بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / ضمنی انتخاب کا نتیجہ

ضمنی انتخاب کا نتیجہ


این اے 4کے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوار ارباب عامر ایوب کی جانب سے 45739ووٹوں کیساتھ کامیابی سے وہ تمام اندازے غلط ثابت ہوگئے ہیں جن میں یہاں اگر ایک جانب انتہائی سنسنی خیز مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی تھی تو دوسری طرف جو لوگ مسلم لیگ(ن) کے امیدوار کی پوزیشن مستحکم بتا رہے تھے ان کے یہ دعوے اور تجزیئے بھی غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ان نتائج نے ان دعوؤں کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ساڑھے چار سال اقتد ار میں رہنے کے باعث پی ٹی آئی کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شایدبے جانہیں ہوگا کہ پی ٹی آئی نہ صرف اپنی مقبولیت کا گراف برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے بلکہ اس کی حالیہ کامیابی اس کی مقبولیت میں اضافے کی نشاندہی بھی کرتی ہے ‘ ن لیگ کے امیدوار کے ووٹ 2013کے مقابلے میں بڑھے ہیں تاہم صوبائی قیادت کی ا س نشست کے لئے تگ ودو کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ن لیگ کا گراف ہرگز اوپر نہیں گیا‘این اے 4کا ضمنی الیکشن اگر کسی جماعت کے لئے ہار کے باوجود حوصلہ افزائی کا باعث بنا ہے تو وہ اے این پی ہے جو 2013 کے الیکشن میں عبرت ناک شکست کے بعد کم بیک کرتے ہوئے نہ صرف چوتھی سے دوسری پوزیشن پر آگئی ہے بلکہ ضمنی الیکشن میں پول شدہ ووٹوں کی کم شرح کے باوجود اسکے مجموعی ووٹوں میں 12ہزار کا اضافہ ہو اہے۔

این اے4 کے حلقے پر پیپلز پارٹی کا کبھی دعویٰ نہیں رہا ہے اور نہ ہی یہاں سے کبھی پیپلز پارٹی کا کوئی امیدوارکبھی کامیاب ہو اہے البتہ حالیہ ضمنی الیکشن میں اس کی جانب سے جو جارحانہ مہم چلائی گئی اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا میں اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن کی بحالی کے لئے ہر حد تک جانے پر تیار ہے اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی نے 2013کے انتخابات کے تناظر میں چھٹی سے چوتھی پوزیشن حاصل کر کے پیش رفت کی ہے۔ این اے4 کا ضمنی الیکشن اگر کسی جماعت کے لئے بڑ ا بریک تھرو ثابت ہو اہے تو وہ تحریک لبیک پاکستان ہے جس کے امیدوار علامہ محمد شفیق امینی نے جہاں پانچویں پوزیشن حاصل کی ہے وہاں اس نے2002 میں اس حلقے سے فاتح قرار پانے والی جماعت اسلامی کے امیدوار سے زائد ووٹ لے کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیاہے۔ این اے4کا ضمنی الیکشن اگر کسی جماعت کے لئے بہت بڑے دھچکے کا باعث بنا ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے جو نہ صرف 2013کے انتخابات میں اس نشست پر 16ہزار ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھی بلکہ 2002 کے انتخابات میں اس کے امیدوار صابر حسین اعوان نے یہاں سے36ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے کامیابی بھی حاصل کی تھی۔ واضح رہے کہ پشاور کا یہ وہ واحد حلقہ ہے جہاں ماضی میں نہ صرف جماعت اسلامی کا ٹاؤن ناظم رہ چکا ہے بلکہ اب بھی اگر پشاور کے کسی حلقے میں جماعت اسلامی کے ڈسٹرکٹ‘ٹاؤن ممبران‘ ناظمین اور کونسلرز سب سے زیادہ ہیں تو وہ یہی حلقہ ہے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جماعت اسلامی کی قیادت کووہ اسباب اور وجوہات لازماً تلاش کرنا ہوں گے جو اس حلقے پر حالیہ ضمنی الیکشن میں اسکی چھٹی پوزیشن پر آنے کا باعث بنے ہیں۔

جماعت اسلامی کو ٹھنڈے دل ودماغ کیساتھ مرکزی سطح پر بھی اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ این اے 120کے تلخ تجربے کے بعد یہی تجربہ پشاور کے ضمنی الیکشن میں دہرانے کی آخر کیا ضرورت تھی اصولاً ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی این اے120اور این اے4کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کرتیں لیکن انہوں نے اپنی ڈیڑھ انچ کی الگ الگ مسجدیں بنا کر کوئی اچھا اور دانشمندانہ فیصلہ نہیں کیا جس کا زیادہ تر خمیازہ جماعت اسلامی کو دونوں انتخابات میں عبرت ناک شکستوں کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے۔ دریں اثناء جماعت اسلامی کے ضلعی امیر صابر حسین اعوان نے ضمنی الیکشن میں ناکامی پر امارت سے استعفیٰ دے کر بظاہر ایک اچھا سیاسی فیصلہ کیا ہے لیکن چونکہ ان کا استعفیٰ مسئلے کا حل نہیں ہے اس لئے جماعت کو کسی مقامی امیر کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے صوبائی اور مرکزی سطح پر اپنے فیصلوں اور سیاسی حکمت عملیوں کا کھلے دل ودماغ اور تنقیدی نقطہ نظر سے جائزہ لینا ہوگا تب ہی نہ صرف جماعت کے کارکنان میں پائی جانے والی مایوسی کا سدباب ہو سکے گا بلکہ اسے آئندہ عام انتخابات میں بھی ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ میدان میں اترنے میں آسانی ہوگی۔