بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / پشاور بس منصوبہ

پشاور بس منصوبہ


ترقی یافتہ ممالک بالخصوص مغربی دنیامیں ترقیاتی اورفلاحی منصوبوں پرکام اس وقت ہی شروع کیا جاتاہے جب اس منصوبہ کے بارے میں مفصل سروے کیا جائے جس میں اس منصوبے سے نہ صرف فوائدبلکہ نقصانات کے بارے میں مکمل تفصیلات اکٹھی کی جاتی ہیں۔ اس طر ح یہ بھی معلوم کیا جاتاہے کہ یہ منصوبے کتنے دیرپا ہوں گے اور کسی بھی منصوبے پرکام شروع کرنے سے پہلے دیگرمحکموںیاشعبوں کوبھی آگاہ کیاجاتاہے کہ اگر انکواس منصوبے سے متعلق کوئی اقدام یاکام کرنا مقصودہے تووہ بھی اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں ہر ایک ترقیاتی اورفلاحی منصوبے کے بارے میں کافی بحث ومباحثہ ہوتاہے متاثرہونے والے لوگوں یا شعبوں کوآگاہ کیاجاتاہے۔اس کے بعد پھر اس قسم کے منصوبوں میں کسی اورشعبے یا افراد کو مداخلت ترمیم یاتبدیلی کی اجازت نہیں ہوتی کوئی بھی اس حقیقت سے انکارنہیں کرسکتاکہ وقت کیساتھ ساتھ نہ صرف پشاوربلکہ خیبرپختونخواکے طول وعرض میںآمدورفت کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے کسی وقت خیبر پختونخوا کی گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس یعنی جی ٹی ایس نہ صرف ایک مثالی ادارہ تھابلکہ جی ٹی ایس کے ہوتے ہوئے نجی شعبے میں چلنے والی بسوں اور ویگنوں کی من مانی بالکل نہیں تھی چونکہ جی ٹی ایس کے روٹس اورکرایہ نامے سرکاری طورپرمقرر تھے لہٰذانجی شعبوں میں چلنے والے بسوں اور ویگنوں کے کرائے بھی مناسب تھے مگربدقسمتی سے 1994-95میں اس وقت کی حکومت نے جی ٹی چایس کے اس ادارے کویکسرختم کر دیا اس ادارے میں سینکڑوں کی تعداد میں چلنے والی بسوں کونیلام کردیاگیاجبکہ اس کے دیگراثاثے جس میں کروڑوں روپوں کی زمین تھی یا تو کوڑیوں کے مول نیلام کردی گئی یا دیگر اداروں کو تحفتاً دی گئی۔

‘1979سے پہلے جب افغانستان میں جنگ اورمحاذآرائی نہ تھی توروزانہ کے حساب سے پشاوراورکابل کے درمیان جی ٹی ایس کی بس چلتی تھی اوریہاں کے نواجوان بالخصوص طلبہ اور تاجرپیشہ حضرات انہی بسوں کے ذریعے کابل آتے جاتے تھے‘1990میں جب سابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کی حکومت قائم ہوئی تواس حکومت میں مرحوم اعظم خاان ہوتی کووفاقی وزیر مواصلات بنادیاگیاتھامرحوم اعظم خان ہوتی کی سیاست سے ہرایک کواختلاف کاحق حاصل ہے مگرزیادہ ترلوگ ابھی تک اعظم خان کی قابلیت اورصلاحیت کے قائل ہیں انہوں نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ابتداء میں لاہور سے اسلام آبادموٹروے بنانے کا مشورہ دیااور 1992میں اس منصوبے پر کام شروع ہوگیا جو 1997 میں مکمل کردیا گیا بعد میں ان کی خواہش پراسلام آباد پشاورکے منصوبے پرکام شروع کر دیا جو بالآخر 2007کے اوائل میں مکمل ہوگیااس کے بعد لاہورسے فیصل آباد اور ملتان تک موٹروے میں توسیع کی گئی جبکہ اب تو ملتان سے کراچی اورحسن ابدال سے حویلیاں تک موٹروے کے منصوبوں پر کام شروع ہے۔

‘ ابتداء میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اوران کے رفقاء کارمیٹروبس اور موٹروے کے منصوبوں پرمعترض تھے مگربعدمیں ان کوبھی اس کی اہمیت اورضرورت کااحساس ہوااورعمران خان کو اعتمادمیں لے کروزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ان دونوں منصوبوں پر کام شروع کردیاہے سوات ایکسپریس وے توفی الحال چکدرہ تک لگ بھگ70ارب روپے کی لاگت سے تعمیرکی جارہی ہے مگرتوقع ہے کہ مستقبل قریب میں اس منصوبے کوسوات کے مرکزی شہرمینگورہ، کالام اوردیرکے راستے چترال تک توسیع دی جائے گی۔اس وقت پشاورکے تیزرفتاربس منصوبے پرکام بھی تیزی سے جاری ہے ‘اندیشہ ہے کہ حال ہی میں موجودہ صوبائی حکومت نے پشاورکے جی ٹی روڈکے دورویہ سڑک کوخوبصورت بنانے پر امریکی ادارہ یو ایس ایڈ کے تعاون سے لگ بھگ جو6ارب روپے خرچ کئے ہیں وہ ضائع نہ ہو جائیں‘اس طرح حیات آبادکے فیزتھری چوک پر تعمیرکی جانیوالی فلائی اوورکے بھی متاثرہونے کا اندیشہ ہے اس تیز رفتار بس منصوبے کوپہلے ہی سے موجود پشاورکے سڑک پرتعمیرکیاجارہاہے بعض مقامات پریہ سڑکیں انتہائی تنگ ہیں وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویزخٹک کوچاہئے کہ وہ اس منصوبے کوایک ایسے انداز میں مکمل کریں جس سے حکومتی اداروں اور عام لوگوں کے کم سے کم نقصانات ہوں۔