بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / مجلس عمل کی بحالی

مجلس عمل کی بحالی


اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلافات کو عوامی سطح پر اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتااور پاکستان کے عوام کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ کم ازکم میدان سیاست کی مذہبی جماعتو ں کی اعلیٰ قیادت انھیں خلوص نیت کیساتھ ایک پلیٹ فارم سے مشترکہ طور پر اپنے سیاسی پروگرام کو آگے بڑھاتی نظر آئے ‘ اب جبکہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کو سیاسی مستقبل کیلئے بہتر آپشن سمجھتے ہوئے ملک کی مذہبی سیاسی جماعتیں ایک مرتبہ پھر اس اتحاد میں نئی روح پھونکنے کی کوشش میں ہیں اس عمل کو یقیناًایک حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ایم ایم اے کے ماضی سے متعلق جو حقائق تاریخ کا حصہ بن چکے انھیں سامنے رکھتے ہوئے اس امر کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ اس اتحاد کی بحالی کی صورت میں اسے عوام میں وہی پذیرائی حاصل ہوگی جو 2002 کے عام انتخابات میں حاصل ہوئی یا نہیں ؟2002 کے عام انتخابات سے قبل جب متحدہ مجلس عمل کی بنیاد ڈالی گئی تھی تو ملک بھر اور خصوصاً صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام نے اس امید پر سکھ کا سانس لیا تھا کہ شاید انہیں وہ نجات دہندہ میسر آگیا ہے جسکی انہیں تلاش تھی ۔ ایم ایم اے وجود میں آئی اسے ملا ملٹری الائنس کے نام سے بدنام کرنیکی کوششیں بھی ہوئیں تاہم ان جماعتوں کے اکابرین کے مشترکہ جلسے ٗصدارتی محل ٗ وزیراعظم ہاؤس اور وزراء اعلیٰ اور گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں میں تبدیل کرنے ٗامور مملکت سادگی سے چلانے اور شرعی احکامات کے نفاذ کے وعدوں پر مشتمل منشور اور کتاب کے نشان کو ’’الکتاب ‘‘کے طور پر پیش کرنے جیسے اقدامات نے عوام کو اس قدر متاثر کیا کہ تمام تر انتخابی تجزیوں کے برعکس ایم ایم اے نے 2002 کے عام انتخابات میں حیران کن کامیابی حاصل کی 2002 کے عام انتخابات کے موقع پر نشستوں کی تقسیم سے لے کر خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ اور مرکز میں قائد حزب اختلاف کے عہدوں پر تقرریوں تک کے مختلف مراحل میں کس جماعت نے کتنی قربانی دی اور کس نے کتنا سمجھوتہ کیا۔

بعد از انتخابات بیک وقت حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں رہ کر ایم ایم اے کس حد تک عوام کی امیدوں پر پورا اتری ، سترہویں ترمیم کی پارلیمنٹ سے منظوری اور جنرل (ر) پرویز مشرف کو منتخب صدر کی حیثیت دینے میں ایم ایم اے نے کیا کردار ادا کیا ٗ ان تمام حوالوں سے ایم ایم اے عوامی حلقوں میں زیر بحث رہی ہے ‘اس کے ساتھ ساتھ عوام کے سامنے اتحاد اور بھائی چارے کی باتیں کرنے والے جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی اکثریت کے ایم ایم اے کا حصہ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو دل سے تسلیم نہ کرنے اور متعدد مواقع پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے ذریعے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے جیسے معاملات بھی عوام کی نظر میں رہے 2002کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعدمسافر گاڑیوں یا اپنے دوست احباب کی کاروں میں اپنے عہدوں کاحلف اٹھانے کے لئے آنیوالے ایم ایم اے کے اکثر اراکین اسمبلی اور وزراء کا پانچ سالہ دور حکومت کے بعد سٹیٹس میں فرق بھی موضوع سخن رہا 2008کے عام انتخابات کے موقع پر ایم ایم اے کو فعال بنانے کی کوششوں کاجماعت اسلامی کے انتخابی بائیکاٹ کے باعث کامیاب نہ ہونا اسکے بعد پی پی پی حکومت کے دوران جے یو آئی (ف) کے وفاقی حکومت کا حصہ بن جانے کی وجہ سے مجلس عمل بحالی کے معاملے کا سرد خانے میں رہنا اور پھر وقتاً فوقتاً مذہبی جماعتوں کے اتحاد میں جان ڈالنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کا با رآور ثابت نہ ہونابھی تبادلہ خیال کی زد میں آتا رہاہے۔

‘ یہ تمام عوامل کسی نہ کسی طور پر اس سوال سے جڑے ہوئے ہیں جو اس تحریر کا موضوع ہے‘ ایک تاثر ہے کہ پاکستان کے عوام ہر دور حکومت کے خاتمے کے چند سال گزرر جانے کے بعد اس دور کے حکمرانوں کی غلطیاں و کوتاہیاں بھول جاتے ہیں لہٰذا خیبر پختونخوا کے عوام بھی ایم ایم اے کے ماضی کو فراموش کر چکے ہوں گے ،تاہم ایک استدلال یہ بھی ہے کہ اب جبکہ میڈیا ایک آئینے کی طرح ماضی کی غلطیوں اور کو تاہیوں کو عوام کے سامنے لانے میں دیر نہیں لگاتا کیا وقت آنے پر مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی سابقہ کارگزاری ٹیلی ویژن سکرینز سے جھانک جھانک کر عوام کو پرانی باتیں یاد نہیں دلائی گی؟ زمینی حقائق اس امر کے متقاضی ہیں کہ مذہبی جماعتیں ایم ایم کی بحالی یااس سے ملتے جلتے نئے اتحاد کی تشکیل سے متعلق فیصلے لیتے وقت جب مستقبل کی منصوبہ بندی کریں تو اس امر کا خاص خیال رکھا جائے کہ ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کے اعادے کے امکانات باقی نہ رہیں‘ علاوہ ازیں ایم ایم اے کے وجود نے ماضی میں ملک بھر اور خصوصاً خیبر پختونخوا کے عوام کو جن مایوسیوں سے دوچار کیا انکے ازالے کی طرف توجہ دینا بھی ضروری ہو گا ۔