بریکنگ نیوز
Home / کالم / الحمرا کی کہانیاں

الحمرا کی کہانیاں


مسجد قرطبہ اور الحمرا نے مجھے اپنی ڈور میں باندھ رکھا تھا اور یہ وہ کشش تھی جو مجھے1969ء میں اندلس لے گئی اور وہاں میں نے کئی ماہ اس کے طول و عرض میں بسر کئے…’’ اندلس میں اجنبی‘‘کا پہلا فقرہ لکھنے سے پیشتر میں نے برسوں اس سنہری عہد کی تاریخ ثقافت اور زوال کے بارے میں تحقیق کی… پنجاب پبلک لائبریری کے تہہ خانے میں قید ہو کر کئی ماہ قدیم خستہ اوراق والے مخطوطوں پر عرق ریزی کی یہاں تک کہ اسکی تحقیق کے نوٹس تقریباً ایک ہزار صفحات پر محیط ہوگئے اور تب میں نے سوچا تھا کہ کیوں نہ میں ایک سفرنامہ تحریر کرنے کی بجائے اندلس کے بارے میں ایک تحقیقی ضخیم دستاویز ترتیب دوں اور میں بہت عرصے تک اس مخمصے میں پڑا رہا اور پھر مجھے احساس ہوا کہ ایک محقق اور تاریخ نویس جذبات سے جدا ہو کر صرف حقائق بیان کرتا ہے جبکہ میرے اندر کا داستان گو تو ایک شہرزاد ہے جو جذبات کی رو میں بہہ کر کہیں کہیں حقائق کو بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتا ہے چنانچہ میں نے سفرنامہ لکھنے کا فیصلہ کرلیا…’’ اندلس میں اجنبی‘‘کو یونیسکو کی جانب سے اس برس کی سب سے اہم اور سب سے پسندیدہ کتاب قرار دیا گیا…یہ ایک الگ بات کہ ازاں بعد اندلس کے بارے میں جتنے بھی تحقیقی مقالے لکھے گئے ان میں سے بیشتر کی بنیاد’’ اندلس میں اجنبی‘‘ کی تحقیق پر رکھی گئی‘خاص طورپر الحمرا اور مسجد قرطبہ کی تاریخ‘ طرز تعمیر اور سجاوٹ کے تذکرے ان میں شامل ہوئے… دو تین برس پیشتر میری اہلیہ خواتین کے ایک گروپ کے ہمراہ اندلس کی سیاحت پر نکلی … اسکا کہناتھا کہ گروپ میں شامل کم از کم تین خواتین ’’اندلس میں اجنبی‘‘ آنکھوں سے لگائے رکھتی تھیں اور ہر عمارت‘ ہر گلی کوچے اور منظر کو اسی آنکھ سے دیکھتی تھیں…

بلکہ ایک خاتون نے جسے خبر نہ تھی کہ میمونہ میری ہی منکوحہ ہے اس نے کہا کہ… ذرا دیکھئے مسجد قرطبہ کے ستونوں کے بارے میں تارڑ صاحب نے اپنے سفرنامے میں کیا تحریر کیا ہے تو مونا نے ناک چڑھا کر کہا تھا کہ بی بی میں اس تارڑ کی بیوی ہوں اور میرا خاوند اندلس کی تحقیق میں اتنا مگن ہوا تھا کہ گھر بار بھول گیاتھا… اندس میں اجنبی‘کا پہلا مسودہ میں نے ہی پڑھا تھا اور انہیں کچھ مشورے بھی دیئے تھے …تو…حضور اگر کہیں الحمراء یا مسجد قرطبہ کے قصے چھڑتے ہیں تو میں کیسے ان سے الگ رہ سکتا ہوں… مجھے بھی مسجد قرطبہ میں ایک پادری نے اذان دینے کیلئے کہا تھا اور میں نے اجتناب کیا تھا1969ء میں کہ ان دنوں یہ رواج نہیں تھا… ویسے ان دنوں بھی میں شاید اجتناب کروں کیونکہ اس بارے میں میرے کچھ تحفظات ہیں جن کا ذکر میں بہرطور آخر میں کرونگا… اب میں کیا کروں کہ قصر الحمرا میں اندلس کی کہانیاں کہی جاتی ہیں تومجھے تلمیذ حقانی یاد آنے لگتا ہے… میں کہیں اقرار کر چکا ہوں کہ اگر تلمیذ حقانی نہ ہوتا تو یقیناًمیں آج وہ نہ ہوتا جو کہ میں ہوں… ایک روپے بارہ آنے والے دو لکیردار رجسٹروں پر لکھے ہوئے میرے سفر نامے نہ شائع ہوتے‘ نہ ان کا چرچا ہوتا وہ رجسٹر ردی میں فروخت ہوجاتے‘ تلمیذ‘ اندلس کے سحر میں بری طرح گرفتار تھا اندلس کے بارے میں لکھی گئی ہر تحریر کو ایک آسمانی صحیفے کی مانند بوسے دیتا اسے آنکھوں سے لگاتا اور آنسو بہاتا… مجھ تک بھی وہ اندلس کی چاہت میں بندھا چلا آیا وہ پہروں میرے پاس بیٹھا رہتا کہ مجھے اندلس کے قصے سناؤ‘ الحمرا کے ایوانوں میں لے چلو‘ مسجد قرطبہ کے ستونوں کے شام کے صحراؤں میں جیسے ایک ہجوم تخیل کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرو…

