بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / ہندکوعالمی کانفرنس

ہندکوعالمی کانفرنس


نیویارک شہر کے تجارتی مرکزمین ہیٹن سے تین میل کے فاصلے پر واقع لگاڑدیا ایئر پورٹ کے عقب میں دریائے ہڈسن سے نکلنے والی ایک خوبصورت جھیل کے کنارےOne World Fair Marina کی دو منزلہ عمارت اپنے ارد گرد چار مربع میل پر پھیلے ہوے سبزہ زاروں کی وسعتوں میں دور دور سے دیکھی جا سکتی ہے ان گنت سڑکوں اور عمارتوں کے جال میں چھپی ہوئی اس دلکش تفریحی جگہ کو Citi Fields کہا جاتا ہے یہاں سے جھیل میں تیرتی ہوئی کشتیوں کے علاوہ ایئر پورٹ پراترتے ہوئے جہازوں کا منظر بھی دیکھا جا سکتا ہے یہ عمارت 1964 میں تعمیر ہونے کے بعد دو مرتبہ جدید طریقے سے بنائی گئی آجکل اسکے دو بڑے ہال سماجی تقریبات کیلئے استعمال ہوتے ہیں ۔جنوری کے مہینے میں گندھارا ہندکو بورڈ کے جنرل سیکرٹری ضیاء الدین صاحب نے ایک ای میل میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ نیو یارک میں پانچویں عالمی ہندکو کانفرنس منعقد کر نا چاہتے ہیں ان نیک ارادوں کا ذکر وہ گزشتہ سال پشاور کی ایک ملاقات میں بھی کر چکے تھے میں نے دبے لفظوں میں حامی تو بھر لی مگر اسکے بعد کانفرنس کے انتظامات اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کے بارے میں سوچتا رہا اسکے ایک ماہ بعد اوہایو سے ڈاکٹر امجد حسین صاحب کا فون آیا کہ انہوں نے کانفرنس کی تیاریاں شروع کر دی ہیں‘ اسکے اخراجات گندھارا ھندکو بورڈ کے علاوہ دوبئی‘ برطانیہ اور امریکہ کے پشوری مل جل کر ادا کریں گے۔

اس سے اگلا مرحلہ جائے وقوعہ یا مقام اجتماع کا انتخاب تھا میں نے تین عدد کانفرنس ہالوں کے ویب سائٹ ایڈریس ڈاکٹرصاحب کو بھیجے انہوں نے ورلڈ فیئر میرینا پسند کیا اور یوں ہفتہ اکیس اکتوبر کا دن اس کانفرنس کے انعقاد کیلئے طے کر دیا گیا اب اس یادگار دن کے گزر جانے کے بعد بغیر کسی مبالغے کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس ادبی مجلس نے نیویارک کی پاکستانی کمیونٹی کو نہ صرف ہندکو بلکہ پاکستان کی تمام زبانوں کے بارے میں سوچ بچار کا موقع فراہم کیا صبح گیارہ سے رات بارہ بجے تک جاری رہنے والے اس اکٹھ میں نیویارک کے پشاوریوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ ممتاز صحافیوں‘ ادیبوں اور شعراء کرام نے بھی شرکت کی ان دانشوروں نے ہندکو‘ پنجابی‘ سرائیکی اور اردو کے بارے میں جچے تلے سوالات پوچھ کر اس محفل کو ایک بھرپور ادبی مکالمے میں تبدیل کر دیا اس اجلاس کے پہلے سیشن میں ڈاکٹر امجد حسین نے کئی سالوں کی محنت شاقہ سے بنائی ہوئی نصف گھنٹے کی ڈاکومنٹری دکھائی اسکا عنوان Buddhist Stupa in ancient Peshawar ہے یہ دستاویزی فلم انہوں نے پہلی مرتبہ اس سال جنوری میں پشاورکے ادیبوں‘ صحافیوں‘ دانشوروں اور یونیورسٹی کے اساتذہ اور طالبعلموں کے سامنے پیش کی تھی اس ویڈیو فلم میں دو مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے ان میں سے ایک پشاور شہر اور دوسرا ھندکو زبان ہے ڈاکٹر امجد نے اپنی تحقیق کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ پشاور شہر پانچ ہزار سال پرانا ہے اور ھندکو زبان بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ پشاور اس تھیسس کو ثابت کرنے کیلئے انھوں نے ایسے Stupas اور سکوں کی ویڈیوز دکھائیں جو پانچ ہزار سال پرانے تھے اور جن پر آجکل بولی جانیوالی ھندکو کے کئی الفاظ کندہ ہیں اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ ھندکو زبان گندھارا تہذیب کی شروعات سے بہت پہلے ان علاقوں میں بولی جاتی تھی جو آجکل شمال مغربی پاکستان اور مشرقی افغانستان میں شامل ہیں مشہور عربی مؤرخ محمد بن نوید نے لکھا ہے کہ گندھارا حکمرانوں کا سلسلہ ڈیڑھ ہزاربرس قبل مسیح میں شروع ہوتا ہے۔

