بریکنگ نیوز
Home / کالم / تلخ سوالات

تلخ سوالات


ایک نہایت ہی فکر انگیز قول ہے کہ یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اصل چیز ہوتی ہے کسی بھی تحریر یا تقریر کے مندرجات‘ اس مقولے کی روشنی میں آج ہم اخبارات میں شائع ہونے والے دو بیانات کا تجزیہ کریں گے جو دو اہم مذہبی شخصیات کے ساتھ منسوب کئے گئے ہیں پہلے بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالتوں میں انصاف نہ ملنے سے معاشرہ جنگل بن جاتا ہے اسی بیان کے دیگر مندرجات میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈاکٹر تاجر‘ تعلیمی ادارے تجارتی اڈے اور بازار دھوکہ دہی کے مراکز بن چکے ہیں اور یہ کہ قومیں آبادی میں اضافے سے نہیں جھوٹ ‘ظلم ‘ملاوٹ اور دھوکے کی وجہ سے غربت کاشکار ہوتی ہیں دوسرے بیان میں ایک عالم دین نے فرمایا ہے کہ دینی قوتوں اور دینی شخصیات کو اس وقت سب سے زیادہ خطرہ دین فروشوں سے ہے مذہب فروشی کے اس کاروبار میں دین کی دعوت پھیلانے والوں کیلئے کام نہایت مشکل بنادیاگیاہے کیونکہ لوگ مذہب فروشوں کے چہروں میں عالم دین کا چہرہ دیکھتے ہیں ‘بیان میں مزید کہا گیا کہ خود اسلام کے نام پربعض لوگ یورپ کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں مگر جب غریب پیش امام کے لئے تنخواہ کا اعلان ہوتا ہے تو آگ بگولا ہوجاتے ہیں وہ شعر کہ جس کا ایک مصرع یہ ہے کہ ’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ‘‘ مندرجہ بالادوبیانات پر صادق آتا ہے ان دو بیانات میں بالکل ان حالات پر صحیح نشترزنی کی گئی ہے کہ جو آج ہمارے معاشرے میں ہر سو نظر آ رہے ہیں۔

اس بات میں دو آراء ہوہی نہیں سکتیں کہ عدالتوں سے اگر ہر عام و خاص کو انصاف نہ ملے تو معاشرے میں جنگل کا قانون جڑ پکڑ لیتا ہے کہ جسے قانون کی زبان میں Jungle law کہا جاتا ہے کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس ملک میں جعلی ڈگریوں پر کئی لوگ ڈاکٹر بن رہے ہیں کئی اساتذہ غیر ملکی سکالرز کے مقالے چرا کر ان کی بنیاد پر پی ایچ ڈی بن بیٹھے ہیں مارکیٹ اور بازاروں میں بظاہر صوم و صلوٰۃ کے پابند تاجر اشیائے خوردنی میں ملاوٹ ‘ بلیک مارکیٹنگ کر رہے ہیں اور ان کی منصوعی قلت پیدا کرنے کیلئے ان کی ذخیرہ اندوزی کے مرتکب ہو رہے ہیں ادویات میں بھی ملاوٹ ہے دودھ میں آلودگی ہے غرضیکہ کونسی ایسی چیز ہے جو خالص حالت میں آپ کو مل رہی ہے ہر ایک شے کا نمبر دو مارکیٹ میں دستیاب ہے اللہ پاک کا قانون تو اٹل ہے خداوندتعالیٰ نے تو سورۃ محمدؐ میں صاف صاف فرما دیا ہے کہ اگر تم نے آئین حیات سے منہ پھیر لیا تو یہ زمین کسی اور قوم کے قبضے میں دے دی جائیگی کیا گزشتہ کئی صدیوں سے ہم پستی اور غلامی کی اتھاہ گہرائیوں میں نہیں گرے ہوئے ہیں ؟

کبھی ہم ایک سپرپاور کی غلامی میں جیتے ہیں تو کبھی دوسری کی بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہوتے ہیں دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے ہمیں پہلے اپنے گھر کو درست کرنا ہو گا اپنے کردار اور افعال کو اسلام کے ڈھانچے میں لانا ہوگا کیا ہم رشوت یا کمیشن کھانا چھوڑ سکتے ہیں ؟کیا ہم بطور تاجر یا مینوفیکچرر جو اشیاء فروخت کرتے ہیں یا بناتے ہیں ان میں ملاوٹ کرنے سے باز آ سکتے ہیں ؟ کیا ہم جعلی ڈگریاں فروخت کرنے یا خریدنے سے اجتناب کر سکتے ہیں ؟سب سے پہلے ہم میں سے ہر فرد کو اپنے گھر میں رضاکارانہ طور پر از خود اپنے آپ پر سنسر شپ لگانی ہوگی سوالات کرنے ہوں گے اور یہ بات یقینی بنانا ہو گی کہ ہمارے گھر میں جو پیسہ بھی آ رہا ہے کہ وہ حق حلال کمائی کا ہے ہرباپ ‘ ماں ‘ بیوی کو اپنی اولاد اور اپنے شوہر کی آمدنی پر نظر رکھنی ہو گی یہ جاننے کیلئے کہ اسکی تنخواہ یا آمدنی کتنی ہے اور وہ خرچ کیا کر رہا ہے کسی راکٹ سائنس میں پڑھنے کی قطعاً ضرورت نہیں آج صورتحال یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی کسی پر سوال نہیں کر رہا جو کچھ گھر میں آرہا ہے ہم اسے حلال سمجھ کر اس کے مزے اٹھا رہے ہیں۔