بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / وہ کابل تھا یا نہ تھا

وہ کابل تھا یا نہ تھا


عام تاثر یہی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے چار دنوں میں افغانستان‘ پاکستان اور انڈیا کا دورہ کیا ہے مگر ایک خبریہ بھی ہے کہ عراق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر انہیں پیر کی رات اچانک بغداد جانا پڑا امریکی اخبارات نے ریکس ٹلرسن کے دورۂ بغداد کو زیادہ نمایاں طور پرشائع کیا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ وہ بغداد سے سیدھا اسلام آباد گئے تھے یا کابل جا کر پاکستان کو روانہ ہوئے تھے اسلام آباد میڈیا نے ابھی تک ٹلرسن کے دورۂ بغداد کی کوئی خبر نہیں دی امریکی ذرائع ابلاغ کے مطالعے کی وجہ سے مجھے سیکرٹری آف سٹیٹ کا اچانک چند گھنٹوں کیلئے بغداد چلے جانا خاصا اہم لگا ہے عراق سے داعش کی پسپائی بظاہر امریکہ کیلئے ایک اچھی خبر ہے یہ دن دیکھنے کیلئے اس نے تین سال تک مسلسل عراقی افواج ‘کرد ملیشیا جسے پش مرگہ کہا جاتا ہے اورکئی دوسرے جنگجو گروہوں کو فوجی تربیت دی تھی داعش کی عراق اور شام میں شکست کے فوراًبعد عراق نے مجوزہ آزاد کردستان کے بڑے شہر کرکوک پر پے در پے حملے کر کے اسے آزاد کروا لیا کردستان کے جنگجو مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کے پالیسی سازوں کیلئے دو دھاری تلوار کا کام دیتے ہیں امریکی حکمت کار انہیں ایک طرف بغداد کے خلاف اور دوسری طرف دمشق میں بشارالاسد کی حکومت کے خلاف استعمال کرتے ہیں ریکس ٹلرسن کے اچانک بغداد جانے کی ایک وجہ وزیر اعظم حیدرالابادی کو کرد علاقوں میں پیش قدمی سے روکنا تھا مگر اسکی اصل وجہ ٹلرسن کا اتوار کے دن سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں دیا ہوا بیان تھا۔

اس میں انہوں نے عراق میں موجود حشادالشابی نامی ایرانی جنگجو گروپ کی فوری بیدخلی کا مطالبہ کیا تھا اس بیان کا مقصدایک طرف سعودی عرب کو امریکی حمایت کا یقین دلانا تھا اور دوسری طرف ایران کو خبردار کرنا تھا کہ وہ عراق میں مداخلت سے بعض آ جائے مگر بغداد میں حیدرالابادی نے اسکا اتنا سخت جواب دیا کہ امریکہ سٹپٹا اٹھا اور ٹلرسن کو بگرام ایئر بیس سے فوراً بغداد جانا پڑا عراقی وزیر اعظم نے ٹلرسن کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا “Members of the militias are Iraqi patriots who have sacrificed greatly to defend their country”یعنی ملیشیا کے ممبر عراقی محب الوطن ہیں انہوں نے اپنے ملک کے دفاع کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں اس بیان میں امریکہ کو مخاطب کئے بغیر یہ بھی کہا گیا تھا ” No side has the right to intervene in Iraq’s affairs or decide what Iraqis should do”یعنی کسی فریق کو بھی عراق کے معاملات میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے اور نہ کوئی دوسرا یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ عراقیوں کو کیا کرنا چاہئے۔

چوبیس اکتوبر کے نیو یارک ٹائمز نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ چودہ سال کی طویل جنگ‘ ہزاروں امریکی جانوں کے نقصان اور کھربوں ڈالر لگانے کے بعد بھی امریکہ عراق کے حکمرانوں سے اپنی بات نہیں منوا سکتا اسی خبر میں یہ بھی لکھا ہے کہ افغانستان کے حالات عراق سے بھی زیادہ ناگفتہ بہ ہیں اسکا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریکس ٹلرسن طالبان کے حملوں کے خوف سے کابل کے صدارتی محل جانے کی بجائے بگرام ایئر بیس گئے اور صدر اشرف غنی سے انکی ملاقات بھی اسی پرانے اور رسوائے زمانہ فوجی قلعے میں ہوئی مگر امریکی میڈیا کو یہ خبر دی گئی کہ سیکرٹری آف سٹیٹ نے یہ ملاقات کابل کے صدارتی محل میں کی ہے اب امریکی عوام کو یہ تو نہیں بتایا جا سکتا کہ سولہ سال تک مسلسل جنگ لڑنے‘ تین ہزار کے لگ بھگ فوجی ہلاک کروانے اور ایک کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ کابل کے اندر داخل نہیں ہو سکتے ٹلرسن کے کابل نہ جا سکنے کی خبر ٹرمپ انتظامیہ کیلئے خاصی تضحیک آمیز ثابت ہوئی ہے چوبیس اکتوبر کے امریکی اخبارات میں ٹلرسن اور اشرف غنی کی ملاقات کی دو تصاویر شائع ہوئی ہیں دیکھنے میں دونوں یکساں نظر آتی ہیں مگراخبار نے ان میں پائے جانے والے فرق کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان میں سے اصل تصویر بگرام یئر بیس میں لی گئی ہے جبکہ ریکس ٹلرسن کو کابل کے صدارتی محل میں ظاہر کرنے والی تصویر doctored یعنی تبدیل شدہ ہے۔

