بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاکستان کا موقف

پاکستان کا موقف


پاکستان نے افغانستان میں مساجد پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے ‘ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں افغان بھائیوں کیساتھ کھڑا ہے بیان میں جاں بحق ہونے والے افراد کے غمزدہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی گئی ‘ میڈیا رپورٹس میں کابل اور غورکی مساجدمیں ہونے والے دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد60 بتائی جا رہی ہے جبکہ 45 زخمی ہیں ‘ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کی شدید مذمت اور اس کی روک تھام کے عزم کا اعادہ کرتا ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا ‘ ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ عالمی برادری دنیا میں امن کوششوں کا آغاز مسئلہ فلسطین کے حل سے کرے‘ دوسری جانب نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کی بھارتی وزیر خارجہ سمشا سوراج کیساتھ ملاقات ہوئی ہے‘ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں پاک بھارت تعلقات کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا تاہم اس حوالے سے بھارتی میڈیا کی باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں‘ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے جدوجہد ہو یا لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی دوسری جانب بھارت کیساتھ متنازعہ امور بات چیت کے ذریعے نمٹانے کی سعی ہو یا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت‘ مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام ہو یا مسئلہ فلسطین کا حل ڈی ایٹ کے اہداف ہوں یا کوئی اور معاملہ‘ پاکستان کا موقف ہر کیس میں واضح اور شفاف ہوتا ہے ۔

اس کے باوجود پاکستان کے حوالے سے بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری رہتا ہے‘ رپورٹس کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حال ہی میں بازیاب کرائے گئے امریکی خاندان کو 5 سال تک پاکستان میں رکھا گیا سی آئی اے کے سربراہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان سے باہمی تعاون کی توقعات کم ہی رکھنی چاہئیں امریکہ سمیت عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ عالمی منظر نامے میں پاکستان کے کردار اور موقف کو سمجھے اور اصلاح احوال کیلئے اسے بھرپور سپورٹ دے نہ کہ پاکستان کیخلاف بے بنیاد الزام تراشی کرتے ہوئے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مقبوضہ کشمیر پر عالمی ادارے کی قراردادوں پر عمل سے گریز پر خاموشی اختیار کئے رکھے۔

چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے

سینئر صوبائی وزیر شہرام ترکئی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری تعلیمی اداروں بشمول جامعات میں تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کیلئے انٹرنیٹ کی مفت سہولت فراہم کی جارہی ہے اس منصوبے سے55 ہزار طلبہ مستفید ہوں گے ‘صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان کا کہنا ہے کہ صوبے کے تمام ہائی اورہائیر سیکنڈری سکولوں میں کمپیوٹر لیبز بنائی جارہی ہیں ‘ وزیر تعلیم جدید سہولیات اس لئے ناگزیر قرار دیتے ہیں کہ سرکاری اداروں میں پڑھنے والا غریب کا بچہ بھی آگے بڑھنے کی دوڑ میں ایلیٹ کلاس کا مقابلہ کر سکے ‘ جہاں تک ایلیٹ کلاس کے مقابلے کا تعلق ہے تو اس کیلئے ابھی مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ‘ تعلیمی اداروں میں وائی فائی سہولت قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اس سے زیادہ ضرورت اسکے درست استعمال کو یقینی بنانے کی ہے تعلیم کے شعبے میں حکومتی اصلاحات صرف اس وقت بہتر نتائج کی حامل قرار دی جا سکتی ہیں جب ان کیساتھ چیک اینڈ بیلنس کا فول پروف نظام دیا قجائے اور حکومتی اعلانات پر عملدرآمد کا ہر مرحلے میں جائزہ لیا جاتا رہے۔