بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / اک ذرا پنج پیر تک

اک ذرا پنج پیر تک


اجتماع گاہ پہنچے اور لوگوں کاایک جم غفیر موجودتھا پورے ملک سے کارکن اورعقیدت مندوں کے قافلے آئے ہوئے تھے ہر زبان بولنے والے موجودتھے جب ہمارا مختصر سا قافلہ پہنچا تو عقیدت مندوں کے جذبات دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے کیونکہ ہم سے آگے آگے میجرعامر اور مولانا محمدطیب جارہے تھے ان کے ساتھ مولانا سمیع الحق‘ مولانا فضل الرحمان خلیل ‘اسد قیصر ‘سلیم صافی ‘ناصر علی سید سمیت پشاور سے آئے ہوئے سہراب احمد خان ‘عبدلاحد بیگ اور حبیب نجار ایڈوکیٹ سمیت کئی دوست بھی تھے اجتماع گاہ میں لوگوں کی حاضری اور خاص طور پر ان کاڈسپلن قابل رشک تھا جب مولانا طیب نے بات شروع کی تو ایسی خاموشی طاری ہوگئی کہ سوئی زمین پر گرتی تو ضرور آوازسنائی دیتی مہمانوں کاتعارف اورانکا شکریہ ادا کرنے کے بعد مولانا طیب نے دین کے نام پرسیاست کرکے ذاتی مفادات سمیٹنے والوں کی زبردست کلاس لی تین روز اجتماع اس تحریک کاتسلسل ہے جو اس خطے میں قرآن فہمی کے سب سے عظیم پرچار ک مولانا محمد طاہر نے شروع کی تھی تین شاگردوں کیساتھ شروع ہونے والی قرآن فہمی کی تحریک پختونوں کی سرزمین پر ایک نئے انقلاب کی بنیاد تھی اور آج کئی عشرے بعدشیخ القرآن مرحوم کی محنت کاثمرہزاروں کارکنوں کے اجتماع کی صورت میں خودہم جیسوں کے سامنے تھا مولانا طیب کیساتھ پہلی ملاقات کوئی زیادہ پرانی نہیں جب انکے اکلوتے فرزندایک حادثہ جانکا ہ کی نذر ہوگئے تھے۔

حیران تھے کہ ان کیساتھ کس طرح بات کی جاسکے گی مگر اس دن انکا حوصلہ دیکھ کر قرون اولیٰ کے وہ بزرگ یادآگئے جو حوصلہ و صبر کے مجسم پہاڑ ہوا کرتے تھے ا سکے بعدسے گاہے بگاہے ان کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں ان کی عالی ظرفی کااندازہ اس امرسے لگایا جاسکتاہے کہ جب اجتماع میں سٹیج پر آنے والے مہمانوں کے نام لے لیکر انکاشکریہ ادا کررہے تھے تو کئی ایک دوستوں کے ساتھ ہمارا نام بھی لینا بھول گئے جس کے بعدپھر احساس ہونے پر اگلے دن فون کرکے دلی معذرت کر کے الٹا ہم کو شرمندہ کرکے رکھ دیا کیونکہ ہم تو خود کو ان سے الگ کبھی نہیں سمجھتے ‘ہفتہ کو ہماری چھٹی کا دن تھا اور پہلے سے کچھ منصوبہ بندی کی ہوئی تھی کئی لوگوں سے ملنا اور کئی جگہوں پرجاناتھا مگر اچانک رات کابلاوا یا د آگیا برادر محتر م میجر عامر نے تاکیدکی تھی کہ ہفتہ کو اجتماع کادوسر ا روز ہے اور آپکی حاضر ی بہت ضروری ہے جس کے بعد پہلے سے طے کئے ہوئے سارے پروگرام ایک طرف رکھنا لازم ہوگیا تھا کیونکہ میجر عامر جیسے مخلص مہربان کا بلاوا اور کسی پاکیز ہ دینی محفل میں شرکت کاموقع ہم کسی صورت نظر انداز نہیں کرسکتے ویسے بھی ہم جیسے دنیاد اروں کے لئے اس قسم کی دینی محافل ہی اب اپنے ایمان کوتازہ رکھنے اور روحانی بالیدگی کے حصول کاایک ذریعہ رہ گئی ہیں صوابی انٹر چینج سے سیدھا ان کی رہائش گاہ پر گئے جہاں اچھی خاصی محفل جمی ہوئی تھی میجر عامر کاخاصا ہے کہ مختلف النظریات لوگوں کو ایک جگہ بٹھا کر خوب خوب محفل سجاتے ہیں۔

حسب روایت بہتر ین مہمان نواز ی کے بعدتمام مہمانوں کو اجتماع گاہ کی طرف لے جایا گیاجہاں کارکنوں کا سمندر امڈآیا معلو م ہورہاتھا یہ محفل دیکھ کر محنت کی عظمت پرایک مرتبہ پھر ایمان تازہ ہوگیا یہی وہ گاؤں تھاجب شیخ القرآن مرحوم نے درس قرآن کی ابتداء کی اور مروجہ بعض رسوم کے خلاف علم بغاوت بلندکیا تو خاندان سمیت تمام علاقہ نے ان کا سماجی مقاطعہ کردیا مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور ڈٹے رہے اور آج انکے شاگرد اورشاگردوں کے شاگردلاکھوں کی تعداد میں پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور وہی گاؤں ہر سال درس قرآن میں آنیوالے ہزاروں اور اجتماع میںآنیوالے لاکھوں افرادکی میزبانی کافریضہ انجام دے رہا ہے اجتماع میں مولانا طیب اور میجر عامر نے فاٹا کے دکھوں کاذکرکرتے ہوئے ان کامداوا کرنے میں اپنے حصے کاکردار اداکر نے کی ایک بار پھر یقین دہانی کرائی اور واضح کیاکہ فاٹا کے لوگوں کو صوبہ کاحصہ بننے سے روکنے کی ہرکوشش ناکام بناد ی جائے گی اس پر اجتماع میں شریک شاہ جی گل آفرید ی نے قبائلی عوام کی طرف سے اظہار تشکر بھی کیا یہ محفل ابھی جاری تھی مگر ہمیں بوجوہ جلدی واپس آناتھا سلئے رخصت لی جس کیوجہ سے شام کی چائے پر جمنے والی محفل میں عدم شرکت کاافسو س رہے گا لیکن یارزندہ صحبت باقی کے مصداق نیساپور میں جلد ہی یہ کمی پوری ہونے کی امیدہے ۔