وہ اتنا پاگل تھا کہ ان دنوں لاہور کے نوتعمیر شدہ انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں پرفارم کرنے کیلئے کوئی دو نمبر سا میوزیکل طائفہ آیا اور اس میں کوئی ہسپانوی ڈھول بجانے والا بھی شامل تھا توتلمیذ ایک گلدستہ لے کر اس کی خدمت میں حاضر ہوگیا کہ آپ اندلس سے آئے ہیں حالانکہ ڈھول بجانے والے نے الحمرا اور مسجد قرطبہ کے بارے میں شاید ہی سن رکھا تھا… بالآخر تلمیذحقانی کے نصیب میں اندلس یاترا لکھی گئی اور وہ ایسے ہیجان میں مبتلا ہوگیا جیسے پہلی مرتبہ حج کو جا رہا ہے… اس نے ہرن کی ایک کھال حاصل کرکے پاکستان کے عظیم مصور صادقین سے درخواست کی کہ وہ اس پر علاقہ اقبال کی لازوال نظم مسجد قرطبہ کے دو شعر خطاطی کردیں اور صادقین نے بلامعاوضہ کہ وہ ایک فراخ دل مصور تھا جس نے ہزاروں قرآنی خطاطیاں اپنے ہاتھوں سے لکھ کر خلق خدا میں تقسیم کر دیں… اس نے اقبال کے شعروں کو ہرن کی اس کھال پر نقش کر دیا… تلمیذ اس خطاطی کو قرطبہ کے میئر کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا اور جب میں نے وہ شاہکار دیکھا تو میرا دل بے ایمان ہوگیا… ’’ تلمیذ‘ تو میرا یار نہیں… اگر ہے تو ہرن کی یہ کھال مجھے عنایت کردو…کیوں اس قرطبہ کے میئر کو پیش کرکے ضائع کرتے ہو‘‘ لیکن تلمیذ تو یاری سے انکاری ہوگیا‘وہ قرطبہ گیا اور ایک خصوصی ملاقات میں وہ خطاطی میئر کو پیش کر دی… صادقین کی مسجد قرطبہ کے اشعار کی خطاطی قرطبہ کے ٹاؤن ہال میں آویزاں کردی گئی… مجھے نہیں معلوم کہ وہ اب تک وہاں موجود ہے یا نہیں‘ اگر کوئی قرطبہ جاوے تو مجھے خبر کر دیوے کہ کیا وہ ابھی تک ٹاؤن ہال کی دیوار پر سجی ہے یا نہیں… بات الحمرا میں دی جانیولی اذان سے چلی ہے تو دیکھئے کہاں تک پہنچے…

دل کے افسانے کہاں تک پہنچیں… اگر امریکی مصنف اور سفارتکار واشنگٹن ارونگ نہ ہوتا تو شاید الحمرا ابھی تک ایک گمنام کھنڈر ہوتا… ارونگ خصوصی طور پر میرا شفیق الرحمن کا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا محسن ہے… اگر وہ الحمرا کی کہانیاں‘ نہ لکھتا تو شاید ہم ابھی تک اس سرخ رنگت کے تاج محل کے وجود سے بے خبر ہوتے… کہ ہمیں تو تب خبر ہوتی ہے جب کوئی کافر ہمارے ثقافتی ورثے کو دریافت کرکے ہمیں خبر کرتا ہے اور پھر ہم وہاں اذانیں دینے کیلئے پہنچ جاتے ہیں…ہم تو علی ہجویری کی تصوف پر سند کتاب’کشف المحجوب‘‘ تک بھی انہی کے ترجمے کے راستے پہنچتے ہیں‘ یہاں تک کہ ’’ مرزا صاحبان‘‘ بھی انہی کے توسط سے ہم تک پہنچتی ہے اور کیا ٹیکسلا کے قدیم شہر اور موہنجوڈارو سب کے سب وہ دریافت کرتے ہیں‘ ہم صرف ان پر دشنام کرتے ہیں کہ شاخ نازک پر جو آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا… تہذیب مغرب کے انڈے ہیں گندے…الحمرا کے قصر سلطانہ کے پہلو میں ایک تنگ دروازہ ایک ایسے شخص کی رہائشگاہ پر کھلتا ہے جسکے قلم نے پہلی بار الحمرا کے وجود کی داستان لکھی‘ ایک سادہ تختی دیوار پرآویزاں ہے‘ ان کمروں میں1928ء میں واشنگٹن ارونگ نے’’ الحمرا کی کہانیاں‘‘ لکھیں… میں اس کمرے کے اندرگیا…