بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / وزیراعظم کا ڈی ایٹ اجلاس سے خطاب

وزیراعظم کا ڈی ایٹ اجلاس سے خطاب


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ دہشتگردی کا خاتمہ کر رہے ہیں جبکہ سلامتی کی صورتحال میں بہتری سے معیشت بحال ہوئی ہے استنبول میں ہونے والی ڈی ایٹ سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈی ایٹ کے رکن ملکوں میں تجارت کا حجم کم ہوا ہے ٹریڈ کے فروغ میں رکاوٹوں کو دور کرنا ہو گا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے اکانومی مستحکم ہوئی جبکہ خطے میں توانائی کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے وہ ڈی ایٹ کے رکن ملکوں کے درمیان ریل‘ سڑک اور دوسرے ذرائع سے مضبوط شراکت داری کی خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں مہیا تفصیلات کے مطابق ڈی ایٹ کے رکن ممالک کی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے جبکہ مشترکہ شرح نمو37 کھرب ڈالر سے زائد ہے ‘

دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ عالمی جریدے نے پاکستان کا شمار دنیا کی ابھرتی معیشتوں میں کیا ہے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ہمیں10 سال کی بلند ترین شرح نمو حاصل کرنے میں کامیابی ملی ہے جبکہ سی پیک کی بدولت سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کا ری بھی ہوئی ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی بینک سیاسی انتشار کو معیشت کیلئے خطرہ قرار دیتا ہے ‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کو درپیش چیلنجوں کے تناظر میں اقتصادی شعبے کی کارکردگی کااحاطہ کرتے ہیں جبکہ وزیر داخلہ شرح نمو کو گزشتہ دس سال کے تناظر میں مثالی قرار دیتے ہیں مجموعی اقتصادی اعشارئیے بھی ان ساری باتوں کی تصدیق کرتے ہیں ۔

جبکہ اس سب کے باوجود عام شہری ریلیف نہیں پا رہا‘ تجارتی خسارہ بڑھنے پر اس شہری پر اربوں کی نئی ریگولیٹری ڈیوٹی کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے ‘ گرانی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ مرکز اور صوبوں کی سطح پر ایسا کل وقتی سیٹ اَپ نہیں جو مارکیٹ کنٹرول کر سکے ‘ بیرونی قرضوں کے بڑھتے بوجھ میں وزیر اعظم کا یہ کہنا قابل اطمینان ہے کہ اَب آئی ایم ایف سے کوئی نیا قرضہ نہیں لیا جائے گا۔حکومت کی معاشی شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے اعداد وشمار قابل اطمینان سہی تاہم عام آدمی عملی ریلیف کا ہنوز منتظر ہے معیشت کے مزید استحکام اور قرضوں سے گریز میں بھی اگر یہ بوجھ ٹیکس کی صورت عام آدمی پر ہی پڑتا رہے تو اس کی مشکلا ت میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا ضرورت حکومتی اقدامات کے مثبت اثرات عوام کو ریلیف کی صورت پہنچانے کی ہے جس کے لئے حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی ۔

برن سنٹر کے لئے ڈیڈ لائن

خیبر پختونخوا میں اپنی نوعیت کے پہلے برن اینڈ ٹراما سنٹر کی تکمیل کیلئے 6 ماہ کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے یہ ٹائم فریم سیکرٹری محکمہ امداد باہمی ظاہر شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں دیا گیا ‘ اجلاس میں محکمہ تعمیرات کو پراجیکٹ پر کام سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ دینے کی ہدایت بھی کی گئی جبکہ اجلاس میں یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ ٹھیکیداروں کو ابھی تک کام دینا بھی باقی ہے ‘ برن سنٹر کی اہمیت اور ضرورت سے متعلق کوئی دوسری رائے نہ ہونے کے باوجود اس کے قیام میں مسلسل تاخیر کا نوٹس عدالت عالیہ نے بھی لیا ہے برسوں پرانے منصوبے کی تکمیل کے لئے اَب ٹائم فریم دینا قابل اطمینان سہی تاہم ماضی کی سست روی کو دیکھتے ہوئے ضرورت اس بار پراجیکٹ کی بروقت تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ہے جس کے لئے وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کو سختی سے ہدایات جاری کرنا ہوں گی۔