بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سیاحت کے فروغ کیلئے خیبرپختونخوا میں 14 مقامات کا چناؤ

سیاحت کے فروغ کیلئے خیبرپختونخوا میں 14 مقامات کا چناؤ


پشاور۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے سوات موٹروے کی بروقت تکمیل کیلئے دن رات کی شفٹوں میں تعمیراتی کام آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے ، انہوں نے شاہراہ میں حائل ہائی ٹرانسمشن لائنیں فوری ہٹانے، پہاڑوں کی کٹائی، سرنگوں کی ڈرلنگ و لائننگ ، دونوں اطراف پر مسافروں کیلئے آرام گاہوں مساجد و دیگر سہولیات پر کام تیز کرنے کے علاوہ سکیورٹی کا موثر بندوبست کرنے نیز گاڑیوں اور سکیورٹی عملے کی تقرری کا عمل بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں زیر تعمیر سوات موٹر وے اور سی پیک منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق اجلاسوں کی صدارت کر رہے تھے ۔حکام نے بتایا کہ موٹروے کیلئے کرنل شیر انٹرچینج سے چکدرہ تک اراضی کی خریداری سو فیصد مکمل ہو چکی ہے ، ترقیاتی کام بھی جاری ہے ، راستے میں آنے والی ہائی ٹرانسمیشن لائنیں ہٹائی جارہی ہیں جبکہ1200 میٹر لمبی دوہری سرنگوں پر شمالی اور جنوبی دونوں اطراف سے کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

ایکسپریس وے سے گزرنے والے سات انٹر چینجز کیلئے مقامات کا تعین اور اراضی کا حصول بھی مکمل ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ منصوبے کو پانچ پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے اور پانچوں پر تیزی سے تعمیراتی کام جاری ہے۔ اگلے دو مہینے تک کرنل شیر انٹر چینج سے کاٹلنگ تک موٹر وے ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی پہاڑی علاقے میں سرنگوں کی کھدائی کاکام بھی دن رات جاری ہے اورکوشش کی جارہی ہے کہ 81 کلومیٹر موٹر وے کو وقت مقررہ پر چکدرہ تک ٹریفک کی آمد ورفت کے لیے کھول دیا جائے گا ۔

وزیر اعلیٰ نے فول پروف سکیورٹی انتظامات کیلئے درکارتقریباً12 کروڑ روپے کی متعلقہ وفاقی ادارے کو ادائیگی کے انتظامات کی ہدایت بھی کی اور واضح کیا کہ 35ارب روپے کی لاگت سے زیر تعمیر سوات ایکسپریس موٹر وے جوچکدرہ تک جائے گی صوبائی حکومت کا اپنا منصوبہ ہے انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ منصوبہ اگلے سال مارچ میں مکمل ہوجائے گا جس سے ملاکنڈ اور شمالی علاقہ جات میں سیاحت اور کار وبار کونمایاں فروغ ملے گا ۔

موٹر وے کو مینگورہ تک توسیع دینے کے لیے بھی بات چیت جاری ہے اور جلد معاہدہ ہوجائے گا ۔ سیاحت کے فروغ کے لیے خیبرپختونخوا میں 14 صحت افزا مقامات کا چناؤ کیا گیا ہے جس کے لئے چین اور ایف ڈبلیو او کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدوں پر بات چیت جاری ہے تاکہ صوبے میں سیاحت کی صنعت کوفروغ ملے۔انہوں نے ایف ڈبلیو او کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ وعدے کے مطابق منصوبے کی تکمیل کو یقینی بنائیں ۔

اُنہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جو اپنے وسائل سے سوات موٹر وے اور پشاور ریپڈ بس جیسے میگا پراجیکٹس تعمیر کررہا ہے وفاقی حکومت ہمارا ساتھ دے یا نہ دے ہم اپنا کام جاری رکھیں گے ۔اُنہوں نے کہا کہ سوات موٹر وے ، ہزارہ موٹر وے، گلگت شندور چترال شاہراہ اور پشاور تا ڈی آئی خان ایکسپریس موٹر وے سے پورا صوبہ سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لیے کھل جائے گا جس سے صوبہ ترقی کرے گا اور عوام خوشحال ہوں گے ۔پرویز خٹک نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ صوبے پر قرضوں کا بوجھ نہ پڑے اس لیے ہم بی اوٹی کی بنیاد پر بننے والے منصوبوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے گلیات کے علاقوں نملی میرہ ، کسالہ ،بڑھوتراور دوسرے دور افتادہ دیہات کی تمام سڑکوں کی تعمیر نو کی منظوری دی ہے جن پر سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 50 کروڑ روپے خرچ ہوں گے ۔انہوں نے گلیات ترقیاتی ادارہ اور ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ موسم سرما کی آمد کے پیش نظر گلیات میں برف ہٹانے کے انتظامات کو فوری حتمی شکل دیں ۔

اس مقصد کیلئے درکار مشینری بھی مقررہ مقامات پر پہنچائی جائے ۔وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں رکن صوبائی اسمبلی اورضلعی ترقیاتی مشاورتی کمیٹی ایبٹ آباد کے چیئرمین سردار محمد ادریس سے بات چیت کررہے تھے جنہوں نے وزیراعلیٰ کو علاقے کے بعض مسائل سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ نے موقع پر موجود حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ گلیات میں جاری تمام ترقیاتی سکیموں کی جلد ازجلد تکمیل یقینی بنائیں ۔