Home / اداریہ / سی پیک ‘مغربی روٹ منصوبے

سی پیک ‘مغربی روٹ منصوبے

عین اسی روز جب خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ پر تحفظات اور خدشات کے حوالے سے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی‘ ایکنک نے پراجیکٹ کے لئے 1 کھرب 22 ارب کے منصوبے منظور کئے۔ اسد قیصر کی آئینی درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ خیبر پختونخوا کو سی پیک کے مغربی روٹ کے فنڈز کی مشرقی روٹ کی جانب منتقلی پر تشویش ہے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ چینی سفارتکار کے راہداری سے متعلق بیان نے شکوک و شبہات کوجنم دیا ہے۔ دوسری جانب ایکنک کے اجلاس میں منظور ہونے والے دو منصوبوں سے متعلق مہیا تفصیلات کے مطابق منظور شدہ رقم برہان ہکلہ سے ڈی آئی خان تک موٹر وے کی تعمیر اس مقصد کے لئے اراضی کے حصول متاثرہ جائیدادوں کے معاوضے اور تنصیبات کی منتقلی پر خرچ ہوگی ۔ نیشنل اکنامک کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے اپنے اجلاس میں 220 کلو واٹ ڈیرہ ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن کی منظوری بھی دی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایکنک کے اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ مجوزہ روٹ کی تصدیق وفاقی کمیٹی برائے سی پیک نے مشاورت کے بعد دے دی ہے۔

اسی روز جب حکومت مغربی روٹ کے لئے منصوبوں کی منظوری دے رہی تھی سی پیک پر سفر کرنے والا آزمائشی قافلہ خیبرپختونخوا سے بلوچستان کے علاقے ژوب پہنچا۔ سی پیک منصوبے کی اہمیت اور افادیت سے کسی کو انکار نہیں خیبرپختونخوا کا مطالبہ ہے کہ پراجیکٹ کے مغربی روٹ پر 8 صنعتی بستیاں بنائی جائیں ان زونز کو انڈسٹری کے لئے ضروری انفراسٹرکچر دیا جائے اس میں بجلی ، گیس، ریلوے لائن اور فائبر آپٹیکس جیسی بنیادی سہولتیں شامل ہیں ان سارے معاملات پر وزیر اعظم نواز شریف کی بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں بات بھی ہو چکی ہے اور صوبے کی حکومت ان ہی فیصلوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کر رہی ہے جو وزیر اعظم نے خود منظور کئے اب اس کے بعد خدشات اور تحفظات کیسے پیدا ہوئے منصوبے پر عمل درآمد کے ذمہ دار محکموں سے اس کا جواب لینا ضروری ہے صرف یہی نہیں مرکز اور صوبوں میں حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے سسٹم ناگزیر ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے شکوک وشبہات پیدا نہ ہوں۔

عام ہوتی بیماریاں اور علاج کا انتظام

وطن عزیز میں پولیو کے خاتمے کیلئے مہم جاری ہے تازہ ترین فیصلے کے مطابق پشاور میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری کر دیئے گئے ہیں ان لوگوں کو تین ایم پی او کے تحت حراست میں لیا جا رہاہے ۔ پولیو کے ساتھ آلودہ پانی معدے کی دیگر بیماریوں کے علاوہ ہیپاٹائٹس کا ذریعہ بھی بن رہا ہے ہیپاٹائٹس جیسے مہلک مرض کے علاج کے لئے انتظامات قطعاً ناکافی ہیں ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں صفائی کا ناقص انتظام اور پلاسٹک شاپنگ بیگز سے بلاک سیوریج سسٹم مچھروں اور مکھیوں کی افزائش کا ذریعہ بن کر تکلیف دہ بیماریاں پھیلا رہا ہے‘ گورنمنٹ سیکٹر میں صوبے کے ہسپتالوں میں آنکالوجی یونٹس اور ان میں مہیا سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے نتیجے میں کینسر جیسے مرض میں مبتلا مریضوں کو دربدر ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں کیا ہی بہتر ہو کہ پولیو کے ساتھ دیگر بیماریوں کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں اور سرکاری شفاخانوں میں وقت کی ضرورت کے مطابق امراض خون ، سرطان اور دیگر عام بیماریوں کے علاج کا انتظام وسیع کیا جائے۔