو روک اہم شخصیات کو راستہ دیا جائے۔‘‘ پھر وہی ہوا کہ جس کا اندیشہ تھا کہ برطانوی وزیرخارجہ کی جاپان کے وزیراعظم سے طے شدہ نہایت ہی اہم ملاقات منسوخ ہو گئی جس کی وجہ سے جاپان اور برطانیہ کے تعلقات کشیدہ رہے۔ جاپان کے پولیس چیف یہ کہہ کر خاموش ہوگئے‘ ہمارے ڈی آئی جی نے شدت جذبات میں پہلو بدلا اور اُن سے پوچھا کہ ’’پھر اُس کے بعد کیا ہوا؟‘‘جاپانی پولیس چیف مسکرائے اور کہا کہ ’’اس کے بعد کیا ہونا تھا‘ یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی۔ تبصرے ہوئے۔ عوامی سطح پر بحث شروع ہو گئی اور عوامی حلقوں نے جاپانی وزیراعظم کے اِس رویئے پر شدید احتجاج کیا جس کے نتیجے میں جاپان کے وزیراعظم کو قوم اور پولیس دونوں سے معافی مانگنا پڑی!‘‘ ہمارے ڈی آئی جی ہکابکا تھے ان کے لئے یہ بات انوکھی تھی‘ چنانچہ انہوں نے حیرت سے پوچھا اگر پولیس چیف کے انکار کو وزیراعظم اپنے منصب کی توہین سمجھتے تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا؟ جاپانی پولیس چیف نے کہا ’’ایسی صورتحال میں وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑتا۔‘‘ ہمارے ڈی آئی جی صاحب کا رنگ پیلا ہوگیا اور انہوں نے حیرت سے پوچھا کیا جاپان میں پولیس چیف اتنا مضبوط ہوتا ہے؟ جاپانی پولیس چیف نے ہنس کر جواب دیا’’نہیں ہمارے ملک کا قانون‘ انصاف اور داخلی سلامتی کا نظام مضبوط و مربوط ہے۔‘‘