بریکنگ نیوز
Home / کالم / جان بہاراں رشک چمن غنچہ دہن

جان بہاراں رشک چمن غنچہ دہن


کچھ دن پہلے ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج پر سیاسی زعما کے تبصرے اور حالات حاضرہ کے پنڈتوں اور منجموں کے تجزئیے اخبارات‘ پریس کانفرنسوں اور نیوز چینلز پر وہ ہنگامہ بپا کئے ہوئے ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ایک آدھ آواز البتہ سوشل میڈیا کے حق میں یا خلاف بھی سنائی دیتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے حامی یا مخالفین رائے عامہ پر اثر انداز ہو رہے ہیں میرا خیال ہے کہ اگر ایسا ہو بھی رہا ہے تو یہ ایک ایسی مثبت سرگرمی ہے جس میں نہ گلے پھاڑ کر اپنی بات میں زور پیدا کیا جاتا ہے نہ ہی ابلاغ عامہ کو یرغمال بنا کر اپنے حق میں کہانی کا رخ تبدیل کرنیکی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ کوئی کوئی پوسٹ کسی جماعت کے کسی جذباتی کارکن کی اشتعال انگیز ہوتی ہے جس پر کچھ گرما گرم کمنٹس بھی آ جاتے ہیں لیکن اکثریت لا تعلق رہتی ہے بلکہ ایسے ایسے خوبصورت کمنٹس پڑھنے کو ملتے ہیں کہ بے ساختہ منہ سے واہ نکلتی ہے۔ اسی ضمنی انتخابات کے نتائج پر اخبارات اور چینل کے کئی کالم اور شوز پر ‘سوشل میڈیا کے یک سطری دو سطری کمنٹس بھاری پڑرہے تھے۔ مختلف جماعتوں کی کار کردگی کے حوالے سے ایک پوسٹ میں اتنے مزے کے تبصرے تھے کہ احباب کی دل آزاری کا خیال نہ ہوتا تو ضرور شیئر کرتا‘چلئے ایک محفوظ مگر بلا کی دلچسپ پوسٹ شیئر کردوں یہ دو دن قبل نصف شب کے وقت پوسٹ کی گئی جس نے مجھے نہ صرف سرشار کیا بلکہ میرے تھکے ہوئے اعصاب کو بھی تازہ دم کر دیا‘ یہ صرف پشتو زبان کے تین لفظوں پر مشتمل تھا۔

جو در اصل ایک پشتو روزمرہ کا ادھورا ٹکڑا تھا ‘عام طور پر ایسے ادھورے اشعار اور جملے اس لئے پو سٹ کئے جاتے ہیں تاکہ ہر ایک اسے اپنی صوابدید کے مطابق مکمل کرے‘ یار لوگ اصل کیساتھ ساتھ اس میں ترمیم اور اضافہ کر کے پیش کرتے ہیں‘اس پوسٹ میں لکھا تھا ’ ’بَلا وہ خو۔ ‘‘ ( مصیبت تھی مگر۔ ) یہ ایک عمومی سا روز مرہ ہے جس کا ماخذ(غالباََ) فارسی کا روز مرہ ہے کہ ’’ بلائے بود ولے بخیر گزشت ‘‘ ( مصیبت آن پڑی تھی مگر کوئی نقصان پہنچائے بغیر ٹل گئی)پشتو میں اس کا اظہاریہ یوں ہے کہ ’’مصیبت آئی تھی مگربے برکت تھی ‘‘ گویا وہی کہ بخیر ٹل گئی تو وہ پوسٹ تو بس اتنی ہی تھی اور ایک آدھ کمنٹس میں اس روزمرہ کو پورا بھی کیا گیا تھا‘میں سوچ رہا تھا کہ آدھی رات کو اس پوسٹ کی کیا ضرورت پیش آئی ہو گی‘ ایسا کیا ہوا ہے کہ اسے فیس بک پر شیئر کرنیکی ضرورت پیش آگئی ہے اچانک میرے ذہین میں ایک جھپاکا سا ہوا جس نے مجھے سرشار بھی کردیا‘ میرے تھکے اعصاب کو سکون بھی دیا اور مجھے اس پر کمنٹس کرنے پر مجبور بھی کیا‘میرے کمنٹس تھے ’’شاداب کو اللہ شاداب رکھے ‘‘اسکا پس منظر یہ ہے کہ یہ پوسٹ عین اس وقت لگائی گئی جب پاکستان ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد سری لنکا سے دوسرا ٹی ٹوینٹی کرکٹ میچ بلکہ سیریز بھی جیت گیا تھا جن دوستوں نے یہ میچ خصوصاََ آخری دس اوورز کا کھیل دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ ہر بال کیساتھ دل کی دھڑکن تیز ہوتی رہی اور آخر آخر کو بال اور رنز کے درمیان مقابلہ شروع ہو گیا پہلے بال زیادہ رنز کم تھے مگر سری لنکا کی نپی تلی باؤلنگ نے پاکستانی بیٹنگ کو باندھے رکھا اور پھر رفتہ رفتہ بال کم اور رنز زیادہ ہونے لگے تو دل بھی جیسے حلق میں اٹکنا شروع ہو گیا۔

