بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / نتائج کانتیجہ

نتائج کانتیجہ


یہ درست ہے کہ ضمنی انتخابات میں جیت زیادہ تر صوبائی حکمران جماعت کے حصے میں آتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ضمنی انتخابات پچھلے عام انتخابات کے ساڑھے چار سال کے عرصے کے بعد ہورہے ہوں تو عوام برسر اقتدار صوبائی حکومت کی کارکردگی اچھی طرح جان چکے ہوتے ہیں اور ایسی صورت میں انکا حکمران جماعت کو ووٹ دینا محض سطحی عوامل کامرہون منت نہیں ہو سکتالہٰذا اگر این اے چار کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے اپنی کامیابی برقرار رکھی ہے تو اس میں کسی نہ کسی حد تک ان مثبت پہلوؤں کا ہاتھ ضرور ہے جوصوبائی حکومت کی کارکردگی سے جڑے ہیں ہاں یہ امر یقیناًغور طلب ہے کہ این اے 4 میں پی ٹی آئی کا 2013 کے 55134ووٹوں کے مقابلے میں اس ضمنی انتخاب میں 47586 ووٹ لینا یعنی 7548ووٹوں کی کمی جبکہ اسی حلقے سے مسلم لیگ (ن) کا 2013 کے 20413 ووٹوں کے مقابلے میں حالیہ ضمنی انتخاب میں 25267 ووٹ حاصل کرنا یعنی 4854 ووٹ کا اضافہ کن عوامل کی نشاندہی کر رہا ہے؟ ،مذکورہ اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ پچھلے عام انتخابات کے مقابلے میں اس حلقے میں پی ٹی آئی کے گراف میں کچھ کمی آئی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے گراف میں کچھ اضافہ ہوا ہے با الفاظ دیگرصوبائی حکومت پوری طرح اس حلقے کے باشندوں کو مطمئن نہیں کر پائی اور حلقے کے عوام مسلم لیگ (ن) سے متاثر ہو رہے ہیںیا یوں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران اس حلقے کی اپ گریڈیشن کیلئے مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر امیر مقام کی کوششوں کو پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

‘یہ صورتحال پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ جو صوبائی حکومت پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس کی جانب سے ضمنی الیکشن کے پولنگ ڈے کے قریب این اے 4 کے دیرینہ مسئلے اوچ نہر منصوبے کیلئے فنڈز کے اجراء اور سولر پینلز کی تنصیب جیسے اقدامات پی ٹی آئی کی سیٹ بچانے کا باعث بنے اس الزام اور علاقے میں مسلم لیگ (ن) کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو زائل کرتے ہوئے 2018 کے عام انتخابات میں یہاں سے کامیابی کا تسلسل برقرار رکھنا پی ٹی آئی کیلئے آسان نہیں ہو گااین اے 4کے ضمنی انتخابات میں سامنے آنے والے نتائج کوابھی سے پشاور اور خیبر پختونخوا میں 2018 کے متوقع انتخابی نتائج کے حوالے سے تجزیوں اور تبصروں کی بنیاد بنا لینا اگرچہ کچھ زیادہ مناسب نہیں ہوگا تاہم اس ضمنی انتخاب کے نتائج بعض ایسے نکات کی نشاندہی کر رہے ہیں جن پرمستقبل کی انتخابی سیاست کے حوالے سے غور کرنا ضروری ہے ان میں سے سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ 2013 کے عام انتخابات کے مقابلے میں حالیہ ضمنی انتخاب میں اے این پی کو اچھی خاصی پذیرائی ملی ہے جو اس امر کی غماز ہے کہ اے این پی عوامی مقبولیت کے میدان میں کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے ضمنی انتخاب میں اے این پی کے خوشدل خان کا25143ووٹ لینا یعنی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سے محض124ووٹوں کی دوری سے تیسری پوزیشن پر رہناظاہر کر رہا ہے کہ اس حلقے میں جہاں سے ماضی میں اے این پی کامیاب ہوتی رہی ہے پھر سے اے این پی کیلئے ہمدردی کے جذبات ابھر رہے ہیں‘یہاں ایک اہم پوائنٹ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور اے این پی جو 90کی دہائی میں بھی انتخابی حلیف رہ چکے ہیں اگر 2018کے عام انتخابات میں انتخابی ایڈجسٹمنٹ کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں اور جے یوآئی (ف) بھی انکے ہم رکاب ہو جاتی ہے ( جس کا واضح امکان موجود ہے ) تو پھر پی ٹی آئی کیلئے اس حلقے میں کامیابی تقریباً ناممکن سی ہو جائے گی اسی پوائنٹ کو پورے صوبے کی سطح پر ایک وسیع زاویئے سے دیکھنا آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو ممکنہ طور پر پیش آنیوالی مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔

این اے 4کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواراسد گلزار کا صرف 12802ووٹ لینا بتا رہا ہے کہ پنجاب کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی پیپلز پارٹی تاحال (ہاٹ واٹرز) سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوئی، نہ آصف علی زرداری کے تند و تیز بیانات ہی عوام کو متاثر کر پائے ہیں اور نہ ہی بلاول بھٹو کی قیادت ابھی کوئی ایسا کرشمہ دکھا پائی ہے جو پی پی پی کے زوال کو عروج میں بدلنے کا سامان کر سکے یوں آنے والے عام انتخابات میں پی پی پی کا کم از کم انفرادی حیثیت میں اس صوبے میں قابل ذکر کا میابیاں سمیٹنا از حد مشکل ہوگا این اے 4کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی کے امیدوار کا صرف7409ووٹ حاصل کرنا اور ان سے زیادہ یعنی9470ووٹوں کا تحریک لبیک پاکستان کے حصے میں چلے جانابتا رہا ہے کہ سراج الحق کو امیر جماعت کے منصب پر فائز کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے زعماء نے انتخابی سیاست میں جماعت اسلامی کے مقام سے متعلق جو توقعات اور امیدیں وابستہ کی تھیں ان کی تکمیل تا حال ایک خواب ہے اور جماعت اسلامی انفرادی حیثیت میں کوئی بڑا انتخابی بریک تھرو یا اپ سیٹ کرنے کی پوزیشن میں نہیں آئی ہے ،البتہ مذہبی جماعتوں کا اتحاد قائم ہونے کی صورت میں وہ اتحادانتخابی کامیابیاں سمیٹ سکتا ہے۔