ان دونوں تصویروں میں ٹلرسن اور غنی ساتھ ساتھ بیٹھے ہیں انکے پیچھے دیوار میں دو بڑے ٹیلی وژن سیٹ لگے ہوئے ہیں ان دونوں کے درمیان ایک کافی ٹیبل پر تھرماس‘ دو کپ اور پانی کی دو بوتلیں پڑی ہیں انکے عملے کے افراد دو قطاروں میں انکے دائیں بائیں بیٹھے نظر آرہے ہیں ان دونوں تصویروں میں اگر کوئی فرق ہے تو صرف اتنا کہ ان میں سے ایک میں دیوار پر ایک بڑا ڈیجیٹل کلاک اور فائر الارم نظر نہیں آرہا یہ دونوں اشیاء بگرام ملٹری بیس میں تو ہیں مگر کابل کے صدارتی محل میں نہیں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی مہیا کی ہوئی تصویرکے نیچے صدارتی محل میں ٹلرسن اور غنی کی ملاقات کے تعارفی الفاظ لکھے ہوئے تھے اس تصویر کے موصول ہوتے ہی صحافیوں نے پوچھنا شروع کر دیاکہ صدارتی محل میں ڈیجیٹل کلاک اورفائر الارم کہاں سے آگئے وہاں سے جب کوئی جواب نہ ملا تو اگلے دن نیو یارک ٹائمز نے یہ سرخی جمائی A Meeting in Afghanistan, A Doctored Photograph And Many Questions اس خبر کے شروع میں لکھا ہے It was kabul and it was not Kabul. There was a clock and there was not a clock یعنی وہ کابل تھا اور وہ کابل نہ تھا وہاں ایک گھڑیال تھا اور وہاں ایک گھڑیال نہ تھاچوبیس تاریخ کے امریکی اخبارات میں اس خبر کو پڑھ کے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے امریکہ کی حالت مضحکہ خیز ہے یا افسوسناک یہ حالت جیسی بھی ہو امریکی اسٹیبلشمنٹ اپنے عوام اور دنیا بھر کو بیوقوف بنانے کا گر جانتی ہے اسے اگر یہ گر نہ بھی آئے تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کوئی اسکا کیا بگاڑ سکتا ہے وہ جنگل کا بادشاہ ہے بچہ دے یا انڈہ اسکی مرضی ‘منگل چوبیس اکتوبر کو ٹلرسن اسلام آباد پہنچے وہاں جانے سے پہلے انہوں نے بگرام میں اور وہاں جانے کے بعد اگلے روز نئی دہلی میں انہوں نے پاکستان کو دہشت گرد گروپوں کی پشت پناہی ترک کرنے کی جو دھمکیاں دیں ۔

اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ امریکی وزیر خارجہ کابل نہیں جا سکتے اور بغداد میں انہیں کھری کھری سنائی جاتی ہیں پاکستانی اخبارات نے ٹلرسن کے دورے کے بارے میں جو کچھ لکھا وہ ہمارے سامنے ہے امریکہ اسوقت دنیا میں کہاں کھڑا ہے اسکا مقام کیا ہے وہ افغانستان‘ عراق اور شام کی جنگوں کا فاتح بن سکتا ہے یا نہیں ‘ یہ سوال یوں بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی شروع کی ہوئی ان جنگوں سے جان بچا کر نکل سکتا ہے یا نہیں‘ ان تمام سوالوں کا جواب اس خبر میں نہیں ڈھونڈا جا سکتا کہ ٹلرسن نے اسلام آباد میں کیا کہا اور کیا سنا اسکا صحیح جواب ان دندان شکن حالات میں ہے جن سے امریکہ افغانستان اور عراق میں نبرد آزما ہے اسلام آباد کے مقتدر حلقوں کو جلدیا بدیر یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑیگی کہ امریکہ کسی بھی وقت بد حواس ہو کر پاکستان کو نشانے کی زد پر لے سکتا ہے مگر ہماری مقتدر قوتوں کو زیادہ پریشان ہونیکی ضرورت اسلئے نہیں کہ امریکہ اپنا غصہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کی صورت میں نکالے گا اسکے جواب میں ہماری سول اور ملٹری قیادتیں دو چار گرجدار بیانات داغ دیں گی اور اس گھن گرج میں کسی کو یہ بھی پتہ نہ چلے گا کہ کتنے گھر تباہ ہوئے ‘ کتنے معصوم بچے ہلاک ہوئے‘کتنی عورتیں اور بوڑھے لقمہ اجل بنے اور کتنے جوان کام آئے کوہ ہندو کش کے پہاڑ ان نئے زخموں کو بھی اپنے سینے میں چھپا لیں گے مگر یہ لاوہ جس دن بھی پھٹا‘ طاقت کے ایوان لرزہ بر اندام ہو جائیں گے۔
بے انت خامشی میں کہیں اک صدا تو ہے
ماتم ہوائے شہر نے اب کے کیا تو ہے
بے چہرہ لوگ ہیں کہیں بے عکس آ ئینے
گلیوں میں رقص کرتی ہوئی بد دعا تو ہے