بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / گرانی کا نیا وار

گرانی کا نیا وار


حکومت نے اوگرا کی سفارش پر پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں 5.19 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیاہے‘ نئے نرخوں کے فوری اطلاق کیساتھ پٹرول 2.49‘ ڈیزل5.19اور مٹی کا تیل 5روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا ہے‘ مارکیٹ میں پٹرول کی نئی قیمت 75.99جبکہ ڈیزل 34.19روپے لیٹر ہو گئی ہے‘ پٹرولیم منصوعات کے نرخوں میں اضافے سے قبل درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد اور اس کی شرح بڑھاتے ہوئے عوام پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جاچکا ہے‘ وطن عزیز میں عام شہری بھاری یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کیساتھ گرانی کی چکی میں بری طرح پس رہا ہے‘ لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں‘ مارکیٹ انتظامی کنٹرول سے آزاد ہے‘ معمولی گرانی‘ ٹیکس یا کسی اور محصول کا اثر شہریوں پر کئی کئی گنا زیادہ کرکے لادا جاتا ہے‘ بھاری قیمت ادا کرکے بھی شہریوں کو کھانے پینے کی اشیاء ملاوٹ کے ہاتھوں مضر صحت صورت میں ملتی ہیں جبکہ علاج کیلئے جانے پر جعلی ڈاکٹر‘ عطائی‘ جعلی لیبارٹری اور دونمبر دوائی ملتی ہے۔

‘ اقتصادی شعبے کی مجبوریاں اپنی جگہ ‘حکومت کے فنانشل منیجرز کیلئے ضروری یہ ہے کہ وہ عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے فنانشل مینجمنٹ پر توجہ مرکوز کریں‘ سرکاری شعبے کے شاہانہ اخراجات پر قابو پایاجائے‘ مارکیٹ کے کنٹرول کیلئے مجسٹریسی نظام کو فوری طورپر بحال کیاجائے‘ اس سب کیساتھ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ اور دوسرے سیکٹرز میں بروقت ادائیگیاں ممکن بنائی جائیں تاکہ وہ اپنے مالیاتی امور بہتر طور پر سرانجام دے سکیں‘ اس وقت وطن عزیز میں غریب اور متوسط شہری کو بچوں کی تعلیم اور بیماری کی صورت میں علاج کیلئے بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مرکز اور صوبوں میں ان دونوں سیکٹرز کیلئے کھربوں روپے کا بجٹ مختص کیاجاتا ہے تاہم بجٹ کے بڑھنے کیساتھ سرکاری شفاخانوں میں مفت ملنے والی خدمات کے بھی اب چارجز ادا کرنا ہوتے ہیں‘ حکومت چاہے مرکز میں ہویا کسی بھی صوبے میں‘ اس کے اقدامات سے عام آدمی صرف اسی صورت اطمینان پاتا ہے جب اسے خدمات کی فراہمی میں بہتری اور مارکیٹ میں ریلیف نظر آئے‘ بصورت دیگر وہ ہر چیز کو صرف زبانی کلامی اعلان ہی سمجھتا ہے۔

داخلی آڈٹ کانظام

خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری محکموں میں انٹرنل آڈٹ کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے‘ قومی فنڈز کے استعمال میں شفافیت کیلئے ہر اقدام بہتر ہی قرار دیاجاسکتا ہے‘ اس سب کیساتھ انکار اس حقیقت سے نہیں کیاجاسکتا کہ کوئی بھی سسٹم اسی صورت ثمر آور ثابت ہوسکتا ہے جب اس پر عمل درآمد صحیح معنوں میں ہو‘وطن عزیز کے دفتری نظام میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام پہلے بھی موجود ہے تاہم عملدرآمد کے فقدان ہی کا نتیجہ ہے کہ پوچھ گچھ کیلئے علیحدہ اداروں کو ایکشن لینا پڑتا رہتا ہے‘ داخلی آڈٹ کا نظام جتنا بھی موثر ہو اگلے مرحلے پر باہر سے آڈٹ کرانا ضروری ہے‘ سرکاری اخراجات میں شفافیت کیلئے آڈٹ رپورٹس کا ویب سائٹس پر اجراء بھی ضروری ہے‘ اس کیساتھ ڈرافٹ پیراز سے متعلق بھی تفصیلات تک رسائی ہونی چاہئے تاکہ قومی فنڈز کے استعمال اور شفافیت سے متعلق لوگ جان سکیں۔