بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہڑتال اور مسائل

ہڑتال اور مسائل


جب تک ملک میں اور اداروں میں ہڑتالیں نہ ہوں تو جمہوریت کی غیر حاضری سی لگتی ہے اور جب بھی ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو جائے تو معلوم ہوتا کہ ملک میں جمہوریت آ گئی ہے‘ اسلئے کہ بقول ہمارے نئے سیاسی لیڈران جمہوریت میں ہڑتالیں اور دھرنے اُن کا بنیادی حق ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہڑتالوں اور دھرنوں کی وجہ سے جو معاشی قتل ہوتا ہے کیا اس کا یہ ملک متحمل ہو سکتا ہے۔ اگر ہڑتالوں کی وجہ سے زندگی کا پہیہ ہی رک جائے تو یہ کون سی جمہوریت ہو گی۔ لیکن ہم جو قطعاً غیر سیاسی ہیں اور شائد رہیں گے تو ہمیں یہ سوچنا پڑ جاتا ہے کہ آخر ان ہڑتالوں اور دھرنوں کا ملک کو کوئی فائدہ بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہڑتالیوں کو کوئی فائدہ ہو تاہو مگر ایک دن کی ہڑتال کا جتنا نقصان ملک کی معیشت کا ہو جاتا ہے وہ شائد اُس سے کہیں زیادہ ہے جو ایک ٹولے کو چاہے وہ سیاسی ٹولہ ہو یا ورکر یونین ہو اُس کو فائدہ ہوتا ہے۔ یہ تو خیر ایک معاشی نقصان ہے جو اگر محنت کی جائے تو پورا بھی ہو جاتا ہے مگر ا یک اور نقصان جو آج کل کی ہڑتالوں سے ہو رہا ہے اس کا ازالہ شاید کسی بھی طرح سے ممکن نہ ہو اور وہ ہے علاقا ئیت کا ابھار۔ قائد اعظم یونی ورسٹی ایک ملکی یونیورسٹی ہے جس میں ملک کے ہر حصے سے طلباء آتے ہیں اور اپنے علم کی پیاس بجھاتے ہیں۔ ایک عرصے سے یونیورسٹیوں میں یہ ٹرینڈ چل نکلا ہے کہ طلباء اپنے اپنے علاقے کی یونین بنا لیتے ہیں۔

یہ ایک طرح سے تو ایک فائدہ مند ٹرینڈ ہے طلباء کے جو بھی مسائل ہیں اُن میں ہاسٹل کی سہولیات ، ڈیپارٹمنٹ میں پڑھائی کی ضروریات، ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال جس میں زبان کی وجہ سے اگر کوئی مسئلہ حکام بالا تک پہنچانے میں مشکل پیش آ رہی ہو تو وہ یونین کے پلیٹ فارم سے حکام بالا تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ طلباء کی جوہڑتالیں ہوتی ہیں عام طور پر پُر تشدد ہو جاتی ہیں۔اس لئے کہ جوان خون میں حوصلے کی کمی ہوتی ہے اسلئے وہ ہر کام فوراً ہی کرنا چاہتے ہیں ۔ اُنکے جو بھی مسائل ہوتے ہیں وہ اُن کا جلد از جلد حل چاہتے ہیں اور انتظامیہ اُس تیزی سے حل نہیں نکال سکتی جس سے بات تشدد کی جانب چل نکلتی ہے اور تشدد ہو تو اس کا علاج بھی پولیس کے ذریعے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ تعلیمی اداروں میں پولیس کا داخلہ سختی سے منع تھا ۔ جو بھی طلباء کا مسئلہ ہوتا وہ کالج یا یونیورسٹی انتظامیہ طلباء سے مل کر حل کر لیتی تھی۔مگر مارشل لاؤں نے پولیس کو تعلیمی اداروں کے اندر کا راستہ ایسا دکھایا کہ اب جمہوری حکومتیں بھی تعلیمی اداروں میں پولیس کا داخلہ ضروری خیال کرتی ہیں۔

مگر اس میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ پولیس کسی بھی شخص سے جو اس کے قابو میں آ جائے ایک چور اور ڈاکو کا سا سلوک کرتی ہے حالانکہ طلباء میں اور ایک ڈاکویا دس نمبریئے میں بہت فرق ہوتا ہے اور پولیس کا تعلیمی اداروں میں داخلہ طلباء کو اور زیادہ بھڑکا دیتا ہے۔اگر معاملہ تعلیمی ادارے اور طلباء کے درمیان رہے تو اس کا حل امن سے نکالا جا سکتاہے اس لئے کہ اساتذہ( کالج اور یونیورسٹی کی انتظامیہ) اور طلباء کا معاملہ باپ بیٹے کا سا ہوتا ہے اور باپ کبھی بھی اپنے بیٹے کے ساتھ مجرم کا سا سلوک نہیں کرتا اسی لئے اگر پولیس کی مداخلت نہ ہو تو تعلیمی ادارے کی انتظامیہ مسئلے کا حل بہتر طریقے سے نکال سکتی ہے۔ اب رہا قائد اعظم یونیورسٹی کا سوال تو اس میںیونینز صوبائی سطح پر بنتی ہیں اور جب معاملہ پولیس تک جائے تو بات صوبائی تعصب تک نکل جاتی ہے اورہمارا صوبہ بلوچستان پہلے ہی ایسے مسائل کا گڑھ ہے جن کو حل کرنے میں انتہائی تدبر کی ضرورت ہے۔کچھ تو بلوچ نوابوں نے بلوچستان کے مسئلے کو علیحدگی کی سمت لے جانے کی کوشش کی ہے جس میں اُن کو ہمارے پڑوسی دشمنوں کی پوری پوری حمایت حاصل ہے۔ایسے میں طلباء کو پولیس کے حوالے کرنا بلوچستان کے مسئلے کو اور ہوا دینے والی بات ہے۔جس علاقے میں دشمنوں نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلایا ہوا ہے اُس علاقے کے بھائیوں سے نہایت ہی تحمل اور بردباری کا سلوک کرنے کی ضرورت ہے خصوصاً طلباء کو تو اور بھی زیادہ پیار سے ڈیل کرنا چاہئے ‘یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومت کو اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