بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / 20 دینی، سیاسی جماعتوں پر مشتمل تحریک تحفظ ختم نبوت کا قیام

20 دینی، سیاسی جماعتوں پر مشتمل تحریک تحفظ ختم نبوت کا قیام


لاہور۔ ملک کی قابل ذکر 20بڑی دینی وسیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کا مشترکہ اجلاس لاہور مرکز تحفظ ختم نبوت میں مولانا پیر سلمان منیر سجادہ نشین خانقاہ سمبڑیال شریف کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ورلڈ پاسبان ختم نبوت،جے یو آئی،جے یو پی ،مسلم لیگ ق، عالمی تحریک تحفظ ختم نبوت ،جماعت اسلامی،پیپلز موومنٹ بھٹو شہید،تحریک تحفظ حرمین شریفین، خاکسار تحریک،جمعیت اہلحدیث،جمعیت اہلسنت، تحریک ملت جعفریہ<

 

تحریک حرمت رسولؐ،مجلس احرار اسلام،انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ،پاکستان شریعت کونسل، مصطفائی جسٹس موومنٹ،تحریک تحفظ ناموسِ رسالتؐ،اہلحدیث یوتھ فورس،متحدہ علماء کونسل پر مشتمل تحریک تحفظ ختم نبوت کے قیام کا اعلان کیا گیا اور ختم نبوت حلف حذف کرنیوالوں کو سزا نہ دینے اور حکومت کے قادیانیت نواز اقدامات کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے پر اتفاق کیا گیا اور کل مسالک ورلڈ پاسبان ختم نبوت کے سربراہ علامہ محمد ممتاز اعوان کو تحریک تحفظ ختم نبوت کا کنوینئر اور مذکورہ بالا 20دینی وسیاسی جماعتوں کے راہنماؤں پیر سلمان منیر<

 

حافظ حسین احمد،علامہ زبیر احمد ظہیر، مولانا زاہد الراشدی،مولانا محمد الیاس چنیوٹی (ایم پی اے)الحاج پیر ولی اللہ شاہ،صاحبزادہ احسان الہٰی ظہیر، پیر جمشید احمد نورانی،مولانا عبد الرؤف فاروقی،میاں محمد اصغر،مولانا شبیر احمد عثمانی،مولانا محمد یوسف احرار،مولانا محمد حنیف حقانی، حافظ شعیب الرحمن ،مفتی عاشق حسین،مولانا الطاف الرحمن،علامہ وقارحیدر نقوی،حافظ زکر الرحمن صدیقی ،علی عمران شاہین مولانا محمد اسلم ندیم کو تحریک تحفظ ختم نبوت کنوینئر کمیٹی کا ممبر منتخب کیا گیا<

 

دینی و سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں 3رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر نواز شریف کا کارروائی نہ کرنے پر شدید احتجاج کیا گیا اور کہا گیا کہ ختم نبوت کا حلف نامہ حزف کرنیوالوں اور ختم نبوت کاز کو نقصان پہنچانے کے مرتکب وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو برطرف نہ کرنے کیخلاف نہ صرف بھرپور احتجاج کیا جائیگا

 

بلکہ پورے ملک میں احتجاج کے سلسلہ اور اور وسیع تر کیا جائیگااور 27اکتوبر کو لاہور سمیت چاروں صوبوں کے بڑے بڑے شہروں میں احتجاجی جلوس و ریلیاں نکالیں اور بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے جائینگے اور ان میں غیور مسلمانوں سے ختم نبوت کے غداروں کو آنیوالے انتخابات میں اپنا ووٹ نہ دینے کی شرعی مہم بھی چلائی جائیگی۔