بریکنگ نیوز
Home / کالم / صحافت: پر خطرراستے

صحافت: پر خطرراستے


پاکستان میں صحافت کبھی بھی آسان نہیں رہی۔ کئی ملکی و غیرملکی صحافی اغوااور قتل ہو چکے ہیں لیکن جس مقصد کیلئے انہوں نے اپنی جان دی‘ وہ بلاخوف پر خطر راستوں پر جاری ہے دو نومبر کے روز فرانسیسی صحافیوں کے قتل کا واقعہ عین اس وقت پیش آیا جب فرانس نائیجریا سے چار مغوی لوگوں کی رہائی کی خوشی منا رہا تھا۔ صحافیوں کے قتل کی خبر فرانس میں جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا‘ ہر طرف سے احتجاج کی صدائیں بلند ہوئیں معاملہ اقوام متحدہ پہنچا اور تمام رکن ممالک نے دو نومبر کے دن کو صحافیوں کے نام سے منسوب کر دیا اور بطور خاص اس عالمی دن کو صحافیوں کے حقوق کو اہمیت دینے کے حوالے سے قانون سازی پر بھی زور دیا گیا اظہاررائے کی آزادی انسان کا بنیادی حق ہے اور تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جب کبھی بھی اظہاررائے کی آزادی پر قدغن لگی‘ تب باقی بنیادی انسانی حقوق بھی تیزی سے پامال ہوئے ہیں جن معاشروں نے اظہاررائے جیسے بنیادی انسانی حقوق کو اہمیت دی ہے وہاں سربراہِ مملکت بھی ایک عام آدمی کو جواب دہ ہوتا ہے اور جن معاشروں نے اظہارِرائے جیسے بنیادی اصولوں کو صلب کیا ہے ان معاشروں کے عوام نہ صرف مضطرب ہیں بلکہ وہ احساسِ کمتری کا شکار بھی ہیں آج کی دنیا میں اظہارِ رائے کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز صحافی ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ جن ممالک میں اظہار رائے پر کوئی پابندی نہیں وہاں بھی ان بنیادی حقوق کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز کی حفاظت کیلئے مناسب اقدامات نہیں کئے جارہے‘ ۔

آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ گزشتہ گیارہ برس میں پوری دنیا میں نوسو سے زیادہ صحافی حضرات کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران قتل کیا جاچکا ہے۔ یہ اعداد و شمار حیران کن ہیں کیونکہ قتل کئے جانے والے صحافیوں میں سے پچانوے فیصد صحافی کسی جنگ یا طوفان کے دوران رپورٹنگ نہیں کر رہے تھے بلکہ انکی موت لوکل خبروں کی رپورٹنگ کے دوران ہوئی ہے‘اس سے بھی افسوسناک اور پریشان کن پہلو یہ ہے کہ اب تک ان قتل ہونے والے صحافیوں میں سے صرف دس فیصد کیسز حل ہوئے ہیں یعنی دس میں سے صرف ایک کے قاتل کو سزا مل سکی ہے‘ یہ ناکامی درحقیقت آزادی رائے کے دشمنوں کو پیغام دے رہی ہے کہ آپ صحافیوں کیساتھ کچھ بھی سلوک کرلیں آپ کیخلاف کوئی بھی ایکشن نہیں لیا جاسکے گا۔ یہ پیغام آزادی رائے کی علم بردار عالمی قوتوں کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کی بات کی جائے تو صحافیوں کو درپیش مشکلات لاتعداد ہیں‘ پاکستان میں سال دوہزار ایک سے لیکر دوہزار سولہ تک ایک سو سے زیادہ صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے جبکہ زخمی‘ اغواء‘ گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنائے جانیوالے صحافیوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ پاکستان کیلئے یہ اعدادو شمار انتہائی تشویشناک ہیں کیونکہ قریب اکیس کروڑ کی آبادی میں صحافیوں کی مجموعی تعداد اٹھارہ سے بیس ہزار ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں لوگ تقسیم ہیں وہاں ہر ذات کے لوگوں کی آزادانہ اظہارِ رائے معتدل معاشرے کے قیام کے لئے ضروری ہے لیکن یہ کام اُس وقت تک ممکن ہو ہی نہیں سکتا جب تک صحافیوں کی حفاظت کو یقینی نہ بنایا جائے۔اقوام متحدہ نے پاکستان کو ایسے پانچ ممالک میں شامل کیا ہے جہاں صحافیوں کیلئے سب سے زیادہ خطرے ہیں پاکستان میں دوہزار نو سے دوہزار چودہ تک قریب ستر صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے‘ اگر اِس کی اوسط نکالی جائے تو یہ ہر ماہ میں ایک صحافی کا قتل بنتا ہے۔ یہ تعداد دنیا کے کسی بھی ملک میں ہونیوالے قتل میں سب سے زیادہ ہے اور شاید یہاں ایسا اسی لئے ہورہا ہے کیونکہ قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے نہ تو کوئی سنجیدگی دکھائی جاتی ہے اور نہ ہی اِس حوالے سے مناسب قانون سازی کی جارہی ہے جبکہ صحافیوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانیوالی تنظیمیں بھی بتدریج اپنی طاقت اور افادیت کھوتی جارہی ہیں‘جو ہر ایک صحافی کیلئے لمحہ فکریہ ہے‘ صحافیوں کے قتل کے علاوہ پاکستان میں گزشتہ دس برس میں ذرائع ابلاغ‘ انکی گاڑیوں اور ورکرز پر کئے گئے حملے بھی قابل مذمت ہیں دوہزار تیرہ میں ایکسپریس نیوز کی عمارت پر دو مرتبہ حملہ کیا گیا جسکے نتیجے میں سات لوگ زخمی ہوئے۔ دوہزار چودہ میں ایکسپریس نیوز کی ہی گاڑی پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں تین لوگ مارے گئے اور میڈیا ہاؤس کی دیگر گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ دوہزار پندرہ میں کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں سماء ٹی وی کی ڈی ایس این جی گاڑی پر حملہ کیا گیا اس کے علاوہ جیو نیوز کی گاڑی پر حملہ بھی رجسٹرڈ ہوا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوا‘ دوہزار چودہ میں اسلام آباد میں مشتعل ہجوم نے پی ٹی وی کی بلڈنگ پر حملہ کرکے وہاں موجود سامان کو نہ صرف نقصان پہنچایا بلکہ چینل کی نشریات بھی بند کردیں۔

اس کے علاوہ دن میڈیا گروپ کے لاہور آفس پر نامعلوم افراد نے کریکر بم سے حملہ کیا دوہزارپندرہ میں کراچی کے علاقے عیسیٰ نگری میں ڈان نیوز کی ڈی ایس این جی وین پر حملہ کیا گیا‘ جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا دوہزارچودہ میں اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دیئے جانے والے دھرنے کے دوران متعدد مرتبہ جیو نیوز کی بلڈنگ پر حملہ کیا گیا جسکے نتیجے میں عمارت کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ان سبھی حقائق کے پیش نظر پوری دنیا بالخصوص پاکستان کو صحافیوں کی حفاظت کیلئے مثبت اقدامات اٹھانیکی ضرورت ہے‘ میری پاکستان کے میڈیا ہاؤسز اور حکومت سے درخواست ہے کہ وہ سب سے پہلے صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے اور پوری دنیا کو ایک ایسا لائحہ عمل تیار کرکے دیں جو صحافیوں کی زندگی بہتر بنانے کے لئے مثال اور اصول بن جائے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: اسلم افضل بٹ۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)