بریکنگ نیوز
Home / کالم / کہ ختم ہم نے ابھی داستاں نہیں کی

کہ ختم ہم نے ابھی داستاں نہیں کی


اس جیتی جاگتی زندگی کے ایک سرے پر وقت اور حالات نے گہرے رنگوں کے دائرے کھینچ رکھے ہیں جن کے رنگ لال بھی ہیں اور شنگرفی بھی جو آنکھوں کو خیرہ بھی کرتے ہیں اور اعصاب کو مضمحل بھی کردیتے ہیں کہ یہ دائرے شب و روز کی تلخ حقیقتوں سے عبارت ہیں اور جس کی وجہ سے بے چینی اور بے یقینی کی بوجھل فضا سانسوں کو چھوٹا چھوٹا کر دیتی ہے‘ جبکہ دوسرے سرے پر دور تک کچھی ہوئی وہ لکیریں ہیں جن کے رنگ سبز اور نیلے ہیں جو آنکھوں میں اطمینان اور دلوں میں سکون بھر دیتے ہیں‘ شوخ سرخ رنگ اور گندھک وپارہ کے امتزاج سے وجود میں آنے والے شنگرفی رنگ جوہمیں جذباتی بھی بناتے ہیں اور بے چین و مضطرب بھی رکھتے ہیں کیونکہ یہ رنگ ہمارے اردگرد کی تلخ حقیقتوں اورسفاک سچائیوں سے ہمیں نبرد آزما رکھتے ہیں اور دوسری طرف سبز اور نیلے رنگوں کی دنیا ہے جہاں سکون ہے‘ اطمینان ہے اور جو ہماری جائے پناہ بھی ہے اور جہاں ہم ایک پرامن اور انسان کیلئے ایک خوشحال بستی کی منصوبہ بندی بھی کر سکتے ہیں‘ یہ دنیا ہمارے خوابوں کی دنیا ہے‘اگرچہ ان دو انتہاؤں کے درمیان بھی ہم بیک وقت کئی دنیاؤں میں زندگی کر رہے ہوتے ہیں اور ذاتی اور اجتماعی ان دنیاؤں کے کئی شیڈز اور کئی جہتیں ہیں مگر بنیادی حوالے یہی دو ہیں حقیقت اور خواب کی دنیا جو کسی بھی تخلیق کار کیلئے دہرے عذاب کا باعث بنتی ہے‘ ایک دنیا رہنے کے قابل نہیں ہے اور دوسری حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتی سو اسکا ٹھکانہ دونوں جگہوں پر ہوتا ہے‘عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ

دو جگہ رہتے ہیں ہم ‘ایک ہے یہ شہرِ ملال
او ر اک شہر جو خوابوں میں بسایا ہوا ہے

اسی شہر ملال کا ایک جیالا باسی طاہر گل بھی ہے جسے علم ہے کہ شعر و ادب کے لئے وہ فضا درکار ہے جہاں انسانی رشتوں کا اعتبار قائم ہواور اس شہر ملال میں اس کی کوئی جھلک ملتی ہے اور نہ ہی کسی کو اس کا احساس ہے تو پھر وہ اپنے لئے ایک خواب کی ایک بستی آباد کرتا ہے‘ اس کے یہ خواب سونے سے زیادہ کھلی آنکھوں کے خواب ہیں‘خوابوں کا یہ سلسلہ اس کی انسان دوستی سے بھی جڑا ہوا ہے اور شعر و ادب کی اس تاریخ سے بھی جو وہ آنے والے زمانے کیلئے مرتب کر رہا ہے‘ شعر کی تصوراتی دنیا اور حقائق کی جدلیت کو کبھی پرکھنا ایک مثبت سرگرمی رہا ہو گا ‘مگر اب دونوں ایک ہی فضا میں سانس لے رہے ہیں اس لئے طاہر گل کوشہر ملال اور خوابوں کی بستی کے درمیاںآمدورفت کی سہولت میسر ہے‘یوں بھی وہ ایک خود آگاہ شاعر ہے اور اسکا شعر اپنے لوگوں کو کسی الجھن میں مبتلا کئے بغیر اپنا تعارف کرواتا ہے صرف اپنا نام ہی نہیں بتاتا دوستی کیلئے ہاتھ بھی بڑھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ خوابوں کے اسی تسلسل کی کڑی ہے جو وہ اپنے لوگوں کے سکون اورامن کیلئے دیکھتا ہے طاہر گل کے نام کے دونوں حصے بہت با معنی ہیں اور وہ ارگرد کی ساری اشیا کو اسی طرح پاکیزہ شگفتہ اور معطر دیکھنے کا تمنائی ہی نہیں ایک نظریاتی شخص ہونے کے ناتے اس کیلئے کو شاں بھی ہے ۔ اسکے شعر کا فکری نظام انہی پاکیزہ اور شفاف جذبوں کی دین ہے جو اسکے خوابوں کو معتبر بناتے ہیں میں نے اسلئے اسے ایک خود آگاہ شاعر کہا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ

