بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / عام انتخابات کیلئے حکمت عملی؟

عام انتخابات کیلئے حکمت عملی؟


وطن عزیز میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد9 کروڑ70 لاکھ سے زائد بتائی جا رہی ہے خیبر پختونخوا میں1 کروڑ40 لاکھ16 ہزار571 ووٹرز ہیں‘ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیاں اور ووٹر لسٹوں پر نظرثانی مردم شماری کے نتائج شائع ہونے تک نہیں ہوسکتی‘کمیشن کا یہ بھی کہناہے کہ اگر اتنے بڑے ٹاسک کیلئے درکار وقت نہ مل سکا تو غلطیوں کی گنجائش زیادہ ہوگی۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد کا کہنا ہے کہ5 مئی کے بعد ہم ووٹر لسٹوں کو نہیں چھیڑ سکتے۔ ہم کہتے ہیں کہ قوانین میں جو ترامیم کرنی ہیں وہ کرلی جائیں تاکہ ہم الیکشن میں جاسکیں‘ دوسری جانب الیکشن کمیشن پریزائیڈنگ افسروں کی تربیت کا کام مارچ یا اپریل میں شروع کر رہا ہے اس اہم مرحلے پر الیکٹرانک مشینوں کا استعمال بھی سوالیہ نشان ہے ہمارے ہاں ابھی تک ان مشینوں کا استعمال عام ہوا نہیں اگر یہ ووٹنگ مشینیں ساڑھے تین سے چار لاکھ کی تعداد میں صوبائی حکومتوں کے حوالے کی جاتی ہیں اور ان میں سے دس فیصد بھی ناکام ہوتی ہیں تو سیکرٹری الیکشن کمیشن کے بقول پورے ملک کا الیکشن رک جائے گا‘ سیکرٹری الیکشن کمیشن کاکہنا ہے کہ پشاور میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال میں بھی کچھ مسائل سامنے آئے ہیں‘ عام انتخابات کیلئے کمیشن نے 90 ہزار پولنگ سٹیشن قائم کرنے ہیں جبکہ انتخابی عملے کی تعداد8 لاکھ کے قریب ہوگی‘ الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل یوسف خٹک کاکہنا ہے کہ نئے ایکٹ کے تحت ڈسٹرکٹ پریذائیڈنگ افسروں کی تعیناتی عام انتخابات سے دو ماہ قبل عمل میں لائی جائے گی۔

‘ یہ افسران الیکشن کمیشن کے اپنے بھی ہوسکتے ہیں خبر رساں ایجنسی کے مطابق الیکشن میں شفافیت کیلئے واٹر مارک بیلٹ پیپرز جھاپے جائیں گے‘ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وطن عزیز میں عام انتخابات کا انتظام ایک بڑا ٹاسک ہے الیکشن کمیشن اور دوسرے اداروں کو اس اہم ذمہ داری کیلئیقاعدے قانون کے ساتھ مناسب وسائل اور افرادی قوت کی فراہمی ناگزیر ہے ضرورت الیکشن کمیشن کے علاوہ دیگر اداروں کی تیاریوں کو بروقت یقینی بنانے اور ان کے درمیان باہمی رابطے کیلئے اقدامات کی بھی ہے تاکہ سارے امور بروقت پایہ تکمیل تک پہنچائے جا سکیں اس کیلئے مرکز اور صوبوں کی سطح پر حکومتوں کو باہمی رابطہ بھی مزید موثر بنانا ہو گا۔

سرکاری بھرتیوں کا حکم

خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں پر ملازمین کی فوری بھرتیوں کاحکم دیا ہے اس کے ساتھ مرکز سے صوبے کو منتقل ہونے والے اداروں میں سٹاف ایڈجسٹمنٹ کی ہدایت کی گئی ہے جس کا ثمر آور ہونا عملدرآمد سے مشروط ہے مرکز یا کسی بھی صوبے میں بھرتیوں پر غیر ضروری پابندیوں کے باعث اہل امیدوار عمر کی حد گزر جانے پر ملازمت سے محروم رہ جاتے ہیں اس کے ساتھ پروموشن کا سلسلہ بھی متاثر رہتا ہے بھرتیوں کے ساتھ ضرورت ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ کے لئے اقدامات کی بھی ہے خصوصاً وفاق سے صوبوں کو منتقل ہونے والے اداروں کے ملازمین معلق ہو کر رہ گئے ہیں صوبے کی سطح پر حکومت کو بھرتیوں کے کام میں شفافیت کیلئے فول پروف انتظامات کرنا ہوں گے تاکہ میرٹ پر کوئی حرف نہ آسکے ہمارے ہاں ایک کے بعد دوسری حکومت میں بھرتیوں کے حوالے سے ملازمین کو برطرف کرنے کی روایتیں بھی رہی ہیں جن کو ختم ہونا چاہئے اس کیساتھ محکموں کے اندر پروموشن اپ گریڈیشن اور دوسرے کیسز نمٹانے پر بھی توجہ ضروری ہے جس کیلئے ڈیڈ لائن دینا ہو گی