بریکنگ نیوز
Home / کالم / ٹیلز آف الحمرا

ٹیلز آف الحمرا


بات اس ویڈیو سے چل نکلی تھی جس میں ایک شامی نوجوان غرناطہ کے قصر الحمرا کی ایک دیوار کے سائے میں اذان دے رہا ہے‘ لوگ قریب سے گزرتے جاتے ہیں کہ انہیں کیا خبر کہ وہ کیا کر رہا ہے اور اس ویڈیو کو دیکھ کر ہم مسلمان بے حد جذباتی ہوگئے‘ آبدیدہ ہوگئے کہ سبحان اللہ ایک مرتبہ پھر اندلس میں اذان کی صدا بلند ہوئی ہے‘ لیکن ہم نے ہر گز اس عمل پر غور نہیں کیا‘کیا مضمرات ہو سکتے ہیں ادھر دھیان نہیں کیا وہ میں کالم کے آخر میں عرض کردونگا لیکن ابھی میں’’ الحمرا کی کہانیاں‘‘ کے امریکی مصنف کا تذکرہ مکمل کرونگا قصر الحمرا کے کھنڈر میں کئی ماہ قیام کرنے والے واشنگٹن ارونگ کی داستان سناؤنگا جسکی تعیناتی ایک امریکی سفارتکار کے طورپر غرناطہ میں ہوئی اور یہ پچھلی صدی کے اوائل کا قصہ ہے تو اس نے غرناطہ کے گورنر سے استدعا کی مجھے الحمرا کے کھنڈروں میں کچھ شب و روز بسر کرنے کی اجازت دی جائے کہ مجھے اس اجڑے ہوئے مورش محل کی تاریخ بہت مسحور کرتی ہے‘گورنر اس درخواست پر بے حد حیران ہوا کہ شہر کے وسط میں جبل سبیقہ کی پہاڑی پر صدیوں سے اجڑے پڑے مسلمانوں کے تعمیر کردہ اس قصرکے کھنڈروں میں بسیرا کرنا تو پاگل پن ہے…اس نے واشنگٹن کو کسی بہتر رہائش گاہ کیلئے قائل کرنیکی کوشش کی لیکن وہ پاگل امریکی نہ مانا…کھنڈر کے ایک ایسے کمرے میں منتقل ہوگیا جسکی چھتیں ابھی باقی تھیں‘ ایک خانہ بدوش کی مانند زندگی بسر کرنے لگا…ڈھے چکے ایوانوں میں الو بولتے تھے‘ چمگادڑیں غل کرتی تھیں اور راتوں میں اسے محسوس ہوتاکہ غرناطہ سے بچھڑجانیوالے مسلمان شہزادے اور شہزادیاں اسکے ایوانوں میں آہ وزاری کرتے ہیں…کبھی صدیوں سے خشک پڑے فوارے ابلنے لگتے ہیں اور کبھی چاند کا پورا تھال اسکے آلودہ ہوچکے تالابوں میں اتر آتا ہے… واشنگٹن ارونگ نے اندلس میں موروں کے عروج اور زوال کے بہت سے قصے سن رکھے تھے۔

