بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / عہد کی حُرمت

عہد کی حُرمت


ہمارے خیبر میڈیکل کالج سے بڑے نامی گرامی ڈاکٹر نکلے ہیں۔ گزشتہ ایک کالم میں‘ میں نے اپنے ایک ایسے ہی دوست کا ذکر کیا تھا لیکن بقیہ کالم میں غلطی سے کافی قطع بُرید ہوئی۔ اسلئے اسے دوبارہ برداشت کیجئے ، قندِ مکرّر سمجھ کر۔
سردار نعیم خان میرے بڑے پیارے دوست ہیں۔ ایف آرسی ایس ہیں اور اچھی خاصی ٹریننگ کے بعد ملک واپس آئے اور اپنے آبائی ضلع میں پرائیویٹ پریکٹس کرنے لگے‘ یاروں کے یار ہیں‘ مختصر سی پریکٹس کرتے ہیں اور زندگی کے ہر لمحے سے لطف کشید کرتے ہیں۔ غصے کے ذرا تیز ہیں لیکن ان کے ملنے جلنے والوں کے علاوہ مریضوں کو بھی معلوم ہے کہ ان کے غصے کی جھاگ ایک پل میں بیٹھ جاتی ہے اس لئے کوئی بھی ناراض نہیں ہوتا۔ گزشتہ روز وہ میرے پاس آئے۔ ہم چند دوستوں کا عشائیہ طے تھا ۔ کھانے پر جانے سے قبل نعیم نے بتایا کہ ان کو ایک کوکنگ رینج لینا ہے۔ میں نے اپنی معلومات کا رُعب جما کر بتایا کہ فلاں سٹور اسلئے اچھا ہے کہ ایک تو وہاں قیمتیں کم ہیں، ورائٹی زیادہ ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ مینوفیکچرر کی طرف سے بعد میں سروس کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ تاہم نعیم خان اَڑ گئے کہ نہیں ۔ انہوں نے دوسرے دکاندار کے ساتھ فون پر طے کیا ہوا ہے۔ میں نے ان کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ کیا حرج ہے، ان کو دوبارہ فون کرکے بتادیں کہ آپ نے ان سے خریدنے کا ارادہ بدل دیا ہے۔ بس میرا یہ کہنا تھا کہ سردار نعیم کا پارہ چڑھ گیا۔ ڈانٹتے ہوئے بولے کہ مجھے یہ سوچنے کی جرات کیسے ہوئی کہ نعیم خان زبان سے پھر جائیں گے۔ میں کھسیانا ہوکر چُپ ہوگیا۔ اسکے بعد ہم اُسی دکان میں گئے جہاں سے کافی خریداری کی۔

یہ بڑا مصروف دور ہے۔ جو کام کرنے والے لوگ ہیں وہ وقت کی کمی کی مسلسل شکایت کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ہم وعدے کربیٹھتے ہیں اور بعد میں بھول جاتے ہیں۔ بظاہر تو یہ معمولی سی بات ہے لیکن ایک دو دفعہ ایک ہی شخص کے ساتھ ہم بدعہدی کرلیں توساری عمرکا اعتبار کھوبیٹھتے ہیں۔ پھر وہ شخص آپ کی ہر بات کو نظرانداز کرنے پر مجبور ہوگا۔’ جس نے عہد کی خلاف ورزی کی اسکا دین ہی نہیں‘ ایک مشہور حدیث ہے۔ تاہم اسلام کے نام پر مرنے والوں کو یہ معمولی معمولی کام اپنی حیثیت سے کم لگتے ہیں۔ معاشرتی زندگی میں عہد کی پابندی خواہ وہ انفرادی حیثیت میں ہو یا قومی سطح پر ، دور رس نتائج کی حامل ہوتی ہے۔ اسی پر ساری دنیا کا کاروبار چلتا ہے۔
عام زندگی میں خواتین درزیوں کے ہاتھوں اسی لئے زچ ہوتی ہیں کہ وہ ٹرخاتے ٹرخاتے تقریب کے بعد ہی کپڑے بنا کردیتے ہیں۔ ڈاکٹر نے اپوائنٹمنٹ دے دی لیکن مریض آیا تو معلوم ہو ا کہ ڈاکٹر صاحب تو کانفرنس کیلئے ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں سینئر ڈاکٹروں کی ایڈمنسٹریشن کی ڈیوٹیاں اور تعلیمی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں جو وہ خود اپنے ٹائم ٹیبل کے ساتھ ترتیب دے سکتے ہیں لیکن جب سیکرٹریٹ سے دن کے گیارہ بجے فون آجاتا ہے کہ ساڑھے گیارہ بجے ضروری میٹنگ ہے تو ان کی اوپی ڈی اور آپریشن سارے غتر بود ہوجاتے ہیں۔ جن مریضوں کو اس وقت پر بلایا ہوتا ہے وہ سارے مایوس ہوجاتے ہیں اور یوں مجبوراً ان کو کسی پرائیویٹ کلینک سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ پرائیویٹ ہسپتال میں بھی ضروری کام پڑ سکتے ہیں لیکن وہاں مریضوں کا فون نمبر موجود ہوتا ہے اور ایک یادودن پہلے ان سے معذرت کی جاسکتی ہے۔ میرا اپنا یہی معمول ہے۔

