بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / تضادا ت کی دنیا!

تضادا ت کی دنیا!


سی پیک میں پنہاں پاکستان کی اقتصادی ترقی کا خواب دیکھنے والوں کے لئے عوامی جمہوریہ چین کی سیاسی و عسکری قیادت کے مذہبی تصورات بالخصوص اسلام کے بارے رائے اور مسلمانوں کو دی جانے والی مذہبی آزادی پر بھی غور کرنا چاہئے کہ اگر ایک طرف چین اپنے ہاں اسلام اور مسلمانوں کو برداشت نہیں کر رہا اور دوسری طرف وہ ایک اسلامی جمہوریہ کی تعمیروترقی کا خواہاں ہے تو کہیں تضادات کی یہ دنیا سراب تو نہیں!چین کے شمال مغرب میں سولہ لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلا سنکیانگ ملک کا سب سے بڑا انتظامی یونٹ ہے۔ ایک ہزار پانچ دیہی و شہری علاقوں پر مشتمل اِس صوبے کا صدر مقام ’ارومچی ہے اسکی سرحدیں منگولیا‘ روس‘ قازقستان‘ کرغستان‘تاجکستان‘ افغانستان‘ بھارت اور پاکستان سے ملتی ہیں۔ سنکیانگ معدنیات سے مالامال ہے اور یہاں سے چین کو سب سے زیادہ قدرتی گیس حاصل ہوتی ہے۔ چین اس ریاستی صوبے کے وسائل سے تو استفادہ کرتا ہے لیکن اُسے یہاں کی اکثریتی آبادی (نوے لاکھ) مسلمان پسند نہیں! کاشغر کی سیاحت کرنیوالوں کے علم میں ہے کہ وہاں اسلامی لباس و معاشرت اختیار کرنے حتیٰ کہ داڑھی تک رکھنے کی ممانعت ہے اور اگر کوئی مسلمان داڑھی رکھنے کی جرات کرتا ہے تو اہل علاقہ اِس کی اطلاع مقامی پولیس کو کر دیتے ہیں۔ علاوہ اَزیں چونکہ مسلمانوں کے ہاں رواج ہے کہ یہ اپنی شادی پر عزیزواقارب سمیت بڑی تعداد میں مہمانوں کو مدعو کرتے ہیں تو چین میں اِس بات پر بھی پابندی ہے کہ شادی بیاہ میں زیادہ مہمانوں کو مدعو نہ کیا جائے اور اگر کوئی مسلمان گھرانہ ایسا کرتا ہے تو ریاستی پولیس اس کے خلاف کاروائی کرنے آن کی آن میں آ پہنچتی ہے۔ کاشغر کے مسلمانوں سے روا رکھے جانے والا تیسرا‘ امتیازی سلوک یہ ہے کہ انہیں اپنے بچوں کے اسلامی نام رکھنے کی اجازت نہیں۔

پاکستان میں مذہبی آزادی جیسی نعمت کا احساس نہ کرنے والوں کو چین اور بھارت میں حکومتی روئیوں کا مطالعہ کرنا چاہئے جہاں مسلمانوں کو حاصل مذہبی آزادی محدود اور ہر گزرتے دن سکڑ رہی ہے۔ کیا ہم کسی ایسی عالمی طاقت کے گن گا سکتے ہیں جسکے ہاں مذہب و مذہبی اقدار و تعلیمات اور بالخصوص اسلام کے خلاف متعصبانہ رویہ پایا جاتا ہو؟کاشغر آمدورفت کرنیوالوں کا استقبال داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کی چیک پوسٹیں کرتی ہیں جہاں ہونے والی جامہ تلاشی کے علاوہ مسافروں کے موبائل فون بھی دیکھے جاتے ہیں۔ ایس ایم ایس پیغامات پڑھے جاتے ہیں۔ سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئیٹر پر سرگرمیوں کو بھی دیکھا جاتا ہے کیونکہ چین میں فیس بک اور ٹوئیٹر استعمال کرنا ممنوع ہے اسلئے اگر مقامی لوگوں میں سے کسی کے فون میں یہ ایپلی کیشن انسٹال پائی جائیں تو وہ فوری طور پر حراست میں لے لیا جاتا ہے‘ دوسری طرف پاکستان میں شاید ہی سمارٹ فون رکھنے والا کوئی ایسا صارف ہوگا جس کے ایک سے زیادہ سماجی رابطہ کاری کے اکاؤنٹس نہ ہوں اور وہ ہر مسئلے اُور موضوع پر اظہار خیال کو اپنا حق نہ سمجھتا ہو۔

‘ ہمارے ہاں فرضی ناموں سے سماجی رابطہ کاری کے وسائل استعمال کرنیوالوں کی اکثریت ہے اور باوجود ریاست کو یہ بات معلوم ہونے کے بھی شخصی آزادی پر پابندی عائد نہیں کی جاتی‘ پاکستان میں آزادئ اظہار کے بلندمعیار کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بناء رجسٹرڈ موبائل فون کنکشن رکھنا قانوناً جرم ہے لیکن ایسے موبائل فون کنکشن کروڑوں کی تعداد میں فعال ہیں جن سے موصول ہونے والی فون کالز یا پیغامات کی جب پی ٹی اے کو اطلاع دی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کنکشن غیررجسٹرڈ ہے! جبکہ چین میں ایسی کسی بھی آزادی کا تصور تک محال ہے سوال یہ بھی ہے کہ آخر چین میں ایسا کون سا سی پیک جیسا ر منصوبہ آیا تھا جس نے اس ملک کی قسمت بدل دی اور اسے دنیا اور خلاء کی بڑی اقتصادی‘صنعتی کاروباری‘پیداواری و دفاعی طاقت بنا دیا؟

موجودہ نئے چین کی بنیاد قیام پاکستان کے بعد رکھی گئی لیکن اس ملک نے ہر شعبے میں محنت و تحقیق سے ترقی کے بلند معیار قائم کئے ہیں تو اس کی وجہ صرف اور صرف چین کی سیاسی قیادت‘ درست وبروقت فیصلے اور قومی مفادات جیسی ترجیحات ہیں‘ چین کے قائدین کی توجہات مرکوز ہیں‘ ان کے مالی مفادات صرف اور صرف چین کی حد تک محدود ہیں‘ ! چین میں ہر سال سرکاری وسائل میں خوردبرد اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنیوالے ہزاروں بدعنوان افراد کو سرعام موت کی سزائیں دی جاتی ہیں‘ چین جیسی ترقی کسی راہداری شارٹ کٹ کے ذریعے نہیں بلکہ مادری زبان میں تعلیم اور مالی بدعنوانی سے پاک طرزحکمرانی کی بدولت ہے تو چین جیسی طرز کا پاکستان میں بلاامتیاز و بے رحم احتساب کیوں ممکن نہیں؟