بریکنگ نیوز
Home / کالم / امریکی حاکمیت: مشروط تعلقات!

امریکی حاکمیت: مشروط تعلقات!


امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان افغانستان میں برسرپیکار دہشتگردوں کیخلاف اسکی فوجی کاروائیوں میں تعاون کرے اور مثبت رویہ دکھائے جبکہ پاکستان کو جس انداز میں دیوار سے لگایا گیا ہے اس میں کب تک ممکن رہے گا کہ پاکستان کا افغان طالبان پر اثررسوخ برقرار رہے اور وہ طالبان کو بہرصورت مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرے۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی مدد کا الزام لگایا جاتا رہا ہے جس پر پاکستان نے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ ٹرمپ نے بھی پاکستان کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کوکہا تھا اس کے بعد کابل میں ٹلرسن نے پاکستان سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کیخلاف ایکشن کا مطالبہ کیا تھا۔ ٹلرسن نے اسلام آباد میں بھی پاکستانی حکام سے یہ معاملہ اٹھایا۔ اس کے بعد وہ بھارت گئے تو بھارت کو امریکہ کا فطری اتحادی قرار دیتے ہوئے اسے خطے کا لیڈر بنانے کا اعلان کیا اسے ایف سولہ‘ ایف اٹھارہ‘ جدید ڈرون طیارے فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ پاکستان میں بھی ٹلرسن نے حکام سے ملاقات کے دوران ڈومور کا تقاضاکیا۔ طرفین اس ملاقات کو خوشگوار قرار دیتے ہیں جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم خاقان عباسی نے کی تھی جس میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت بھی موجود تھی‘ یورپ اور مشرق وسطیٰ کے سات روزہ دورے سے واپسی پر ریکس ٹلرسن نے بریفنگ میں جو کچھ کہا اس میں زیادہ تر وہ باتیں تھیں جو وہ میڈیا کے ساتھ گفتگو یا اعلامیوں کی صورت میں کر چکے تھے مگربریفنگ میں کچھ باتیں پہلی بار سامنے آئیں ان میں پاکستانی حکام سے گفتگو بھی شامل ہے انکی پریس بریفنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو بھارت کی ناراضی کی بڑی فکر ہے۔

‘ اسے ہر صورت خوش اور مطمئن رکھنے کے لئے کوشاں ہے۔ ٹلرسن کہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تنازعات حل کرنے کے لئے پاکستان کو پیشکش کی گئی جو کہ نئی دہلی کو ناراض کر سکتی ہے کیونکہ بھارت پاکستان کیساتھ تنازعات کو حل کرنے کے لئے کسی کی ثالثی کی شمولیت کا خواہش مند نہیں‘امریکہ کو یہ احساس تو رہتا ہے کہ محض پاکستان کو تنازعات طے کرانے کی امریکی پیشکش بھارت کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے مگر جب پاکستان سے بات ہوتی ہے تو تمام سفارتی آداب اور اخلاقیات انسانی تقاضے تج دیتا ہے ٹلرسن کہتے ہیں کہ پاکستانی قیادت کو باور کرا یاہے کہ واشنگٹن‘ اسلام آباد کیساتھ یا پھر اس کے بغیر بھی جنوبی ایشیاء میں اپنی نئی حکمت عملی کو لاگو کرے گا‘ یہی بات ایس جی ولز نے ذرا وضاحت اور آرمٹیج کے سے متکبرانہ لہجے میں کی ہے وہ کہتی ہیں کہ پاکستان فیصلہ کرے اس نے امریکہ کیساتھ مل کر کام کرنا ہے یا نہیں۔ ٹرمپ نے پاکستان کو دہشت گردوں کا حامی قرار دیکر پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے کی دھمکی دی تھی تو دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا اس موقع پر ایلس نے پاکستان آکر معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ امریکی عہدیدار پاکستان آکر جس طرح کا لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں‘ اس سے پاکستانی حکام آگاہ ہیں۔ ٹلرسن بھی معاملات درست کرنے آئے اور مزید الجھا کے چلے گئے‘ پاکستان نے ایلس ولز کی میزبانی سے انکار کردیا تھا جس کا محترمہ کو رنج ہو سکتاہے جو ان کے اشتعال انگیز رویئے کا مظہر ہے۔ ٹرمپ کے بعد اور ایلس ولز جیسے اہلکاروں کی دھمکیوں کے بعد پاکستان میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ امریکی عہدیداروں کے دوروں کے مواقع پر ان کے ہم منصب ہی ان سے ملاقات اور مکالمہ کریں گے۔ ٹلرسن پاکستان آئے تو اس پروٹوکول پر مکمل عمل تو نہیں ہوا تاہم اس کی جھلک ضرور نظر آئی۔ اس سطح کے عہدیدار صدر وزیراعظم‘ وزیر خارجہ‘ وزیر دفاع اور فوجی سربراہوں سے الگ الگ ملاقات کیا کرتے تھے‘ اب سب نے ایک چھت تلے ملاقات اور مذاکرات کئے جبکہ ائرپورٹ پر استقبال بھی ایسا ہی ہوا‘ ۔

جیسے ہمارے حکام کا امریکہ میں ہوتا ہے۔ وزیر خارجہ ٹلرسن کو وزارت خارجہ کے اہلکار نے خوش آمدید کہا جسے امریکی میڈیا کی طرف سے سرد استقبال قرار دیا گیا۔ امریکی قیادت بار بار سوال کر رہی ہے کہ بتاؤ ہمارا ساتھ دینا ہے یا نہیں دینا‘ اس کا شائستہ جواب خود ٹلرسن کی بریفنگ میں موجود ہے جس میں وہ کہتے ہیں اسلام آباد کے دورے کے دوران انہیں مزاحمت کا پیغام ملا ہے جبکہ حکام سے ہونے والی ملاقات کو حقیقت کے برعکس پیش کیا گیا۔پاکستان نے امریکہ کے ڈومور کے تقاضوں پر تحمل و برداشت سے کام لیا‘ اس کی امداد کو بھی اپنی بقاء کا مسئلہ نہیں بنایا بلکہ کہا کہ جناب آپ اپنی امداد اپنے پاس رکھیں‘ پاکستان نے امریکہ کا ساتھ اس حد تک دیاکہ اپنی معیشت برباد کرلی‘ ستر ہزار افراد جان سے گئے‘ اس سے بڑھ کر کیا ساتھ دیا جا سکتا ہے اب ورنہ‘ ورنہ کہہ کر پاکستان کو دباؤ میں لا کر بھارت کی بالادستی تسلیم کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا پاکستان کی طرف سے واضح جواب دیا جا چکا ہے امریکہ نے اس جنگ میں جو بھی کامیابی حاصل کی وہ پاکستان کی مرہون منت ہے اس جنگ میں بھارت کا کوئی کردار تھا نہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرحت نسیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)