‘ وہ مورش عہد کے سحر میں مبتلا ہو چکا تھا‘ وہ کون لوگ تھے جنکے عقیدے کی بنیاد فلسفہ‘ تحقیق‘ طب‘ آفاقی علوم اور مذہبی رواداری تھی‘ جنہوں نے یورپ کی تاریکیوں میں روشن خیالی کی شمعیں روشن کیں‘ جنہوں نے قصر الحمرا اور مسجد قرطبہ ایسی عجوبہ عمارتوں کی تعمیر کی… واشنگٹن ارونگ نے انہی اجاڑ کمروں میں بیٹھ کر انہی تصورات اور قدیم روایتوں کے امتزاج سے’’ الحمرا کی کہانیاں‘‘ لکھیں ایک لالٹین کی روشنی میں جبکہ بے تحاشا اگی ہوئی کھنڈروں کی گھاس میں سانپ سرکتے تھے‘ اُلو بولتے تھے اور چمگادڑیں چیختی تھیں اسنے یہ تصوراتی کہانیاں تخلیق کیں‘ یہ کہانیاں شائع ہوئیں تو پورا یورپ اور امریکہ انکے طلسم میں گرفتار ہوگیا… وہ اس کھنڈر قصر کی کہانیوں میں بندھے غرناطہ کا رخ کرنے لگے‘ یوں ہسپانوی حکومت کو بھی اس اجڑے ہوئے قصر کی موجودگی کا احساس ہوا اور اسے اسکی اصل شکل میں بحال کرنے کے منصوبوں پر عمل ہونے لگا… اگر واشنگٹن ارونگ نہ ہوتا تو شاید آج بھی قصرالحمرا ایک کھنڈر ہوتا’’ ٹیلز آف الحمرا‘‘ کا اردو ترجمہ برصغیر میں بھی اتنا مقبول ہوا کہ شفیق الرحمن نے اپنے شاہکار سفرنامے’’ برساتی‘‘ میں اندلس کا سفر اختیار کرتے ہوئے واشنگٹن ارونگ کی انہی کہانیوں کے سحر کا اقرار کیا…اگرچہ ابتدامیں ہسپانوی لوگوں نے اپنے مورش زمانوں سے بے رخی اختیار کی کہ یہ سب عمارتیں اور آثار کفار کی نشانیاں ہیں لیکن پھرانکے ہاں ایک ثقافتی تبدیلی نے جنم لیا‘ انکے شاعروں اور ادیبوں نے مسلمان اندلس کے طویل عہد کو اپنا ہسپانوی ورثہ قرار دیا…

جیسے ہندوستان میں بھی اب مسلمانوں کے عہد کو اپنی ثقافت تسلیم کیا جا رہا ہے جیسے یہ ایک ہندو وکیل تھا جس نے عمر بھر تاج محل کے گرد جو اینٹوں کے درجنوں بھٹے دھواں اگلتے تھے انہیں عدالتوں میں چیلنج کرکے انہیں ٹھپ کروادیا کہ انکے دھویں سے تاج کا سفید حسن گہنا رہا تھا‘ اس پر قاتلانہ حملے بھی ہوئے پر وہ ڈٹا رہا ایک انٹرویو کے دوران جب اس سے پوچھا گیا کہ ایک مسلمان کی تعمیر کردہ عمارت کو بچانے کیلئے تم نے اپنی زندگی کیوں داؤ پر لگائی تو اس نے کہا تھا یہ ہماری وراثت ہے‘ تاج محل کے بغیر ہندوستان نامکمل ہے‘ اسی طور شاعر اور ڈرامہ نگار گارلیا لورکا جسے فرانکو کی آمریت کے دوران ہلاک کردیا گیا تو اس پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ وہ مورش عہد کے گیت گاتا ہے‘ الحمرا کے فواروں کے بارے میں نظمیں لکھتا ہے… اپنے کمرے میں سے‘ میں فوارے کی سرگوشیاں سن رہا ہوں… انگور کی ایک بیل اور سورج کی ایک کرن … دونوں سیدھے میرے دل میں اترتے ہیں اور میں خواب دیکھ رہا ہوں…فوارے کی سرگوشیوں میں قید خواب دیکھ رہا ہوں ‘ (گارسیالور کاکی نظم’’ غرناطہ 1850ء میں) کیا ہم پر بھی کبھی انکشاف ہوگا کہ ہمارا یہ پاکستان اس کا بدھ‘ ہندو‘ سکھ یہاں تک کہ برطانوی عہد بھی ہماری وارثت کا ایک حصہ ہے‘ شاید نہیں…کہ اس کیلئے تعصب سے ماورا ایک دل درکار ہے… آج سے پانچ سات برس پیشتر جبکہ میں نیویارک میں تھا مجھے خبر ہوئی کہ یہاں سے کچھ فاصلے پر ایک تاریخی قصبے ٹیری ٹاؤن میں جو کہ دریائے ہڈسن کے کناروں پر کسی حد تک گمنام ہے وہاں واشنگٹن ارونگ کا گھر ہے تو میں نے سلجوق سے درخواست کی کہ مجھے وہاں لے چلو… مجھے اس شخص کا شکریہ ادا کرنا ہے جس نے ’’ الحمرا کی کہانیاں‘‘ تخلیق کرکے قصرالحمرا کو دنیا بھر میں متعارف کروایا تھا‘ میں کچھ دیر اسی آرام دہ کرسی پر بیٹھا رہا جس پر مجدد واشنگٹن ارونگ پہروں بیٹھا رہتا تھا‘ سامنے بہتے دریائے ہڈسن کو تکتا رہتا تھا… یہاں تک کہ میں ایک قدیمی قبرستان میں کھوج کرتا اسکی قبر تک پہنچ گیا… اسکی قبر پر کسی نے امریکی پرچم آویزاں کردیا تھا‘ چند مرجھائے ہوئے پھول تھے۔

