بریکنگ نیوز
Home / کالم / کچھ گاؤں کی صبحوں نے بھی ہم کو نہ پکارا

کچھ گاؤں کی صبحوں نے بھی ہم کو نہ پکارا


اکتوبر کا شکریہ کہ وہ بڑی حد تک موسم کی شدتیں اور حدتیں سمیٹ کر ساتھ لے گیا۔اس لئے صبح سویرے کی خنکی اب بدن میں ایک جھرجھری سے پیدا کرتی ہے اور شام ڈھلے خود کو اپنے بازووں میں سمیٹنا پڑتا ہے۔ کبھی اکتوبر ہوا کرتا تھامگر اب نومبر ہی آغازِ زمستاں ہے،اس لئے اب شاعری میں دسمبر کے ساتھ ساتھ نومبر سے رومینس بھی شروع ہو چکاہے، ایک ہند کو غزل کے شعر دیکھیں
سردی د ا آغا ز نومبر
ساریاں دا ہمراز نومبر
لمیا ں راتاں لمے قصّے
وت بھی ڈونگا راز نومبر
اب کے اکتوبر کے کچھ کچھ دن تو جون جولائی کی ہمسری کرنے لگے تھے،پھر اطراف میں بارشیں ہوئیں تو کچھ خنکی پشاور تک بھی آگئی ورنہ تو پشاور میں گرمی اور سردی کا کا یہ سنگم خشک اور گرم ہی گزر رہا تھا۔ ابھی کچھ دن پہلے پنج پیر میں جماعت اشاعت توحید و سنہ کا سالانہ سہ روزہ اجتماع تھا یہ اجتماع کا دوسرا دن تھا جب میں پشاور سے پنج پیر کی طرف روانہ ہوا تھا، پشاور سے موٹر وے کے ٹول پلازا تک مجھے گھنٹہ بھر لگ گیا شاید زیادہ کیونکہ سڑکوں پر ٹریفک کا سیلاب بہہ رہا تھا اور پھر یہی حال ویک اینڈ ہونے کی وجہ سے موٹر وے پر تھا، گویا دیر ہوچکی تھی دوستِ مہربان میجر محمد عامر نے تاکید کی تھی کہ بر وقت پہنچ جائیں اور ابتسام گاڑی کو دوڑا رہا تھا مگر ہمیشہ کی طرح دیر ہونا تھی ہو گئی،ایسے موقع پر میجر عامر محبی اظہار الحق کا شعر پڑھتے ہیں