لیٹ کر میچ دیکھنے والے اٹھ کر بیٹھ گئے اور بیٹھ کر دیکھنے والے کھڑے ہو گئے‘یہ ناخن چپانے والی کیفیت تھی جسے میچ کی کوریج کرنیوالے باذوق کیمرہ مین مزید جذباتی یوں بنا رہے تھے کہ ہزاروں تماشائیوں کے ہجوم میں سے اس تماشائی پر کیمرہ فوکس کر دیتے جو بند آنکھوں کیساتھ کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے اپنی اپنی ٹیم کے لئے دعائیں اور پرارتھنا کر رہے تھے یا پھر بے چین کوچ اور مضطرب کھلاڑیوں پر کیمرہ زوم کر دیتے‘ اب کھلاڑی پویلین کو ایک ایک کر کے لوٹ رہے تھے اور میچ پر سری لنکا کی گرفت مضبوط ہورہی تھی۔اعصاب شکن لمحات تھے جو سکرین سے نظریں ہٹانے نہیں دے رہے تھے اور پھر آخری اوورآگیا اور پاکستانیوں کی امید کے چراغ ٹمٹمانے لگے اور جب آخری تین بالوں پر آٹھ رنز رہ گئے تو سری لنکن کیمپ میں فتح کی خوشیاں نظر آنے لگیں مگر گھومتی گیندیں کرانے والے جواں سال شاداب خان نے ایک ایسا زوردار چھکا جڑ دیا کہ جاوید میاں داد کے شارجہ فیم چھکے کی یاد دلا دی، اب دو رنز کی ضرورت تھی جسے انیس سالہ شاداب خان نے اگلی ہی گیند پر پورا کر دیا یوں دیکھتے ہی دیکھتے میچ کا پانسہ پلٹ گیا اور پاکستان جیت گیا مگر دل اور اعصاب دونوں تھکن سے چور چور تھے جیت کے ساتھ ہی ہنستے ہوئے ایک لمبی گہری سانس نے جیسے بڑی حد تک فرحت بخشی ‘لیکن اصل سرشاری تو سوشل میڈیا کے اس پوسٹ نے دی جس میں پشتو کے ایک روز مرہ کا ذکر تھا اور اس میچ کی جیت کے کے اگلے ہی لمحہ میں پوسٹ کی گئی تھی۔’’ بلا وہ خو۔ ‘‘ یہ جو میں نے اتنی تفصیل سے میچ کی کہانی لکھی ہے تو ایک اسلئے کہ ’’ لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم‘‘ یعنی میچ کہانی مزے کی تھی پھر تفصیل کے بغیر پشتو روزمرہ کی اہمیت واضح نہ ہوتی۔ بڑی ذہانت سے صرف تین لفظوں میں سارے میچ اور اعصاب شکن لمحوں کو بیان کر دیا گیا‘ اب آپ میچ کو یاد کیجئے اور اسے ایک بار پھر ادھورا یا پورا پڑھیے بہت مزا آئے گا۔ ’’ بلائے بود ولے بخیر گزشت ‘‘ یعنی ’’ بلا وہ خو برکت ئے نہ وو‘‘ کچھ دوست اسے یوں بھی کہتے ہیں کہ کہ بَلا وَہ خو بچی ئے نہ وْو۔بلا اور اس کے بچوں کے حوالے سے سعید احمد اختر نے کیا خوب شعر کہا ہوا ہے کہ

بلا نے اپنے بچوں کو دعا دی
خدا محفوظ رکھے ہر بشر سے

فیس بک پر ایک اور پوسٹ بھی کل ہی پڑھی بلکہ پوسٹ سے پہلے نظر ایک کمنٹ پر پڑی جس میں اداکار و گلوکار(؟) علی ظفر پر قتل کے الزام سے متعلق تھی،حیرانی سے پورا کمنٹ اور پھر جواں فکر فیصل ودود کی پوسٹ پڑھی اور اس کے تیور دیکھ کر ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور برخوردار فیصل کو بہت سی داد بھی دی ‘میں نے ایک بار پہلے بھی اسے بہت سی داد اور ڈھیروں دعائیں اس وقت دی تھیں جب وہ ابھی دوسری تیسری جماعت کا طالب علم تھا اور اس نے اپنے خوش آواز پاپا مرحوم عبدالودود کے کہنے پر مجھے نعت رسول مقبول ؐسنائی تھی۔ نسیم حجازی کے گھر کے ساتھ والے گھرمیں رہنے والا عبدالودود اکوڑہ خٹک کا باسی اور میرا انجینئر دوست تھا جو بلا کا سریلا تھا اور اساتذہ کی غزلیں سنایا کرتا تھا۔ وہی فیصل ودوداب ایک تازہ کار شاعر ہے‘اسکی پوسٹ دراصل علی ظفر کے خلاف دفعہ 302 کی ایف آر تھی کہ اس نے ما سٹر عنایت حسین کی موسیقی میں ماضی کے گلو کار سلیم رضا کے فلم عذرا کے لئے گائے ہوئے ایک اب تک مشہور و مقبول گیت کو ایک نجی میوزک سٹوڈیوز میں قتل کر دیا ہے‘ اس پر فیصل ودود کو غصہ تھا حالانکہ یہ سٹوڈیو اب موسیقی کا مقتل بنتا جاتا ہے اور اس سے پہلے بھی موسیقی کیساتھ اس طرح کا کھلواڑ کرتا رہا ہے مگر اب کے علی ظفرنے سلیم رضا کے گیت کیساتھ جو سلوک کیا ہے‘وہ اس نوجوان کے نزدیک قابل دست اندازئ پولیس ہے۔ آپ بھی اس گیت کو یو ٹیوب میں تلاش کر کے سنئے اور دیکھئے کہ فیس بک کی یہ ایف آئی آر کس حد تک درست ہے۔ گیت کے بول ہیں۔
جانِ بہاراں رشکِ چمن،غنچہ دہن
سیمیں بدن اے جان من