بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / افغانستان کی بگڑتی صورتحال

افغانستان کی بگڑتی صورتحال


کابل سمیت افغانستان کے مختلف شہروں میں پچھلے چند دنوں کے دوران ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات میں دو سو سے زائد سکیورٹی فورسز اور سول افراد کی ہلاکتوں سے بگڑتی ہوئی صورتحال نے افعانستان میں قیام امن کے حوالے سے افغان حکومت اور امریکی دعوؤں پرایک بارپھر سوالات اٹھا دیئے ہیں‘ واضح رہے کے افغانستان میں پچھلے چند دونوں کے دوران قندہار میں ایک فوجی چھاؤنی‘ گردیز میں قائم پولیس ہیڈکورٹر‘ کابل میں افغان آرمی کے کیڈٹس کی بس اور کابل سمیت بعض دیگر شہروں میں ایک ہی روز مختلف امام بار گاہوں پر ہونیوالے خودکش حملوں میں کئی سکیورٹی اہلکاروں سمیت 213افراد ہلاک ہوچکے ہیں‘ جبکہ اسی اثناء پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان اور کرم ایجنسی کے علاوہ کوئٹہ میں بھی پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر حملے کئے گئے جن مین ڈیڑھ درجن سے زائد اہلکار جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوئے ‘ڈیورنڈ لائن کے آر پار ہونیوالے دہشت گردی کے ان واقعات کو اگر خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں جوڑ کر دیکھا جائے تو ان میں ایسے غیر ملکی ہاتھوں کے ملوث ہونے کے امکانات واضح طور پر محسوس کئے جاسکتے ہیں۔یہ قوتیں اپنے مذموم عزائم اور مفادات کیلئے ایک تیر سے پاکستان اور افغانستان کو نشانہ بناتے ہوئے جہاں ان دونوں ممالک کو غیر مستحکم رکھنا چاہتی ہیں وہاں یہ قوتیں اپنی ان بزدلانہ کوششوں کے ذریعے افغانستان اور پاکستان میں غلط فہمیوں کی خلیج کوبھی مزید وسیع کرنا چاہتی ہیں‘یہ وہ قوتیں ہیں جنہیں نہ تو افغانستان میں امن وا ستحکام عزیز ہے اور جنہیں نہ ہی پاکستان میں لوٹتاہوا امن اور استحکام ہضم ہو رہا ہے۔

دراصل یہ وہی قوتیں ہیں جو اس خطے کو غیر مستحکم رکھ کر اگر ایک طرف اس خطے میں اپنے طویل قیام کیلئے جواز تلاش کرنا چاہتی ہیں تو دوسری طرف یہ قوتیں نہیں چاہتیں کہ اس خطے میں دو ابھرتی ہو ئی اقتصادی طاقتوں چین اور روس کے درمیان شنگھائی تعاؤن تنظیم اور ون بیلٹ ون روڈ کے نظرئیے کے تحت اس خطے میں اقتصادی ترقی اورسیاسی استحکام کے امکانات پیدا ہوں لہٰذایہ طاقتیں اس خطے کیلئے برائی کے محور کا کردار ادا کرتے ہوئے یہاں ہروہ قدم اٹھانے سے دریغ نہیں کررہی ہیں جسکے ذریعے اس خطے کو عدم استحکام سے دو چار کیا جا سکتا ہے ۔ امریکہ نے افغانستان سے انخلاء کے سابق صدرباراک اوباما کے فیصلے کو روندتے ہوئے یہاں دوبارہ فوج کی تعداد میں اضافے اور زیادہ جارحانہ انداز میں طالبان کو کچلنے اور اس ضمن میں پاکستان کو ہدف بناکر دباؤ میں لانے کی جو نئی حکمت عملی اپنا ئی ہے یہ اسکا نتیجہ ہے کہ افغانستان کا زخم مندمل ہونے کی بجائے مزید بگڑکرنا سور کی شکل اختیار کر رہا ہے ایسے حالات میں جب طالبان پہلے سے زیادہ منظم اور متحرک ہو چکے ہیں اور انکے ساتھ ایران اور روس کی جانب سے سپورٹ کے الزامات خود امریکہ بھی بارہا عائد کر چکا ہے اور جنہیں سیاسی دھارے میں لانے اور انکے سیاسی وجود کو امریکہ اور افغان حکومت سے تسلیم کروانے کیلئے چین اور پاکستان پہلے سے زیادہ فعال کرداراداکر ہے ہیں۔

ان حالات میں امریکہ کی طرف سے طالبان کے خلاف جارحانہ حکمت عملی کا اختیار کیا جانا اور اس ضمن میں بھارت کو زبردستی افغان قضیئے میں کوئی عملی کردارادا کرنے پر مجبور کرنے سے اس بحران کے ٹلنے کی بجائے اسکا مزید پیچیدگی اختیار کرنا بعید از قیا س نہیں ہے ۔ یہاں امریکہ کو یہ تلخ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں طاقت اور دھونس کے ذریعے کسی قوم کی آزادی کو عارضی طور پر تو سلب کیا جا سکتا ہے لیکن ایسے کسی غاصبانہ قبضے کو کم ازکم افغانستان جیسے ملک میں دیر تک برقرار رکھنا اتنا آسان نہیں ہے ‘اسی تناظر میں امریکہ اپنا بوجھ ہلکاکرنے کیلئے افغانستان کے دلدل میں بھارت کو جو قائدانہ کردار دینے کا بلنڈر کرنے جا رہا ہے اس کا خمیازہ امریکہ سمیت بھارت کو بھی بڑی قیمت کی صورت میں بھگتنا ہوگا۔امریکہ کو یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ عراق پر حملے اور وہاں عارضی فتح سے امریکہ کی پوزیشن مستحکم ہونے کی بجائے القاعدہ‘داعش اور کئی دیگر جنگجو گروپوں کے وجود میں آنے سے پورا مشرق وسطیٰ آتش فشاں کا منظر پیش کر رہا ہے اور اب اگر امریکہ یہی غلطی افغانستان میں از سر نو دہراناچاہتا ہے تو اس سے یہ پورا خطہ تو عدم استحکام کا شکار ہوگاہی لیکن اسکی لپیٹ اور تپش سے امریکہ بھی خود کو نہیں بچاپائے گا‘اسی طرح بھارت کو افغانستان میں فعال کردار کی ادائیگی کی دعوت دینے سے امریکہ افغان بحران کے کئی حوالوں سے سب سے اہم فریق پاکستان کو جو سرخ جھنڈی دکھا رہا ہے وہ بھی نہ تو قرین مصلحت ہے اور نہ ہی ایسے بھونڈے اور خلاف حقیقت فیصلوں سے امریکہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو سکتا ہے۔