‘ کتبے پر مندرجہ ذیل عبارت درج تھی’’واشنگٹن ارونگ… پیدائش 3 اپریل 1783ء وفات 28 نومبر 1859ء‘‘… اب ہم واپس آتے ہیں اس ویڈیو کی جانب جس میں ایک شامی نوجوان الحمرا کی دیوار کے سائے میں اذان دے رہا ہے… چونکہ میں ایک مدت بلکہ تقریباً نصف صدی تک میڈیا سے منسلک رہا ہوں اس لئے میں جانتا ہوں کہ یہ اذان بے اختیاری نہیں ہے‘ اسکی منصوبہ بندی کرکے اسکی فلم بندی کی گئی ہے جیسے ان دنوں ایک اور ویڈیو میں کسی پارلیمنٹ میں ایک صاحب چوغا پہنے داخل ہوتے ہیں اور وہاں سفید فام حضرات تشریف فرما ہیں او وہ صاحب وہاں اذان بلند کرکے رخصت ہوجاتے ہیں… یہ بھی ایک مینو فیکچرڈ ویڈیو ہے… جیسے ہم سب کے محبوب‘ دل پسند‘ مرد مومن‘ مرد حق‘ ضیاء الحق نے جب یو این او سے خطاب کیا تھا تو اس سے پیشتر اذان دی گئی تھی…اور وہ اذان بھی جیسا کہ اب ظاہر ہو چکا ہے وہاں یو این او میں نہیں یہیں راولپنڈی اسلام آباد کے ٹیلی ویژن سٹیشن میں دی گئی تھی اور یو این او کے اراکین کو خبر نہ ہوئی تھی‘ علامہ اقبال کی وہ مشہور عالم تصویر مسجد قرطبہ میں ایک مصلے پر بیٹھے نماز پڑھتے ہوئے بھی قدرے ترتیب دی گئی تھی‘ فوٹو گرافر کے نہ آنے پر اسے اگلے روز کیلئے ملتوی کردیا گیا تھا… الحمرا کے قصر میں شامی نوجوان کی اذان سے مجھے کچھ خدشات بھی لاحق ہوگئے ہیں… میں قدرے فکر مندہو رہا ہوں کہ اگر… استنبول کے سانتا صوفیہ کے کلیسا میں ایک عیسائی نوجوان‘ اس کے عظیم الشان گنبد تلے کھڑے ہو کر ’’ آوے ماریا‘‘ کی صدا بلند کرتے ہوئے گیت گانے لگتا ہے تو کیا ہم اسے برداشت کرینگے..ہمیں کتنا دکھ ہوگا‘ اور یہ بات دور تلک جاتی ہے… !