بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی اساتذہ کو مستقل کرنیکا فیصلہ

این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی اساتذہ کو مستقل کرنیکا فیصلہ


پشاور۔خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے محکمہ تعلیم میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی شدہ تدریسی عملے کو ریگولرائز کرنے سے اصولی اتفاق کیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ صوبے کے تمام سرکاری محکموں میں این ٹی ایس ، آئی ٹی اوردوسرے ذرائع سے بھرتی شدہ تمام عارضی ملازمین کو ریگولرائزیشن اور اپ گریڈیشن پلان میں شامل کیا جائے وزیر اعلیٰ نے ریگولرائزیشن ڈیزائن کی منظوری وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی۔

صوبائی سینئر وزیر برائے بلدیات عنایت اللہ، چیف سیکرٹری اعظم خان، انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محسود اور دیگر متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی۔اس موقع پر ملازمین سے متعلق دو نکاتی ایجنڈے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جس میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی شدہ اساتذہ اور دیگر ملازمین کی ریگولرائزیشن، پولیس اور دیگر ملازمین کی اپ گریڈیشن ، اس میں حائل مالی ضروریات اور درکار قانون سازی شامل ہیں جبکہ اس ضمن میں بعض ضروری فیصلے بھی کئے گئے ۔

وزیر اعلیٰ نے تمام سرکاری محکمہ جات اور اداروں میں مختلف اسامیوں کی اپ گریڈیشن اور کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن کے مراحل خوش اسلوبی سے طے کرنے کیلئے ضروری ہدایات جاری کیں ۔انہوں نے ہدایت کی کہ اساتذہ اور دیگر ملازمین کی ریگولرائزیشن کا مشترکہ کیس صوبائی کابینہ کو بھیجا جائے تاکہ اگلے اجلاس میں اس پر حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔پولیس اور دوسرے محکموں کے ملازمین کی اپ گریڈیشن سے متعلق وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس کا جامع کیس بھی صوبائی کابینہ کے اگلے ایجنڈے میں پیش کیا جائے۔

انہوں نے متعلقہ محکموں کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ تمام محکموں میں اپ گریڈیشن کا جامع کیس تیار کریں انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کیس کی تیاری دس دن کے اندر مکمل کی جائے اور واضح کیا کہ وہ ملازمین کی سطح پر تفاوت کو ہر قیمت پر دور کرنا چاہتے ہیں پرویز خٹک نے مزید واضح کیا کہ وہ ملازمین سے متعلق ایسا ملازمتی ڈھانچہ اور فارمولہ چاہتے ہیں جس میں سرکاری ملازمین کو زیادہ سے زیادہ فوائد ملیں اور وہ عوامی خدمت کی بطریق احسن بجا آوری میں کشش محسوس کر سکیں۔

انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اورمستقل نوعیت کے پراجیکٹس میں کام کرنے والے ملازمین کی ریگولرائزیشن کو بھی حتمی شکل دی جائے انہوں نے مزید واضح کیا کہ اپ گریڈیشن کے مجموعی پلان میں تمام محکموں کو اعتماد میں لینا بھی ضروری ہے تاکہ حکومت کو یک بار قانون سازی میں آسانی ہو اور بعد میں کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ملازمین کا مناسب سروس سٹرکچر ہونا چاہئے تاکہ انہیں انصاف اور تحفط پر مبنی ملازمتی ڈھانچہ میسر ہو انہوں نے پولیس ملازمین کے مختلف گریڈز اور اپ گریڈیشن سے متعلق ڈیزائن سے بھی اتفاق کرتے ہوئے اس سلسلے میں انسپکٹر جنرل پولیس کو چیف سیکرٹری کے ساتھ بیٹھ کر کیس نمٹانے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ اپ گریڈیشن کا یہ کیس فوری نمٹائے گی ۔