بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سول جج امتحانات ٗ فاٹااورپاٹاکے امیدواروں کو ا جازت مل گئی

سول جج امتحانات ٗ فاٹااورپاٹاکے امیدواروں کو ا جازت مل گئی


پشاور۔پشاورہائی کورٹ کے جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس اعجازانورپرمشتمل دورکنی بنچ نے فاٹا اورپاٹا سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو سول ججوں کے امتحان میں بیٹھنے کی مشروط اجازت دے دی درخواست گذاروں کو دو سال کی رعایت نہ دینے پر رٹ دائرکی گئی ہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے عالیہ ناز اوراجمل کے مہمندٗ عبداللہ شاہ وغیرہ کی جانب سے دانیال اسدچمکنی اوردیگروکلاء کی وساطت سے دائررٹ درخواستوں کی سماعت کی۔

اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ پبلک سول کمیشن نے خیبرپختونخوامیں سول ججوں کی تقرری کے لئے پوسٹیں مشتہرکی ہیں جس کے لئے مطلوبہ اہلیت تیس سال مقرر کی گئی ہے تاہم جو وکیل تجربہ رکھتے ہیں انہیں مزید دو سال کی رعایت دی گئی ہے مگرفاٹا اورپاٹاسے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو عمرمیں دو سال کی رعایت نہیں دی جارہی ہے حالانکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں بھی وفاقی حکومت نے ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو تین سال کی رعایت دی ہے مگرصوبائی پبلک سروس کمیشن صرف وکلاء کی حدتک دو سال تک کی رعایت دینے کو تیارہے جبکہ فاٹاکے امیدواروں کو مزید دو سال کی رعایت نہیں دی جارہی ہے اورسول ججوں کے امتحانات آج منگل کے روز سے شروع ہونے والے ہیں۔

عالیہ ناز کی رٹ میں عدالت کو بتایا کہ ان کاتعلق بنوں سے ہے اور اس نے فرسٹ انٹی میشن فارم 9جنوری2015ء کو داخل کیاتھا تاہم اس حوالے سے ان کاانٹرویو بعدمیں ہواجس پرپبلک سروس کمیشن نے تجربہ ناکافی ہونے کی بناء پرامتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں جبکہ قانون کے مطابق اس کاتجربہ اڑھائی سے بھی زائدہے جس پرعدالت عالیہ نے درخواست گذاروں کو امتحان میں بیٹھنے کی مشروط اجازت دے دی اورپبلک سروس کمیشن کو امیدواروں کو رول نمبرسلپ جاری کرنے کے احکامات جاری کئے