بریکنگ نیوز
Home / کالم / بہتری کی امید

بہتری کی امید


ہر وہ طبقہ یا اس سے تعلق رکھنے والے افراد جو کسی کو ذہنی یا جسمانی اذیت دینے کی سکت رکھتے ہوں یا کسی کی پگڑی آسانی سے اچھال سکنے کی پوزیشن میں ہوں ان کواچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا‘ ٹیلی ویژن چینلز اس ملک میں نہایت ہی تیزی سے پھیلے ہیں ان میں یقیناًبعض اچھے بھی ہیں ان میں کام کرنیوالے پرانے صحافتی اقدار کی پاسداری کرتے ہیں لیکن جیسا کہ ہر طبقے میں اچھے برے لوگ آپ کو ملتے ہیں ان چینلز میں بعض چینلز ایسے بھی ہیں کہ جن کے مالکان کا صحافتی بیک گراؤنڈ تھا ہی نہیں وہ اس میدان میں اسلئے آئے کہ انہوں نے محسوس کیا اور بھانپ لیا کہ تھانیداری اور تحصیلداری کی طرح اس شعبے میں بھی طاقت کے بل بوتے پروہ اپنے کئی الو سیدھے کر سکتے ہیں اس قسم کے چینلز کے مالکان نے پھر اپنے اپنے لئے چن چن کر ایسے اینکرز پیدا کئے کہ جو اس مقدس پیشے کی بدنامی کا سبب بن گئے ہم کسی کانام نہیں لیں گے کہ آج کا قاری اور سامع اتنا زیرک اور ذہین ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی ٹیلی ویژن چینل پر کوئی بھی ٹاک شو دیکھ کر باآسانی اندازہ لگا سکتا ہے کہ کون اینکر کس کی زبان بول رہا ہے اسکی گفتار میں کتنا سچ ہے اور کتنا ملاوٹ‘ یار لوگوں نے بعض تھانیداروں اور تحصیلداروں کی طرح بہتی گنگا میں جی بھر کر اشنان بھی کیا ہے کل ان کے پاس سائیکل خریدنے کے پیسے نہ تھے آج وہ لمبی گاڑیوں میں گھومتے ہیں کل ان کا مسکن کرایہ کا مکان تھا آج انہوں نے ایک سے زیادہ کوٹھیاں بنا رکھی ہیں اور اب بھی مزید کارنر پلاٹس اپنے نام کرانے کی حرص ان میں ختم نہیں ہو رہی اب ہم فیض احمد فیض‘ احمد ندیم قاسمی ‘ مظہر علی خان ‘ حمید نظامی ‘ عزیزصدیقی‘ حمید شیخ ‘ خالد حسن ‘ سید سبط حسن وغیرہ جیسے صحافی کہاں ڈھونڈیں‘ فیض صاحب کو اس وقت کے مغربی پاکستان کے گورنر مشتاق احمد گورمانی نے چائے کے کپ کی دعوت پر گورنر ہاؤس بلایا وہ جانتے تھے کہ فیض کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔

ان دنوں لاہور میں ماڈل ٹاؤن نیا نیا بن رہا تھا گورنر صاحب نے فیض سے کہا ایک پلاٹ آپ کو ماڈل ٹاؤن میں الاٹ کر دیتا ہوں آپ کسی وقت اس پر اپنا مکان بنا لیں گے فیض نے سگریٹ کاکش لگاتے ہوئے اپنے مخصوص اندازمیں مسکراتے ہوئے گورنر صاحب سے کہا کہ وہ جو سیالکوٹ میں میرے آبائی گاؤں میں جو تھوڑی زمین میرے نام تھی میں اس سے بھی جان چھڑا کر آ گیا ہوں وہ میں نے اپنے بھائی کے نام لکھ دی ہے گورنر صاحب آپ کیوں مجھے نئی مصیبت میں پھنساتے ہیں مجھے صرف 6 ضرب6 فٹ زمین درکارہے اور امید ہے کہ موت کے بعد لاہور میونسپل کارپوریشن والے میری تدفین کیلئے اتنی زمین تو خواہ مخواہ قانونی طور پر دے دیں گے یہ کہہ کر انہوں نے گورنر صاحب سے رخصت ہونے کی اجازت مانگ لی بات وہیں ختم ہو گئی آج کل تو انسان کے پاؤں گور میں ہوتے ہیں اور اس کی دنیا کی خواہش بڑھتی ہی جاتی ہے بالکل ہل من مزید کی مانند ‘ شاید ہی اس ملک میں کوئی ایسا شعبہ ہو بشمول میڈیا کہ جس میں بدمعاشیہ نے اپنے پنجے نہ گاڑھے ہوں خدا لگتی یہ ہے کہ مستقبل قریب میں ہمیں تو اس ملک کے اندرونی حالات خصوصاً غربا ء کی زندگی میں کسی بہتر ی کے آنے کی امید بالکل نہیں شراب وہی ہو گی صرف بوتل بدل جائیگی۔