چھلکتی آنکھ ذرا دیر تخم اشک سنبھال
کہ فصل خواب کہیں میرے انتظار میں ہے
یہ فصل خواب اس کے شعری مجموعہ سلسلۂ خواب کی زمینوں میں خاصی پھلی پھولی ہے اور یہاں وہاں سر سبز و شاداب نظر آتی ہے کیونکہ اس کو طاہر گل نے اپنے خون دل سے سینچا ہے اپنے سچے جذبوں سے پروان چڑھایا ہے اور اپنے رت جگوں سے اسے توانا اور فربہ کیا ہے ‘ اسی لئے وہ پورے اعتماد سے کہتا ہے کہ
جب تمہارے خواب کی تعمیر ممکن ہی نہیں
پھر ہمارے خواب کی تجسیم ہو نی چاہیے
میں نے جتنا وقت بھی سلسلۂ خواب کے شعر کے ساتھ بسر کیا ہے اس نے مجھے طاہر گل کے قریب کر دیا ہے، پہلے پہل جب میں یہا ں وہاں اس کی شاعری سنتا پڑھتا تھا تومیں سوچتا تھا کہ آخر اس کا مسئلہ کیا ہے کہ وہ تواپنے رکھ رکھاؤمیں ایک حقیقت پسند نظریاتی شخص ہے تو پھر یہ خوا ب اور وہ بھی ایک تواتر کے ساتھ اسکے شعر میں کیا کر رہے ہیں کیونکہ خواب کو تو فرار کی ایک صورت سمجھا جاتا ہے لیکن جب میں اس کے شعر کی دنیا میں داخل ہوا توپتہ چلا یہ خواب وہ نہیں جو نارسائیوں اور محرومیوں کے نتیجہ میں خود کو سکھی رکھنے کے لئے آنکھیں بنتی ہیں ،یہ خواب تو حقیقت سے زیادہ سفاک اور اذیت ناک ہیں ان خوابوں کی تعبیر تو پاؤں کی زنجیر کیساتھ مشروط ہے یہ تو جرم کی تعزیر سے پہلے پلکوں پر سجنا چاہتے ہیں تا کہ انکے کرب کے سامنے تعزیر بھی سر نگوں ہو جائے ‘شاید اس لئے وہ چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ سارے خواب عذاب اور اسے یہ بھی خبر ہے کہ
مرا سخن تو ہے میرے ضمیر کی آواز
یہ میرا درد بھی ہے میرا احتجاج بھی ہے

وہ یہ ان خوابوں کی فصلیں اس لئے بھی کاشت کرتا ہے کہ اس کے ارد گرد ان لوگوں کی بھیڑ ہے جو کسی طلسم کے اثر میں ہیں کسی نے ان پر منتر پھونک دیا ہے اس لئے اب وہ اپنے حواس میں نہیں ہیں یہ نشانیا ں کس طوفان کی ہیں اس کا ادراک شایدکسی کو نہیں ورنہ کہیں سے تواحتجاج کی صدابلند ہوتی ، بو کھلائے ہوئے لوگوں کی موجودگی میں ایک لمحہ کو تو سلسلہ خواب کا شاعر بھی الجھ کر رہ جاتا ہے اور اسے ساتھ بیٹھے ہوئے احباب سے تذکرۂ خواب کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے لیکن اس کے شہر سے نہ سہی اس کے علاقے میں جنم لینے والے قتیل شفائی نے ایک بار کہا تھا کہ کہ ’’میں ان انسانوں کے لئے شعر بنتا ہوں جو میری شاعری کے کردار بھی ہیں اور قاری بھی اور جو خلا میں نہیں زمیں پر بستے ہیں ‘‘ اس لئے طاہر گل بھی انہی زمیں زادوں میں بسر کرتا ہے انہی کے دکھ سکھ میں شرابور رہتا ہے انہی کیلئے بشارتوں بھری فصل خواب کاشت کرتا ہے اور ا نہی کیلئے شعر بنتا ہے اسی لئے وہ کہتا ہے ’’ انسان ہوں انساں کی طرح سوچتا ہوں ۔‘‘ اور انسانوں کیلئے ہی وہ سوچتا ہے کیونکہ اسے یہ بھی علم ہے ’’ زمیں کے دکھ کو زمیں آپ ہی سمجھتی ہے ‘‘اسلئے وہ ان دکھوں کے مداوے کیلئے دوسروں کی طرف نہیں دیکھتا‘ وہ جو خواب بنتا ہے ان خوابوں کی تعبیر کتنی بھی سہانی کیوں نہ ہو خواب دیکھنے کا یہ عمل از حد اذیت ناک ہے اور پھر یہ درد کی ایک ایسی ختم نہ ہونے والی زنجیر ہے جس کا شور نہ سونے دیتا ہے نہ جاگنے یوں سمجھئے یہ کہانی ایک ایسی جاب پر مامور شاعر کی کہانی ہے جس میں چھٹی کہانی کے اختتام سے باندھ دی گئی ہے اور کہانی کب ختم ہو گی اس کی بشارت تو خوابوں میں بھی نہیں ملتی،چہ جائیکہ داستان گو،خود بھی اسے ختم نہ کرنا چاہے شاید،ابھی اسکے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے اور ابھی اس میں خواب اور خون کی اذیت برداشت کرنے اور بیان کرنے کا بہت حوصلہ ہے اس لئے مجھے بھی یقین ہے کہ طاہر گل درد کی زنجیر کا یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔ کیونکہ وہ خود کہتا ہے
ابھی تو سلسل�ۂ خواب و خون جاری ہے
کہ ختم ہم نے ابھی داستاں نہیں کی