بریکنگ نیوز
Home / کالم / آمرانہ ادوا ر کی تاریخ

آمرانہ ادوا ر کی تاریخ


پاکستان کی سیاسی تاریخ ڈراموں‘سازشوں اور بحرانوں کا مجموعہ ہے تاہم اگر ہم بنیادی باتوں پر غور کریں تو دو چیزیں ایسی ہیں جنہیں شاید ہی کوئی پسند کرے گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ مارشل لاء عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا‘ چاہے آمروں کی نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ اصلاحات کو مستقل بنانے کے لئے جس قدر وقت درکار ہوتا ہے‘ کسی آمر کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا اور جیسے ہی ڈکٹیٹر جاتا ہے‘ اس نے جو بھی کام کئے ہوتے ہیں انہیں ختم کر دیا جاتا ہے کیونکہ یہ سیاستدانوں کا انتقام ہوتا ہے اور وہ اچھی بُری جملہ اصلاحات کو بدنما داغ سمجھتے ہیں اور یوں طرز حکمرانی کی اصلاح نہیں ہو پاتی اور بات جہاں سے شروع ہوئی ہوتی ہے وہیں اختتام پذیر بھی ہو جاتی ہے!دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاست جمود کا شکار بالکل نہیں اور یہاں نت نئے طریقے باآسانی مل جاتے ہیں‘ اسلئے مستقل سیاسی قوت کا مفروضہ ایک مفروضہ ہی ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے‘کیونکہ نئے آپشنز اور نئی سیاسی جماعتوں کا مطلب نئے خیالات اور نئی سیاست ہے‘ان دونوں چیزوں‘حقیقت پسندی اور رومانویت کو اگر ساتھ رکھیں تو ہمارے پاس ملٹری ٹیک اوور کیخلاف ایک بہت زبردست مؤقف سامنے آتا ہے لیکن نظام کی تبدیلی کیلئے اتنی محنت کیوں کی جائے جبکہ طرزحکمرانی کی اصلاح ہمارے حکمران اپنے مفاد میں نہیں سمجھتے!

موجودہ سیاسی حالات میں اگر فوج اقتدار حاصل کرتی ہے تو یہ مرحلہ پرویز مشرف کے پہلے دور یعنی 1999ء سے 2002ء کے جیسا ہی ہوگا اسکی کئی وجوہات ہیں‘مداخلت کی پوری بحث ایک نئے سسٹم کے گرد نہیں گھومتی بلکہ موجودہ سسٹم کو تھوڑی دیر روکنے کیلئے ہے تاکہ اسے مضبوط کیا جاسکے۔ یہیں سے خود پر حد لگا دی جاتی ہے اس کے بعد عدالت‘ ہر مارشل لاء کو قانونی تحفظ دیتی ہے‘یہ ہماری سیاست کی بنیاد ہے اسلئے مارشل لاء لگانے والا عدالتیں ختم نہیں کرتا ‘اس سے عدالتوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ مارشل لاء کی مدت بھی مقرر کرسکیں۔ مشرف کو تین سال ملے اور اگلی مرتبہ یہ عرصہ صرف دو سال ہوسکتا ہے اور پھر عمران خان بھی تو ہیں۔وہ آج تک وزیر اعظم نہیں بنے اور جتنے سال ایک ڈکٹیٹر منظرنامے پر رہے گا‘ عمران کے پاس وزیر اعظم بننے کے لئے اتنے ہی کم سال رہ جائیں گے۔ پی ٹی آئی کی اقتدار میں آنے کی حد درجہ بھوک ملک میں عام انتخابات کی طرف واپسی کو یقینی بنائے گی۔ایجنڈا کیا ہوگا؟ اسکا بھی اندازہ لگانا مشکل نہیں‘ یہ اکتوبر 1999 میں مشرف کے سات نکات کا ملغوبہ ہوگا ملک میں استحکام لانا نسبتاً آسان کام ہے‘مشکل کام تو ڈھانچے میں تبدیلی لانا ہوتا ہے‘ بیوروکریسی‘ پولیس اور مقامی حکومتیں تو عمومی نشانہ ہوتی ہیں‘ نظامِ انصاف پر آمر کی اصلاحی چھری اس لئے نہیں چلتی کیونکہ اسے قانونی حملوں سے بچنے اور اپنی حکومت کا جواز برقرار رکھنے کیلئے ججز کی ضرورت پڑتی ہے مگر ریاست کا انتظام اور یہ عوام سے کس طرح پیش آتی ہے‘ اسے تبدیل کرنا ایک طویل کھیل ہے۔ موجودہ صورتحال میں اگر کوئی آمر برسراقتدار آتا ہے تو اسکے پاس صرف شروع کے دو سال ہی ہوں گے۔ آمر کو صرف دو یاتین سال کے اندر ہی سیاسی مرحلے میں واپس آنا پڑے گا‘ چاہے تو وہ نئی سیاسی جماعت بنا لے یا پھر تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کرلے۔

