بریکنگ نیوز
Home / کالم / چند خبروں پر تبصرہ

چند خبروں پر تبصرہ


اخبارات میں میاں محمد نواز شریف کے حوالے سے دو خبریں شائع ہوئی ہیں ایک میں کہا گیا کہ انہوں نے اہم امور پر مشاورت کیلئے کیلئے وزیراعظم اور شہباز شریف کو لندن بلالیا ہے اور دوسری خبر یہ ہے کہ میاں صاحب 2نومبر کو پاکستان واپس آ رہے ہیں ان دو خبروں سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں دو نومبر کو اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں اگر انہوں نے 2 نومبر کو واقعی ملک واپس آنا ہے تو پھر وزیراعظم اور شہباز شریف کو لندن بلانے کا کیا جواز تھا ؟ ہمیں تو ان دو خبروں میں ایک خبر غلط لگتی ہے زرداری صاحب نے کئی عرصے تک خود ساختہ جلا وطنی اختیار کی ہوئی تھی اور وہ آئے دن مشاورت کیلئے سندھ حکومت کے وزراء بشمول وزیراعلیٰ وسینئر سرکاری اہلکاروں کو دبئی طلب کیا کرتے تھے ہم نے اس وقت بھی یہ سوال اٹھایا تھا کہ یار لو گ جو ہر تیسرے دن کراچی سے دبئی جاتے ہیں تو ہوائی جہاز کا ٹکٹ کون خریدتا ہے اور وہاں ان کے قیام و طعام پر جو خرچہ اٹھتا ہے وہ کس کھاتے سے برداشت کیا جاتا ہے سرکاری فنڈ سے یا پھر پارٹی کے اپنے فنڈ سے ؟ اس سوال کا جواب ہنوز ہمیں تو نہیں ملا اور اب جو میاں صاحب اپنے وزیراعظم اور بھائی کو مشاورت کیلئے لندن بلاتے ہیں۔

تو ان کے آنے جانے قیام و طعام کے اخراجات کس ہیڈ آف اکاؤنٹس سے ادا کئے جاتے ہیں اور کیا اس سقم کے اخراجات قانونی بھی ہیں ؟ یورپ اورامریکہ ہوتا تو پارلیمنٹ میں کوئی نہ کوئی ان سوالات کے جواب مانگتا لیکن وطن عزیز کا ہر صاحب اقتدار اپنے آپ کو قانون سے بالا تر تصور کرتا ہے ہماری سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے کہ ہمارے حکمران غیر ضروری باتوں یعنی نان ایشوز میں اپنے آ پ کو الجھا کر اپنا وقت کیوں ضائع کرتے ہیں ایک مرتبہ پھر سندھ کا بینہ آئی جی سندھ کو ہٹاے کی درپے ہے اور ا س نے اے ڈی خواجہ صاحب کو ہٹانے کا پھر فیصلہ کر لیا ہے ماضی میں وہ ایک دو مرتبہ اس قسم کی کوشش کر چکی ہے لیکن سندھ ہائی کورٹ اس کے آڑے آ گئی تھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں وہ آئی جی سندھ کو برداشت نہیں کر پا رہی؟ کیا وہ کرپٹ ہے ؟ کیا وہ نا اہل ہے ؟

اگر اس پر کوئی الزام ہے تو اس کے خلاف محکمانہ اور قانونی کاروائی کی جائے لیکن اگر اسے اس بات پر سزا دی جا رہی ہے کہ وہ سندھ میں پولیس میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کرنا چاہتا ہے اور اس ضمن میں منتخب نمائندوں کی سفارشی چھٹیاں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے تو پھر یہ بڑی زیادتی کی بات ہو گی کہ اسے اپنے منصب سے ہٹا دیا جائے سندھ میں پہلے ہی سے خاص طور پر گزشتہ دس برسوں میں پولیس کا بیڑہ غرق کر دیاگیا ہے سفارشوں اور پیسوں کے ذریعے پولیس کے نچلے کیڈرز میں ہزاروں بھرتیاں ہوئی ہیں تب ہی تو وہاں بھتہ خوروں‘ اغواء کاروں ‘ سمگلروں ‘ منشیات فروشوں غرضیکہ ہر قسم کے جرائم پیشہ افراد کا راج ہے اور پولیس ان کو نکیل ڈالنے میں مفلوج ہے اے ڈی خواجہ نے اپنے تئیں کوشش کی کہ وہ پولیس کے حالات سدھارے پر نقارخانے میں طوطی کی آواز بھلا کون سنتا ہے آج نہیں تو کل اے ڈی خواجہ کو ہینڈز اپ کرکے سند ھ کو خیر آباد کہنا ہو گا ورنہ پہاڑوں سے سر ٹکرانے سے اس کا اپنا ہی سر پھٹے گا ‘اب وقت آگیا ہے کہ اداروں کو مضبوط بنانے کیلئے ان میں سیاسی اثر ورسوخ کو ختم کیا جائے اور ان کو قانون کے مطابق منظم اور فعال بنایاجائے۔