بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہماری ترجیحات

ہماری ترجیحات


قومی ترجیحات متعین کرنے میں ہم من حیث القوم کورے ثابت ہوئے ہیں میڈیا ہو کہ سیاسی رہنما انہوں نے صرف ان باتوں کو اپنا موضوع گفتگو بنالیا ہے کہ جن کا عام آدمی کی زندگی سے شاید اتنا قریبی واسطہ نہیں جتنا ان باتوں کا ہے کہ جن پر وہ بالکل نہیں بول رہے یہ تو خیر ہمیں خبر نہیں کہ وہ یہ سب کچھ دانستہ طور پر کررہے ہیں یا پھر ان کو عام آدمی کے مسائل کا سرے سے ادراک ہی نہیں ہے یہ چند سطور بطور تمہید ہم کو اس لئے رقم کرنی پڑیں کہ ایک نہایت ہی مستند بین الاقوامی سروے کے مطابق پاکستان میں کروڑوں بچے ناکافی یا ناقص غذائیت کا شکار ہیں غربت کی وجہ سے انکے والدین انہیں غذائیت سے بھرپور خوراک نہیں کھلاسکتے مجال ہے کہ کسی ٹیلی ویژن چینل کے کسی اینکر نے اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لئے خصوصی ٹاک شو کا ایک سلسلہ شروع کیا ہو اور حکومت کے متعلقہ محکمے کے وزیر اور بیوروکریٹس کو اس پر بولنے کیلئے مدعو کیا ہو انکو فرصت ہو تو وہ ایسا کریں وہ تو دن رات کرپشن کرپشن پانامہ پانامہ نیب نیب پر اتنے پروگرام کررہے ہیں کہ ا ن کو سن سن کر لوگوں کے کان پک گئے ہیں ناقص غذائیت پر ہم نے تو پارلیمنٹ کے فلور پر بھی کبھی کسی کو تقریر کرتے نہیں سنا اور نہ ہی اس معاملے پر کبھی کسی نے کوئی دھرنا دینے کی بات کی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے ارکان نے کیا کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ چھ ہزار سے لیکر پندرہ ہزار روپے ماہوار اجرت لینے والے کے گھر کا چولہا بھلا کیسے دن میں تین وقت جل سکتا ہے وہ تو بمشکل ایک وقت کا کھانا کھائے گا ۔

یا اپنے بچوں کو کھلا سکے گا گوشت کی شکل تو وہ صرف عید الاضحی کے موقع پر ہی دیکھتا ہے اور وہ بھی اگر اس کے محلے یا گاؤں میں قربانی کرنیوالا کوئی شخص اس پر مہربان ہوجائے خاک بنے گی اسکے بچوں کی صحت‘ یہی وجہ ہے کہ بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اقدام متحدہ کے خوراک کے ادارے نے پاکستان کو بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے کہ جہاں کے بچے بوجہ غربت غذاکی قلت کا بری طرح شکار ہیں اور اس ضمن میں وہ انکی امداد کیلئے مناسب اقدامات اٹھا رہے ہیں کہ جس طرح وہ افریقہ کے قحط زدہ ممالک کی امداد کرتے آئے ہیں کیا یہ ہمارے ارباب بست وکشاد کے لئے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام نہیں ہے میڈیا اور ہمارے اپوزیشن کے رہنما اس معاملے پر شور کیوں نہیں مچاتے اگر وہ اپنے اپنے اخراجات کم کردیں اپنے اللے تللوں سے باز آجائیں اور غیر قانونی اخراجات اور ہر قسم کا صوابدیدی فنڈ ختم کردیں تو شاید کچھ رقم ان لوگوں کی تنخواہ میں شامل کی جاسکے جو پندرہ ہزار روپے تک کی ماہانہ آمدنی میں گزارا کررہے ہیں جب تک اس ملک میں کم سے کم تنخواہ ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر نہ ہوگی اس ملک کا کوئی شخص بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاسکتا غذائیت سے بھرپور خوراک تو کجا؟یہی حال ممکنہ پانی کے بحران کا بھی ہے کیا آپ نے اس مسئلے کی سنگینی پر کسی سیاسی رہنما کو شور مچاتے دیکھا ہے دنیا ہم پر یقیناًہنستی ہوگی کہ یہ کیسا ملک ہے یہ کیسے لوگ ہیں یہ کس قسم کے حکمران ہیں کہ جو اپنا نوے فیصد وقت صرف ان سازشوں میں صرف کردیتے ہیں کہ وہ بہر صورت اقتدار میں رہیں لندن اور دبئی تو وہ اس تواتر سے جاتے ہیں کہ اس رفتار سے اس ملک کا عام آدمی پشاور شہر سے حیات آباد نہیں جاسکتا۔