بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / توانائی کے شعبے میں اصلاحات؟

توانائی کے شعبے میں اصلاحات؟


توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کا خاتمہ اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے حکومت کے اقدامات ریکارڈ کا حصہ ہیں اس وقت بھی بجلی کے متعدد پیداواری منصوبوں پر کام جاری ہے ‘ اس سب کے ساتھ یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ بجلی کے صارفین لوڈشیڈنگ اور مرمت سمیت بعض منصوبوں کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بعض گھریلو صارفین اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر بجلی کا بل بروقت جمع کرانے کے باوجود لوڈشیڈنگ کا عذاب صرف اس وجہ سے جھیل رہے ہوتے ہیں کہ ان کے علاقے میں رہنے والے بعض دوسرے شہری اپنا بل بروقت جمع نہیں کراتے یا جس آبادی میں وہ رہتے ہیں وہاں بجلی چوری ہوتی ہے پشاور میں ایک وسیع آبادی گزشتہ کئی ماہ سے بس منصوبے کیلئے پول ہٹانے کے کام کی وجہ سے کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش کا سامنا کررہی ہے جبکہ اسے یہ سلسلہ ختم ہونے کیلئے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی جا رہی بجلی صارفین اووربلنگ کے ہاتھوں متعلقہ دفاتر کے چکر کاٹنے اور ناکردہ گناہ کی سزا میں بل اقساط کی صورت جرمانے دینے پر بھی گلہ مند ہیں ‘یہ سب ایسے وقت میں ہے جب حکومت کی جانب سے لوڈشیڈنگ کو مختصر وقت کا مہمان قرار دیا جا رہا ہے ۔

حکومتی اقدامات اعلانات اور بھاری فنڈز کے اجراء کے باوجود عملی نتائج نہ ملنا اس سقم کو تلاش کرنے کا متقاضی ہے جو کئے کرائے پر پانی پھیر رہا ہے خیبر پختونخوا کی حد تک پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے بعض اقدامات کمپنی انتظامیہ کے احساس وادراک کے عکاس ہیں چیف ایگزیکٹو پیسکو شبیر احمد کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں لائن لاسز نہیں ہیں وہاں لوڈشیڈنگ ختم کر دی گئی ہے جبکہ ریکوری بہتر بنانے کیلئے متعلقہ افسروں کو اہداف دے دیئے گئے ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موبائل میٹر ریڈنگ کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے جبکہ بہترریکوری والے فیڈرز کو الگ بھی کیا جارہا ہے ‘ پیسکو چیف کے اقدامات اصلاح احوال کیلئے قابل اطمینان ضرورہیں‘جس میں عوامی سطح پر تعاون ملنے پر مزید بہتری لائی جاسکتی ہے، تاہم صارفین کی ریلیف کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے] اس میں زیادہ اہم بجلی کی خرابی سے متعلق شکایات کے فوری ازالے کیلئے دفاتر شکایات کو اضافی وسائل اور افرادی قوت دینے کے ساتھ چیک اینڈ بیلنس کو یقینی بناناہوگا۔

متبادل روٹس پر انتظامات کی ضرورت

پشاور میں تیز رفتار بس منصوبے پر کام کاآغاز ہوچکا ہے‘تعمیراتی کام کے دوران صوبائی دارالحکومت کی پہلے سے انتہائی سست روی کا شکار بے ہنگم ٹریفک کا نظام مزید متاثر بھی ہوگا‘ صورتحال سے نمٹنے کیلئے متبادل روٹس دیئے گئے ہیں اور کام تیزہوتے ہی ان روٹس پر ٹریفک کا رش مزید بڑھ جائیگا‘ پشاور کی مین شارع پر کسی بھی احتجاج یا واقعے کی صورت میں ٹریفک متبادل راستوں پرہی ڈالی جاتی ہے جہاں پہلے سے کوئی انتظام نہ ہونے اور ٹریفک کنٹرول کا عملہ نہ ہونے کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘پشاور کے ٹریفک منیجرز کیلئے ضروری ہے کہ وہ متبادل روٹس کو کلیئر رکھیں اور عملے کی موجودگی یقینی بنائی جائے‘ بصورت دیگر ایک اہم منصوبے پر کام شہریوں کے لئے مزید مشکلات کا باعث بن جائیگا‘ متبادل روٹس پر ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کیلئے انتظامات میں شہریوں اور تاجر تنظیموں سے مشاورت بھی ناگزیر ہے تاکہ ان کا تعاون شامل ہوجائے۔