بریکنگ نیوز
Home / کالم / تعلق بوجھ بن جائے…..

تعلق بوجھ بن جائے…..


ننگر ہار‘ افغانستان کے گورنر گلاب منگل فرماتے ہیں پاک افغان بارڈر پر خاردار تار لگانے یا دیوار اٹھانے سے نفرتیں بڑھیں گی ہم بھی اور ہم جیسے کئی لوگوں کا کل تک یہی خیال تھا کیونکہ ہمارے اکثر قبائلی بھائی ’دوہ کورا‘ ہیں یعنی ایک بھائی ڈیورنڈ لائن کے اس پار رہتا ہے تو دوسرا اس جانب‘ ان کا آپس میں روزانہ کا ملنا جلنا خوشی غمی میں ایک دوسرے کے گھر جانا زندگی کا معمول ہے لیکن بارڈر پر حالا ت کچھ اس قدر کشیدہ ہو گئے ہیں کہ اب اس کے بجز کوئی چارہ نہیں کہ عقابی آنکھوں سے نگرانی کی جائے افغانستان کے اندر کوئی دہشت گردی کی واردات ہو جائے تو افغان حکام جھٹ سے اس کی ذمہ داری ہم پر تھوپ دیتے ہیں کئی لوگوں کا موقف یہ ہے کہ وطن عزیز میں امن عامہ کو تباہ کرنے کے جو واقعات رونما ہوتے ہیں انکے پیچھے بھارت کا چھپا ہوا ہاتھ ہے جو افغانستان میں موجوداپنے گماشتوں کے ذریعے وہ پاکستان میں تواتر سے کروارہا ہے سگے بھائیوں میں اگر کسی بات پر تنازعہ ہو جائے تو وہ اپنے گھروں میں اپنے اپنے حصوں میں دیوار چڑھا دیتے ہیں امن کے قیام کیلئے کڑوا گھونٹ پینا پڑتا ہے یہ درست ہے ڈیورنڈ لائن2500 کلو میٹر لمبی لائن ہے پاک افغان بارڈر کو پورس بارڈر کہا جاتا ہے یعنی اس میں اتنے چھید ہیں۔

کہ اس کو کئی جگہوں سے کراس کیا جا سکتا ہے اس لمبی لائن پر جگہ جگہ خاردارتار لگانا اور پھر اس کی حفاظت کیلئے وہاں قلعے یا پوسٹیں تعمیر کرنا مشکل کام ہے اور پھر ان میں فوجیوں کو تعینات کرنا اور دشوار راستوں کو طے کر نا‘ان کیلئے راشن اور لاجسٹک کا بندوبست کرنا جان جوکھوں کا کام ہے اور اس کیلئے ایک خطیر رقم بھی درکار ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن ہے ؟ بھارت تو اپنی پاکستان دشمنی کی پالیسی سے باز نہیں آئے گا وہ تو اپنی چیرہ دستی سے کبھی بھی باز نہیں آئے گا اور جہاں اور جب بھی اسے موقع ملے گا وہ ہم پرچرکا لگانے سے گریز نہیں کرے گا اور پھر یہ نہایت ہی عجیب بات ہے کہ پاکستان دنیا میں غالباً اپنی مثال آپ ہو گا کہ جہاں بارڈر کنٹرول کا نظام نہایت کمزو ر ہے جس کا دل چاہتا ہے وہ باآسانی وطن عزیز میں داخل ہو سکتا ہے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی ہوم لینڈ سکیورٹی اتنی سخت اور فول پروف بنا ڈالیں کہ جتنی امریکہ اور جرمنی نے بنا رکھی ہے افغانستان پر ایک نظام کے تحت انکے پاس پاسپورٹ ہو اور اس پرویزا لگا ہو کہ جس طرح مہذب ممالک کا وتیرہ ہے ۔

یہ کہاں کا طریقہ ہے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا منہ اٹھائے افغانستان کا بارڈر کراس کرکے عارضی دستاویزات پر پاکستان کا رخ کرتا ہے یہ درست ہے افغانستان اور پاکستان ہمسایہ ملک ہیں جو اسلام کی تسبیح میں پروئے ہوئے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اور افغانستان علیحدہ علیحدہ ملک ہیں بالکل اسی طرح کہ جس طرح دیگر اسلامی ممالک‘ ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کی جغرافیائی حدود کا احترام کرنا چاہئے افغانستان کو تو پاکستان کے اس اقدام کی تعریف کرنی چاہئے کہ وہ تن تنہا افغانستان یا امریکہ سے کسی مالی امداد کے بغیر پاک افغان بارڈر پر نگرانی کا عمل سخت کر رہا ہے کیونکہ اس سے تو افغانستان کابھی فائدہ ہو گا جو افغانستان میں ہونے والی ہر تخریبی کاروائی کی ذمہ داری کا ملبہ پاکستان پر پھینک دیتا ہے جب پاک افغان بارڈر پر باڑ لگ جائیگی تو پھر دہشت گرد کس راستے آجا سکیں گے نہ رہے بانس نہ بجے بانسری شاعر نے سچ کہا ہے کہ تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا‘ تعارف روگ بن جائے تو اس کو بھولنا بہتر ۔