بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نظریہ ضرورت ایجاد کرنے والی عدلیہ کا حامی نہیں، نوازشریف

نظریہ ضرورت ایجاد کرنے والی عدلیہ کا حامی نہیں، نوازشریف


 اسلام آباد: سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ نظریہ ضرورت ایجاد کرنے والی عدلیہ کا حامی نہیں اور ملک کا عدالتی نظام درست ہونا چاہیے۔

ایسے وقت میں جب جمہوری پارٹیوں کو اکٹھا ہونا چاہیے زرداری کسی اور کو خوش کررہے ہیں، نواز شریف: فوٹو: فائل

سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمات کیا ہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا، جب سپریم کورٹ کے ججز نے خود یہ بات کہی کہ یہ کرپشن کا کیس نہیں تو سمجھ نہیں آتا کہ پھر ہم پیشیاں کیوں بھگت رہے ہیں۔

نوازشریف نے کہا کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہمارے خلاف کون سے کیسز قائم کیے گئے ہیں اور کیا یہ کرپشن، کک بیکس یا رشوت لینے کے مقدمات ہیں؟، کیا ہمیں اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی ختم ہو رہی ہے، یا اس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ سی پیک سے ملک میں سرمایہ کاری آ رہی ہے اور کراچی میں امن اور معیشت مضبوط ہورہی ہے، کیا جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے کسی اور ملک میں بھی ایسا ہوتا ہے؟۔

نواز شریف نے کہا کہ اس سے پہلے اسٹاک مارکیٹ تاریخ میں کبھی اتنی بلند سطح پر نہیں گئی، ہمارے دور میں ملک میں رکارڈ ترقی ہوئی، زرمبادلہ کے زخائر میں اضافہ ہوا، ہم نے پاکستان کی معیشت کو ٹھیک کیا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کسی کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہورہی اور نہ کوئی این آر او ہورہا ہے، 17 سال سے ٹیکنوکریٹ حکومت کا سن رہا ہوں، عدالتوں میں ہزاروں کیسز زیر التواء ہیں، کبھی نہیں سنا کہ کوئی سپر جج نگرانی کر رہا ہو، توہین عدالت باہر سے نہیں اندر سے بھی ہوتی ہے جب کہ عدالتی نظام درست ہونا چاہیے۔

نوازشریف نے مزید کہا کہ نظریہ ضرورت ایجاد کرنے والی عدلیہ کا حامی نہیں، میں نے آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ کیلئے جدوجہد کی، شریف خاندان میں کوئی اختلاف نہیں، کچھ لوگ باہر سے اختلافات دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں،  ٹکراؤ کی بات ہوتی ہے تو جو ہمیں ٹکر مارتے ہیں انہیں کوئی نہیں پوچھتا، جب بھی مارچ آتا ہے تو مارچ کی افواہیں گرم ہو جاتی ہی۔

مشرف کے ٹرائل سے متعلق سوال پر میاں نوازشریف خاموش رہے اور آصف زرداری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ میرے خلاف گالیاں نہیں نکال رہے بلکہ کسی اور کو خوش کررہے ہیں، ایسے وقت میں تو جمہوری پارٹیوں کو اکٹھا ہونا چاہیے۔