شہتوت کا رس تھا نہ غزالوں کے پرے تھے
اس بار بھی میں جشن میں تاخیر سے پہنچا
مگر یہ بات محض شعر کی حد تک ہی ہو تی ہے کہ بھلے سے کوئی کتنی دیر سے پہنچے دوستوں کے سیر ہونے کے بعد بھی ا ن کا دستر خوان اسی طرح بھرا پرا ہوتا ہے ، اب کے بھی ایسا ہوا جب ہم پہنچے تو کھانے کا وقفہ ہو چکا تھا اور یار لوگ کھانے کی میز پر اپنے اپنے حصے کا رزق کھا رہے تھے،ہم بھی سیدھا ادھر ہی گئے اور کھانے سے پہلے دل کے قریب بہت سے دوستوں کے ایک ہی سوال میں گھر گئے تھے، اتنی دیر سے کیوں آئے اس کا آغاز عقیل یوسفزئی اور محمود جان بابر نے کیا تھا پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا بھلا ہو کہ سلیم صافی نے کہ آہستگی سے قریب آ کر کہا اقبال ہمیشہ دیر سے آتا ہے اور اس نے اقبال پر اتنا زور نہیں دیا جتنا ’’ ہمیشہ‘‘ پر دیا، لیکن فائدہ یہ ہوا کہ احباب نے اس کے بعد ساری توجہ کھانے پر مرکوز کر دی،میجر عامر حسب معمول بہت مصروف تھے کھانے کی میز پر ان کی مصروفیت دیدنی ہو تی ہے وہ ایک ایک دوست کے پاس نہ صرف خود جا کر پو چھتے ہیں بلکہ ان کے کارکن ڈ شز اٹھائے ان کے ساتھ ساتھ پھرتے ہیں اور میجر خود ہی احباب کی پلیٹ بھرتے چلے جاتے ہیں، اور اسی سرگرمی سے ان کی اشتہا ختم مگر دل خوشی سے بھر جاتا ہے، کوئی دوست زبردستی ان کے ہاتھ میں پلیٹ پکڑا دے کہ خود بھی تو کچھ لیجئے نا تو پھر دیر تک وہ خالی پلیٹ لئے یہاں وہاں گھومتے نظر آ تے ہیں۔ ہم پر نظر پڑتے ہی لپکے اور میز کے قریب لے آئے، اب کھانے کے ساتھ ساتھ دوستوں کے ساتھ گپ شپ اور نوک جھونک بھی جاری رہی کہ اچانک ڈائننگ ہال سے ملحقہ کمرے میں استاد محترم مولانا سمیع الحق پر نظر پڑی بھاگ کر وہاں پہنچا ہمیشہ کی طرح شفقت سے ملے اور نہ ملنے کا گلہ کیا،ان سے جب بھی ملتا ہوں دارالعلوم حقانیہ،اکوڑہ خٹک میں گزارا ہوا زمانہ یاد آ جاتا ہے۔

یہ ہمیشہ ایک پر لطف تجربہ ہو تا ہے، ان کے پاس کچھ صحافی سوال،قلم اور کاغذ سنبھالے بیٹھے تھے اس لئے ہم اٹھ آئے،اسلام آباد سے بھی دوست آئے ہوئے تھے۔ ان میں ممتاز اینکر اور کالم نگار ارشاد بھٹی اور عادل عباسی بھی تھے جن سے اسلام آباد اور نیسا پور کی مسلسل ملاقاتیں دوستی میں ڈھل چکی ہیں، ہال سے باہر نکلے تو روزنامہ آج کے ساتھی ملے آصف نثار غیاثی نے بھی بات وہیں سے شروع کی کہ آپ کب آئے، سہراب اور احد بیگ نے محض مسکرانے پر اکتفا کیا۔ کھانے کا وقفہ ملاقاتوں ہی میں ختم ہوا پھر اجتماع میں شریک ہونے پنڈال کی طرف گئے جس کا اہتمام میجر عامر کے بنگلے سے تھوڑے ہی فاصلہ پر ایک وسیع و عریض قطعہ زمین پر کیا گیا تھا،دور دور تک پھیلا ہوا پنڈال اور اس کے باہر ایک بڑا بازار جس میں کھانے پینے اور ضرورت کی اشیا کے ساتھ ساتھ کئی ایک بک سٹال بھی تھے جن میں دینی کتب کی خریداری میں اجتماع کے شرکا مصروف تھے میں،سلیم صافی، عادل عباسی اور ارشاد بھٹی تو میجر عامر کے ساتھ ان کے گاڑی میں روانہ ہو گئے اور چند ثانیوں میں پر ہجوم سٹالز کے درمیاں سے ہوتے ہوئے اسٹیج کی طرف جانے والے راستے کے قریب اتر گئے،بڑی حیرانی ہوئی کہ بازار اور پنڈال کے باہر ہزاروں افراد کے مجمع سے ہم گزر کر آئے مگر کہیں بھی کسی طرح کی بد نظمی یا افرا تفری دیکھنے کو نہیں ملی، سٹیج کے راستے کے قریب بھی بے تحاشا طلبہ کھڑے تھے اور اپنے اپنے موبائل فون سے مہمانوں کی تصاویر لے رہے تھے لیکن جب سو سے زیادہ افراد کی گنجائش والے بڑے اسٹیج پر ہم پہنچے تو حیرانی میں اور بھی اضافہ ہوا کہ اندر بہت ہی وسیع پنڈال میں تل دھرنے کی جگہ ہی نہ تھی ، یہ ایک بہت بڑا تربیتی اجتماع تھا جو شیخ القران مولانا محمد طیب طاہری کا نام سٹیج سے سنتے ہی بے اختیار اپنی محبت کا اظہار نعرہ تکبیر بلند کرنے سے کرتا،اتنی بڑی مگر انتہائی مہذب اور ڈسپلنڈ شرکا نے اپنی ساری توجہ سٹیج سے ہو نے والی تقاریر اور ارشادات پر مرکوز کی ہوئی تھی۔