سیاسی مرحلے کی جانب لوٹنے کا مطلب ہے کہ سمجھوتے کرنے پڑیں گے جو آپ کے گورننس اور اصلاحاتی ایجنڈے پر پانی پھیر دیں گے اور آپ کے سیاسی حریفوں کو موقع ملے گا کہ وہ آپکو سیاسی طور پر ہٹانے کیلئے کام شروع کرسکیں۔حالات یہ ہیں کہ کوئی آمر ایک یا دو انتخابات تک تو باقی رہ سکتا ہے مگر اس سے زیادہ عرصے آمریت کے رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ آمرانہ حکومت سے حاصل ہونیوالے نتائج سے عوام کا ناخوش ہونا اور کئے گئے سمجھوتے اور باہر نکال دی گئی سیاسی جماعتوں کا دباؤ بہت زیادہ بڑھ جائے گا اور عموماً اسی وجہ سے آمرانہ حکومتیں اپنی اصلاحات بھی پوری نہیں کر پاتیں لیکن یوں دکھائی دے رہا ہے کہ اس مرتبہ آمر کو اپنی بقاء کی جنگ لڑتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے مزید سمجھوتے کرنے پڑیں گے جس سے اسکا اصلی اصلاحاتی اور گورننس ایجنڈا بکھر جائے گا۔

نتیجہ یہی ہوگا کہ آخرکار آمر کو جانا پڑیگا اور عام انتخابات میں جیتنے والے سیاستدان اپنا پہلا کام یہی سمجھیں گے کہ وہ آمر کے اقدامات کو ختم کر دیں‘ یعنی ہم خود کو وہیں کا وہیں کھڑا پائیں گے جہاں سے سفر شروع ہوا تھا!سیاست بنیادی طور پر لچک سے عاری نظام نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے نئے آپشن ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں‘ اگر جمہوری نظام جاری و ساری رہتا ہے تو نئی سیاسی جماعتیں اور نئی سیاسی نظریات کی آمد کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تحریک انصاف‘ نواز لیگ‘ پیپلزپارٹی اور متحدہ سب میں خامیاں ہیں مگر یہ عوام کا سیاسی انتخاب ہیں‘ ان میں نئی سیاسی جماعتوں یا نئی قیادتوں کا اضافہ کریں تو مقابلہ پھر اچھا لگے گا۔ ہوسکتا ہے کہ اِسی وجہ سے خود احتسابی ممکن ہوسکے مگر چلیں رومانویت اور حقیقت پسندی بہت ہوگئی۔ بہت جلد ہی ہم ڈرامے‘ سازش اور بحران کی طرف واپس لوٹنے والے ہیں۔ پاکستان کو مستحکم سیاسی دور کی ضرورت ہے جس کے لئے آمریت وقتی حل تو ثابت ہو سکتا ہے لیکن اِس کی تمنا نہیں کرنی چاہئے۔(بشکریہ: ڈان۔ تحریر: سرل المیڈا۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)