اس مدت میں اگر گزشتہ انیس سو برس شامل کر لئے جائیں تو یہ کل چونتیس سو سال بنتے ہیں گندھارا سلطنت کے اکثر حکمران بدھ مذہب کے پیروکار تھے اور انکی راجدھانی مشرق سے مغرب تک ایک سو کلومیٹر اور شمال سے جنوب تک ستر کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھی یہ دریائے سندھ کے مغربی کناروں سے شروع ہو کر ھندو کش کے پہاڑوں سے ہوتی ہوئی بحر ہند تک پہنچی ہوئی تھی گندھارا تہذیب کا اصل مرکز مؤرخین کے مطابق پشاور کی وادی اور اسکے ارد گرد سوات‘ بونیر‘ دیر اور باجوڑ کے علاقے تھے گندھارا کی لفظی ترکیب گند اور ہر سے ملکر بنی ہے گند کا لفظ قند کی بدلی ہوئی شکل ہے اور اسکا مطلب خوشبو ہے جبکہ ہر کے معنی زمین ہیں یعنی خوشبو کی سرزمین انگریز اسے Land of fragrance کہتے تھے ایک روایت کے مطابق پشاور کو سات ہزار پہلے مہاراج کرشن نے آباد کیا تھا اسکے بعداپنے طویل تاریخی سفر کے دوران پشاور کو درجنوں مرتبہ شمال سے آنے والے حملہ آوروں نے تاخت و تاراج کیا ان میں سکندر اعظم‘ چندر گپت موریہ‘ یونانی‘ کشان‘ چینی‘ ترک‘ ایرانی‘ غزنوی‘ غوری‘ مغل‘ سکھ اور انگریز شامل تھے اس تاریخی شہر کے بار بار آباد اور تباہ ہونے کی ایک وجہ اسکا وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونا ہے یہ شہر ان دونوں خطوں کا تجارتی مرکز تھا یہاں قافلے پڑاؤ ڈالتے تھے اور اسکے مشہور قصہ خوانی بازار میں قصہ خواں مسافروں کوقصے سناتے تھے ۔ضیاء الدین صاحب نے استقبالیہ خطاب میں حاضرین کو بتایا کہ پشاور شہر کے لوگ اسلئے نہایت دھیمے مزاج کے ‘ سلجھے ہوئے اور مہذب واقع ہوئے ہیں کہ وہ ہزاروں برسوں سے دو بڑی تہذیبوں کے امین ہیں پہلے سیشن میں جس سوال پر طویل بحث ہوئی وہ ممتاز ادیبہ نصرت انور صاحبہ نے پوچھاتھا انکا استفسار تھا کہ ھندکو اور پنجابی میں اتنا کم فرق ہے کہ انہیں ایک ہی زبان کہا جا سکتا ہے ضیاء الدین صاحب نے اسکے جواب میں کہا کہ پاکستان ایک کثیرللسانی ملک ہے اسمیں درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں ان میں سے اکثر میں بہت کم فرق ہے اور ان تمام زبانوں کا مشترکہ ماخذ Indo Aryan زبان ہے اس بحث میں کئی دانشوروں نے حصہ لیا اسے معاملہ فہمی اور علمی طرز استدلال سے سمیٹتے ہوے ڈاکٹر اشرف عدیل نے کئی یونانی فلسفہ دانوں کے حوالے دیتے ہوے کہا کہ دنیا بھر کی تمام زبانوں کی گرائمر بنیادی طور پر ایک جیسی ہی ہے مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ ان میں کوئی فرق نہیں کانفرنس کے دوسرے سیشن میں ڈاکٹر اشرف عدیل نے ہزارہ کی ہندکو کے ایک ماہیے کا مفہوم بیان کرنے کے بعد اسکا تعلق مختلف تہذیبوں کے نظام اخلاق سے جوڑتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ ہندکو تہذیب کا اخلاقی تصوردیگر عظیم نظام افکار سے خاصی حد تک مماثلت رکھتا ہے۔