کچھ تقریریں اردو میں بھی ہوئیں اور شاید کچھ لوگوں تک وہ نہیں بھی پہنچ رہی تھیں مگر مجال ہے کہیں سے ذرا بھی صدائے احتجاج بلند ہوئی ہو سب مطمئن بیٹھے تھے مجھے مولانا محمدطیب طاہری پر رشک آرہا تھا اور میں ان کے قرب کی خوشبو میں شرابور بیٹھا ہوا تھا، وہ وقفہ وقفہ سے مائیک پر آتے اور جونہی آتے شرکا اپنی محبت ان پر نچھاور کرنے کیلئے بے چین ہو جاتے۔ میجر محمد عامر تو جب تقریر کیلئے کھڑے ہوں یا دوستوں کی محفل میں کسی موضوع کو چھونے لگیں تو بقول غالب ’’ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی ‘‘ والی صورت حال بن جاتی ہے انہوں نے بھی اجتماع سے خطاب کیا اور موجودہ صورت حال کو قران و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے بعض طالع آزماوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا جس کی تائید سلیم صافی نے اپنے دو ٹوک انداز بیاں سے اپنی تقریر میں کی بلکہ بعض حقائق سے پردہ بھی اٹھایا مجھے اتنے بڑے اجتماع میں خوبصورت اور نپے تلے لفظوں سے مزین گفتگو نے عجب لطف دیا۔ مجھے اجتماع میں شرکت نے سرشار کر دیا تھا، عصر کے لگ بھگ ہم واپس میجر عامر کے بنگلے پر آ گئے جہا ں عصر پڑی گئی اور احباب کی بیٹھک بھی پرتکلف چائے پر سجی، موضوع سخن اجتماع ہی رہا مگر بچھڑنے سے پہلے سلیم صافی نے غزل کی فرمائش کر دی،سو کچھ اشعار میں نے اور کچھ میجر عامر نے سنائے اور پھر ہم اپنی اپنی منزلوں کیلئے اکٹھے ہی روانہ ہوئے میجر عامر نے ابتسام سے کہا کہ ہماری گاڑی کے پیچھ پیچھے آؤ ہم ایک اور راستے سے جائیں گے۔یہ گاؤں کی مغربی سمت سے مین روڈ تک نکلتا تھا۔ اب شام کادھندلکا پھیلنے لگا تھا یہ راستہ بہت خوبصورت اور درختوں سے گھرا ہوا تھا جن پر دن بھر کے تھکے ہارے پرندوں کی ٹولیاں واپس آنا شروع ہو گئی تھیں، کیا پر لطف منظر تھا مجھے یاد آیا کہ ابھی کچھ دیر پہلے میجر عامر نے احباب کو میرا شعر سنایا تھا جس میں شہر کی شاموں کے سحر کا ذکر تھا مگر گاؤں کی اس جادوئی شام نے تو شہر کی شام کا سارا منظر دھندلا دیا تھا
کچھ شہر کی شاموں میں بھی اک سحر تھا ناصر
کچھ گاؤں کی صبحوں نے بھی ہم کو نہ پکارا