وعدے کی خلاف ورزی جب پوری قوم میں سرائیت کرجاتی ہے تو حکمران بھی دھڑلے سے کہہ بیٹھتے ہیں کہ وعدہ کوئی قرآن کی آیت نہیں جس سے روگردانی ناممکن ہو۔وعدے کی یہی بے حرمتی ہے جس کی وجہ سے کوئی شخص دوسرے پر اعتبار نہیں کرتا۔ عدالت کسی شخص کو ضمانت کے بغیر نہیں جانے دیتی۔ سرکاری دفاتر میں درخواستوں کے ساتھ کئی کاغذات منسلک کرنے پڑتے ہیں۔ہر ہر مرحلے پر فوٹو سٹیٹ اور کسی افسر سے تصدیق لازمی ہوتی ہے۔ اسی جھوٹ کے کلچر نے ہر شخص کو ناقابل اعتبار بنادیا ہے۔سیاستدانوں کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی ان سے سچے وعدے کی توقع نہیں کرتے اور وہ بھی ہر جلسے میں آسمان سے ستارے توڑکر لانے کی بات کرتے ہیں اور کرائے کے سامعین واہ واہ کے ساتھ ساتھ تالیاں بھی پیٹتے ہیں۔ مذہبی جماعتوں نے اسلامی نظام لانے کی بات کی ، ہم نے مان لیا، ان کی حکومت ختم ہوئی لیکن نہ اسلام آیا اور نہ ہی عدل ملا۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا، لوگ الٹا ان سے بھی محروم ہوگئے۔ سڑکوں اور انڈسٹریل سٹیٹس کا جال بچھانے کا وعدہ ہوا اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے بلند و بالا وعدے ہوئے۔ دس سال بعد وہی حالت ہے۔

وعدے کا پاس نہ کرنے کا خاندان میں بھی بڑا گھمبیر اثر ہوتا ہے۔ جب والدین بچوں کے ساتھ وعدہ توڑتے ہیں تو چھوٹے چھوٹے بچے بھی والدین پر اعتبار کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ میرے ایک دوست ہیں ۔ انگلینڈ میں رہتے تھے۔ ان کے بچے وہیں پلے بڑھے اور تعلیم حاصل کی۔ ان کی چھوٹی بیٹی نے اگلے دن دفتر جانا تھا اور اسکے پاس اپنی گاڑی نہیں تھی۔ والد سے پوچھا کہ ’کیا آپ مجھے لفٹ دے دیں گے؟‘ میرا دوست بولا کہ انشا ء اللہ۔ ان کی بیٹی تھوڑی سی خاموش ہوئی لیکن پھر بولی کہ پلیز کیا آپ صرف ہاں یا نا میں جواب دیں گے؟ اس پر مجھے احساس ہوا کہ ہم اس ایک لفظ کا کتنا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اب تو یہ معمول ہوگیا ہے کہ آپ نے کسی وعدے کی پاسداری نہیں کرنی تو اسکو انشا ء اللہ کا تڑکا لگادیں۔ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ چوکھاآئے۔آپ کا وعدہ نبھانے کا ارادہ ہی نہیں تھا اور الزام اللہ کے ذمے ۔ بے شک انشاء اللہ ضرور کہیں لیکن دل میں ۔ اسلئے کہ ہم نے اس ایک لفظ کی بہت بے حرمتی کی ہے۔ اب تو جو شخص بھی مجھے اس لفظ کے ساتھ وعدہ کرتا ہے میں سمجھ جاتا ہوں کہ معاملہ سو فیصد کا نہیں۔