بریکنگ نیوز
Home / کالم / کرکٹ کی واپسی: امن کی بحالی!

کرکٹ کی واپسی: امن کی بحالی!


پاکستان کے بارے میں عمومی منفی تاثر پھیلانے والوں کی مایوسی اُس وقت دیدنی تھی جب لاہور میں مہمان سری لنکا ٹیم کے کھلاڑیوں نے قدم رکھ کر ثابت کر دیا کہ حالات تبدیل ہو چکے ہیں اور پاکستان کے خلاف سازش ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کی قومی کرکٹ ٹیموں کے درمیان محدود اوورز کا ’ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میچ‘ قذافی سٹیڈیم میں کھیلا گیا جو تین میچوں کی سیریز کا آخری میچ تھا اور پاکستان نے ون ڈے کی طرح ’ٹوئنٹی ٹوئنٹی سیریز‘ کے تمام مقابلے جیت کر کرکٹ کی اپنی رینکنگ میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ گویا پاکستان میں کرکٹ کی واپسی دو طرح سے خوشخبری ثابت ہوئی۔ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان اور سری لنکا نے مل کر دہشت گردی کو ’’کلین بولڈ‘‘ کرکے امن و آشتی کو بے مثال کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ اس میچ میں اگرچہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے سری لنکا کو چھتیس رنز سے شکست دے کر ون ڈے سیریز کی طرح سیریز میں بھی وائٹ واش کیا‘ جس کے باعث قومی کرکٹ ٹیم عالمی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر آگئی اور اس کے عالمی رینکنگ میں نمبرون بننے کے چانسز بھی بڑھ گئے تاہم سری لنکا نے پاکستان آکر کرکٹ کھیلنے کا دہشت گردوں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کا چیلنج قبول کرکے اور پوری دنیا کو پاکستان کے پرامن ملک ہونے کا ٹھوس پیغام دے کر پاکستان میں کرکٹ کے ہی نہیں‘ تجارت و سرمایہ کاری کا مستقبل بھی روشن کیا ہے۔ اِس لئے ہر پاکستانی کی طرف سے ہمیں سری لنکا کا ’دلی شکریہ‘ ادا کرنا چاہئے۔

سال دوہزار نو میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر قذافی سٹیڈیم کے قریب دہشت گرد حملہ ہوا تھا جس میں متعدد سری لنکن کھلاڑی زخمی بھی ہوئے جبکہ دہشت گردی کی اس واردات کی بنیاد پر برطانیہ اور جنوبی افریقہ سمیت متعدد دیگر ممالک کی کرکٹ ٹیموں نے بھی پاکستان آنے سے انکار کردیا‘ جس کے باعث پاکستان میں کرکٹ کے عالمی مقابلوں کا انعقاد دوہزار نو سے باوجود کوشش بھی نہیں ہو سکا اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان میں شاید کبھی بھی عالمی کرکٹ ممکن نہیں ہو سکے گی اور آٹھ سال تک کسی غیرملکی ٹیم نے پاکستان کا رخ نہ کیا۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ پر طاری ہونے والے اِس جمود کو چیئرمین کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی نے ختم کیا جب قذافی سٹیڈیم لاہور ہی میں تین ماہ قبل ورلڈ کرکٹ الیون اور پاکستان کے مابین آزادی کپ کا اہتمام کیا گیا جس میں شرکت کے لئے پاکستان آنے والے ورلڈ الیون کے معروف کھلاڑیوں نے بھی دہشت گردی کو شکست دینے کی پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششوں کا مکمل ساتھ دیا۔ یہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ بھی قومی ٹیم نے ورلڈ الیون سے بیس رنز سے جیتا تھا جس سے نہ صرف قومی کرکٹ کی ساکھ مضبوط ہوئی بلکہ اس سے انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان میں واپسی کا راستہ بھی ہموار ہوگیا۔ سکیورٹی خطرات اس میچ کے حوالے سے بھی موجود تھے اور پاکستان اور سری لنکا کے مابین ہونے والی سیریز کے گزشتہ روز کے آخری میچ کے حوالے سے بھی سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس دہشت گردوں کے متحرک ہونے کی ٹھوس اطلاعات موجود تھیں جن کے مطابق اسرائیل‘ بھارت اور افغانستان کی ایجنسیوں نے سری لنکا ٹیم پر قذافی سٹیڈیم میں حملے کی گھناؤنی منصوبہ بندی کررکھی تھی جو ہمارے سکیورٹی اداروں نے سری لنکا ٹیم کی پاکستان آمد سے پہلے ہی دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کاروائیاں کرکے ناکام بنادیں اور اس سازش میں شریک چھ دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔

اسی طرح سکیورٹی اداروں کی جانب سے لاہور کا سکیورٹی پلان اس مربوط انداز میں تیار کیا گیا کہ دہشت گردوں کے لئے اپنے مذموم منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہ رہا۔ سکیورٹی کے ان انتظامات کی بنیاد پر ہی قذافی سٹیڈیم میں میچ کے دوران ایک انکلوژر میں ایک دوسرے کے مخالف سیاسی نعروں کے ناخوشگوار واقعہ کے سوا کسی کو امن میں خلل ڈالنے کا کوئی موقع نہ مل سکا۔ اس طرح پاکستانی قوم اور سری لنکا و پاکستان کی کرکٹ ٹیموں نے باہم مل کر دہشت گردوں کا بوکاٹا کردیا۔ اس مثالی ڈسپلن کو دیکھ کر ہی سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر تھلنگا سمتھی بالا نے پاکستان کو کرکٹ کیلئے اہم ملک قرار دیتے ہوئے آئندہ بھی اپنی ٹیم یہاں بھجوانے کا عندیہ دے دیاہے جبکہ قذافی سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لئے آنے والی بھارت کی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا نے بھی اپنے ٹویٹر پیغام کے ذریعے دنیا کو پاکستان کے پرامن ملک ہونے کا پیغام دیا۔ اسی طرح عالمی باکسر عامر خان نے بھی اس میچ کے حوالے سے اقوام عالم کو یہی پیغام دیا کہ پاکستان قطعاً محفوظ ملک ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد تو بطور خاص مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ٹیم میں ڈسپلن‘ سپرٹ اور مہارت کو بنیاد بنا کر پاکستان کرکٹ کا مستقبل محفوظ بنا دیا ہے۔

ان کی زیرقیادت قومی کرکٹ نے عالمی اور ایشیائی کرکٹ میں یکے بعد دیگرے جو بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ سرفراز کی زیرقیادت قومی کرکٹ ٹیم کے فعال اور مضبوط ہونے کا ہی ثبوت ہے۔ سری لنکا کی مضبوط ٹیم کے مقابل قومی کرکٹروں نے جس لگن اور جذبے کے ساتھ ہر فیلڈ میں اپنا سکہ جمایا۔ سری لنکن ٹیم نے زندہ دلانِ لاہور اور شائقین کرکٹ کے دل جیت لئے جو پاکستان کی فتح کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ سری لنکا کی ٹیم کیلئے بھی دادو تحسین کے ڈونگرے برساتے رہے۔ سری لنکا کی ٹیم قذافی سٹیڈیم میں سیریز کا آخری میچ کھیل کر اپنے ملک واپس جاچکی ہے مگر پاکستان میں کرکٹ کے فروغ کے ماحول کو باغ و بہار بناگئی ہے۔ کرکٹ کے ذریعے پاکستان میں امن کی بحالی کیلئے سری لنکا کی جانب سے اٹھایا گیا مثبت اقدام پاکستانی قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ پوری قوم کو کرکٹ کی واپسی اور پاکستان میں امن کی بحالی مبارک ہو۔ پاکستان کیلئے کرکٹ صرف ہی نہیں رہا بلکہ رہن سہن کا طریقہ اور ملک کی ساکھ کا ذریعہ بھی بن چکا ہے اور اب دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کرکٹ اور امن دونوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ماجد بھٹی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)