میں نے ’’ پشاور کے ذرائع ابلاغ‘‘ پر گفتگو کرتے ہوے اخبار ‘ ریڈیو اور ٹیلیوژن کے زمانے سے پہلے پائے جانے والے ابلاغ کے ذریعوں کا ذکر کیا ان میں ڈھنڈورچی‘ ٹانگوں میں بیٹھے ہوے اناؤنسروں کے اعلانات اور دیواروں پر لکھے ہوے اشتہارات کی تفصیل شامل ہے ڈھنڈورچی کا پیشہ مغل بادشاہوں کے دور کے بعد انگریزوں کی سلطنت میں بھی کار سرکار کیلئے نہایت اہم سمجھا جاتا تھاانیس سو ساٹھ کے آخر تک ڈھنڈورچی پشاور اور بر صغیر کے تمام شہروں میں جگہ جگہ کھڑے ہو کر پہلوانوں کی کشتیوں‘ کھیلوں کے مقابلوں اور سماجی تقریبات کے اعلانات کیا کرتے تھے بعد ازاں ٹانگے پر لگے ہوے لاؤڈ سپیکروں نے اس قدیمی پیشے کی جگہ لے لی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ٹانگے کی جگہ سوزوکی آگئی اسکے ساتھ ہی اخبار ‘ ریڈیو اور ٹیلیویژن نے ابلاغ کے ان پرانے ذرائع ابلاغ کو ماضی کی دھند میں لپیٹ دیا د وسرے سیشن کے بعد شام 6 بجے شروع ہونے والی محفل موسیقی نصف شب تک جاری رہی اسمیں سعدیہ ملک نے اپنی رسیلی آواز میں مشہور فلمی گیت اور غزلیں سنا کر حاضرین محفل سے بے پناہ داد اور سینکڑوں ڈالر وصول کئے اس شب زندہ دلان نیو یارک دیر تک رقص کناں رہے اور ا س محفل کا اختتام ایک پشاوری نوجوان طارق قریشی کی زبردست دھمال پر ہوااسمیں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد نے شرکت کی مہمانوں کی تواضع پر تکلف لنچ اور ڈنر سے کی گئی اسکے انعقاد میں نیویارک کی بیشتر پاکستانی تنظیموں نے تعاون کیا گزشتہ چار ماہ سے اس اجتماع کے خدو خال سنوارنے میں شاہد کامریڈ‘ محمد حسین اور ملک سلیم نے جو محنت کی اسکی تفصیل بیان کرنے کیلئے ایک الگ کالم چاہئے ان تینوں بے لوث اور مخلص کمیونٹی آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ یہ انکے ملک پاکستان کی ساری زبانوں کی ایک تقریب تھی اسے انکے شہر نیویارک میں منعقد کیا گیا اسلئے اسے کامیاب کرنا انکی ذمہ داری تھی میں اس محفل میں شرکت کرنے والے سب دوستوں کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے اسمیں حصہ لے کے اسے یادگار بنا دیا ۔